کوئٹہ: کلی قمبرانی میں فورسز کے چھاپے، دو نوجوان لاپتہ

15

پاکستانی فورسز نے دو افراد کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ بلوچستان کے اضلاع کیچ اور خاران سے پانچ نوجوانوں کی جبری گمشدگی کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد آج ہی کوئٹہ سے مزید دو نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔

کوئٹہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پاکستانی فورسز نے کوئٹہ کے علاقے کلی قمبرانی میں چھاپوں کے دوران دو نوجوانوں عبدالقہار ولد عبدالجبار قمبرانی اور مصور قمبرانی ولد افضل قمبرانی کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

اس سے قبل آج ہی موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے ضلع کیچ کی تحصیل تربت سے مہران بلوچ ولد بیگ محمد جبکہ خاران میں پاکستانی فورسز کے آپریشن کے دوران اویس احمد قمبرانی ولد محبوب قمبرانی، مخفر عابد سیاپاد، منیب سیاپاد اور احمد سیاپاد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فوجی آپریشن کے دوران لوگوں کو حراست میں لئے جانے اور بعد ازاں نامعلوم مقام پر منتقل کئے جانے کے واقعات میں مزید شدت لائی گئی ہے۔

خاران میں گذشتہ دنوں بلوچ آزادی پسندوں کے حملوں کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر آپریشن کا آغاز کردیا گیا تھا جہاں متعدد افراد کے گرفتاریوں کے اطلاعات ملے ہیں۔