کیا امریکہ پھر ایران پر حملے کی تیاری کر رہا ہے؟

31

امریکہ کے جنگی بیڑے ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ کے ایرانی پانیوں کے قریب پہنچنے سمیت صدر ٹرمپ کے بیانات نے ان خدشات کو مزید ہوا دی ہے کہ شاید ایک بڑا تصادم شروع ہونے والا ہے۔

ایران میں حالیہ مظاہروں کے بعد اس جنگی بیڑے کی تعیناتی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن اور تہران براہ راست جھڑپ کے کتنے قریب ہیں۔

ایرانی قیادت حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کرنے والی احتجاجی تحریک اور ایک ایسے امریکی صدر کے درمیان پھنسی ہوئی ہے، جنھوں نے اپنے ارادوں کو جان بوجھ کر مبہم رکھا ہے۔

اس سے نہ صرف ایران بلکہ پہلے سے ہی غیر مستحکم خطے میں بے چینی پھیل رہی ہے۔

تہران کا نپا تلا ردعمل

ممکنہ امریکی فوجی حملے کی صورت میں ایران کا ردعمل شاید اس سے قبل واشنگٹن کے ساتھ ہونے والے تصادم جیسا نہ ہو۔

حالیہ برسوں میں تہران نے تاخیر اور محدود جوابی کارروائی کو ترجیح دی۔

گذشتہ برس جون میں ایرانی تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد ایران نے قطر میں موجود امریکی ایئر بیس العدید پر اگلے ہی روز میزائل حملہ کیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران نے پہلے ہی حملے کے بارے میں خبردار کیا تھا جس سے فضائی دفاعی نظام ان میزائلوں کو ناکارہ بنانے میں کامیاب رہا۔ ایران کے اس میزائل حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

اس واقعے کو ایران کی جانب سے ایک بڑی جنگ سے گریز کرنے کے عزم کا اشارہ دینے کی دانستہ کوشش کے طور پر دیکھا گیا تھا۔

کچھ ایسا ہی ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں بھی دیکھا گیا تھا۔ سنہ 2020 میں بغداد ایئرپورٹ کے قریب قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی امریکی حملے میں ہلاک کے بعد ایران نے پانچ روز بعد عراق میں امریکہ کی ایئر بیس عین العسد پر میزائل داغ کر جواب دیا۔ اس حملے سے قبل بھی وارننگ دی گئی تھی۔

اس واقعے میں بھی کوئی امریکی اہلکار نہیں مارا گیا تھا تاہم بعد میں اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

اس حملے کے بعد بھی اس تاثر کو تقویت ملی کہ تہران اشتعال انگیزی کی بجائے کشیدگی کم کرنا چاہتا ہے۔

لیکن اس وقت صورتحال مختلف ہے۔

سنہ 1979 کے بعد پہلی بار ایران کو اندرونی سطح پر شدید بدامنی کا سامنا ہے۔

دسمبر میں شروع ہونے والے احتجاج میں مظاہرین کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن کیا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ہزاروں لوگ مارے گئے، بہت سے زخمی ہیں جبکہ متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔

ایرانی حکام ان ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے بلکہ الزام عائد کرتے ہیں کہ اس بد امنی کے پیچھے ’دہشتگرد گروپس‘ اور اسرائیل کا ہاتھ ہے۔

اگرچہ ایران میں جاری مظاہروں کی شدت میں کمی آئی ہے تاہم یہ ابھی ختم نہیں ہوئے۔

8 اور 9 جنوری کو ایران کی سکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر بڑے شہروں کے کچھ حصوں میں کنٹرول کھو دیا تھا تاہم طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اس کنٹرول کو دوبارہ حاصل کیا گیا۔

ایسا لگتا ہے کہ کنٹرول کھونے کے اس نقصان نے حکام کو پریشان کر دیا۔ اس کے بعد ہونے والے امن کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ مذاکرات کے ذریعے نہیں بلکہ طاقت سے نافذ کیا گیا۔

کیا تہران سمجھوتہ نہیں کر رہا؟

اس پس منظر میں کسی بھی امریکی حملے کی نوعیت اہم بن جاتی ہے۔

محدود پیمانے پر حملے سے واشنگٹن علاقائی جنگ سے گریز کرتے ہوئے فوجی کامیابی کا دعویٰ کر سکتا ہے لیکن اس سے ایرانی حکام کو ملک میں جاری جبر کے ایک نئے دور کا بہانہ بھی مل سکتا ہے۔

اس کے بعد ایران میں نئے کریک ڈاؤن اور سزاؤں کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب اگر امریکہ ایران کے خلاف کوئی سخت کارروائی کرتا ہے تو اس سے ملک میں افراتفری پھیل سکتی ہے۔

نو کروڑ سے زیادہ آبادی والے ملک میں مرکزی حکومت کے اچانک خاتمے سے طویل عرصے تک یہاں عدم استحکام سے پورا خطہ متاثر ہو سکتا ہے اور ان نتائج پر قابو پانے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔

ایران کے پاسداران انقلاب اور مسلح افواج کے سینیئر کمانڈروں نے ملک کی اعلی قیادت کے ساتھ خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کو جنگی کارروائی تصور کیا جائے گا۔

اس طرح کے اعلانات نے ایران کے پڑوسیوں بالخصوص خلیجی ریاستوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ ایرانی ردعمل ان ممالک کو فوری طور پر خطرے میں ڈال دے گا اور یہ تنازعہ ایران اور امریکہ کے علاوہ دیگر ممالک میں پھیلنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

واشنگٹن کو بھی نتائج کا سامنا کرنا ہو گا۔ ٹرمپ نے بارہا ایرانی حکام کو مظاہرین کے خلاف تشدد کے استعمال پر خبردار کیا اور ایرانیوں سے کہا تھا کہ ’مدد آ رہی ہے۔‘

یہ ریمارکس ایران کے اندر بڑے پیمانے پر گردش کر رہے تھے اور مظاہرین کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔

دونوں فریق بڑے پیمانے پر سٹریٹجک تصویر سے بھی واقف ہیں۔

ٹرمپ جانتے ہیں کہ گذشتہ برس ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد ایران فوجی طور پر کمزور ہے اور تہران کو معلوم ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

یہ باہمی آگاہی کچھ حد تک یقین دہانی فراہم کر سکتی ہے لیکن اس سے خطرناک غلط فہمیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں، جس میں ہر فریق ممکنہ طور پر اپنے فائدے کو زیادہ اہم یا اپنے مخالف کے ارادوں کو غلط سمجھتا ہے۔

ٹرمپ کو ایسا نتیجہ درکار ہے جسے وہ اپنی فتح کے طور پر پیش کر سکیں۔

دوسری جانب ایرانی رہنماؤں کے لیے علامتی جوابی کارروائی کا سابقہ ​​ماڈل اب کافی نہیں ہو سکتا۔

ایران پر امریکی حملے میں ممکنہ اہداف کیا ہو سکتے ہیں؟

دفاعی تھنک ٹینک ’رسی‘ میں ملٹری سائنسز کے ڈائریکٹر میتھیو سیول کا کہنا ہے کہ خطے میں اپنی موجودہ فوجی پوزیشن کے ساتھ امریکہ ’شاید ایران میں تقریباً کہیں بھی جا سکتا ہے اور زیر زمین موجود تنصیبات کے علاوہ تقریباً کسی بھی چیز پر حملہ کر سکتا ہے۔‘

تو امریکہ کن اہداف پر حملہ کر سکتا ہے؟

برطانوی حکومت کے ساتھ ایران پالیسی پر کام کرنے والے میتھیو سیول کہتے ہیں کہ امریکہ کے پاس بہت سے آپشن موجود ہیں۔

’پہلا آپشن ایران کی فوجی صلاحیتیں ہو سکتی ہیں، جیسے اس کے بیلسٹک میزائل یا ساحلی میزائل بیٹریاں۔‘

ان پر حملے سے امریکہ ایران کی جوابی کارروائی کی صلاحیت کو کمزور کر سکتا ہے۔

ایران کے پاس اب بھی کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کا ذخیرہ موجود ہے۔ اس سے امریکہ کے خلیجی اتحادی پریشان ہیں اور کچھ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ وہ مزید امریکی حملوں کی حمایت نہیں کریں گے۔

دوسرا آپشن یہ ہو گا کہ ایرانی حکومت کو نشانہ بنایا جائے۔

میتھیو سیول کہتے ہیں کہ ’وہ فوجی طاقت کے مراکز کے پیچھے جا سکتے ہیں، بشمول ایران کے پاسداران انقلاب اور شاید وہ ملیشیا جو مظاہرین کو دبا رہی ہیں۔‘

اگرچہ ایرانی قیادت پر حملہ زیادہ مشکل اور خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

اسرائیل نے گزشتہ سال 12 روزہ جنگ کے دوران سینیئر ایرانی حکام کو نشانہ بنایا تھا لیکن امکان ہے کہ ایران نے اس کے بعد سے سیکورٹی مزید سخت کر دی۔

میتھیو سیول کا کہنا ہے کہ امریکہ ’ممکنہ طور پر سینیئر افراد کو تلاش کر کے ہلاک کر سکتا ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ مجموعی اثر کیا ہو گا۔‘

’ہم اس موجودہ حکومت کی آخری موت کا مشاہدہ کر سکتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسے ختم ہونے میں مہینوں یا سال بھی لگ سکتے ہیں۔‘

اگرچہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ فوجی طاقت استعمال کر سکتے ہیں تاہم وہ ماضی میں یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ وہ کسی طویل تنازعے کی خواہش نہیں رکھتے۔

اب تک ان کی فوجی مداخلت مختصر، تیز اور محدود رہی۔

ٹرمپ نے کسی ایسے سفارتی حل کو بھی مسترد نہیں کیا جس کے تحت ایران کو اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر رضامندی ظاہر کرنا پڑے۔

میتھیو سیول کے مطابق ٹرمپ کو اب اپنی اس خواہش پرغور کرنا ہے کہ وہ ایسے لیڈر کے طور پر نظر آئیں کہ ان کے فیصلے سے کوئی حتمی نتیجہ نکلے۔