بلوچ آزادی پسند رہنما اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ” ٹروتھ سوشل ” پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقبوضہ بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیرِاعلیٰ، اپنے آقاؤں کے مشورے پر، ایک ظالمانہ حراستی قانون نافذ کر چکے ہیں۔
بلوچ رہنماء نے کہا میں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے پرزور اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس جبر کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔
انہوں نے کہا کہ یہ حراستی مراکز نازیوں کے اذیتی کیمپوں کی یاد دلاتے ہیں، اوسطاً روزانہ پانچ افراد کو پاکستان کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں اغوا اور لاپتہ کر دیتی ہیں، بلوچستان میں اس غاصب ریاست کی “مارو اور پھینک دو” پالیسی مزید شدت اختیار کر چکی ہے۔
بلوچ رہنما نے کہا کہ میں اُن بلوچ پارلیمنٹیرینز کو بھی مخاطب کرنا چاہتا ہوں جو عدم تشدد کا دعویٰ کرتے ہیں، اگر واقعہ یہ سچ ہے تو پھر سخت ریاست کے ایسے سفاک اقدامات کے سامنے مکمل خاموشی کیوں ہے؟ ظلم کے وقت خاموش رہنا دراصل شریکِ جرم ہونا ہے۔
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ دنیا کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، لیکن اقوامِ متحدہ اب بھی موجود ہے اور اس پر اخلاقی و قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، میں اقوامِ متحدہ، یورپی یونین، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور عالمی دانشوروں سے اپیل کرتا ہوں کہ بلوچ قوم کی جاری نسل کشی کے خلاف آواز بلند کریں۔
آخر میں بلوچ رہنما نے کہا کہ بلوچ آزادی کی تحریک جائز ہے اور بین الاقوامی قوانین و اصولوں کے مطابق چلائی جا رہی ہے، تاریخ اُنہیں یاد رکھے گی جو ظلم کے خلاف ڈٹے رہے اور اُنہیں بھی جو منہ موڑ کر خاموش رہے۔













































