کوئٹہ: نسرین کو پاکستانی فورسز نے حب چوکی سے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔لواحقین

80

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیرِ اہتمام قائم احتجاجی کیمپ تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6047ویں روز بھی جاری رہا۔

اس موقع پر مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ انہوں نے جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔

اس دوران جبری لاپتہ نسرین کے لواحقین نے احتجاجی کیمپ میں شرکت کی اور نسرین کی جبری گمشدگی کی تفصیلات وی بی ایم پی کو فراہم کیں۔ لواحقین نے تنظیم کو بتایا کہ نسرین، سکنہ آوران، کو ایف سی، سی ٹی ڈی اور دیگر ملکی اداروں کے اہلکاروں نے نزد دارو خان ہوٹل، حب چوکی سے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔

لواحقین نے بتایا کہ انہوں نے انصاف کے حصول کے لیے متعلقہ تھانے سے نسرین کی جبری گمشدگی کی ایف آئی آر کے اندراج کے لیے متعدد بار رابطہ کیا، تاہم ایس ایچ او نے ایف آئی آر درج نہیں کی۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ تو نسرین کی جبری گمشدگی کی ایف آئی آر درج کی جا رہی ہے اور نہ ہی انتظامیہ کی جانب سے خاندان کو کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، جس کے باعث اہلِ خانہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے لواحقین کو یقین دہانی کرائی کہ تنظیم کی جانب سے نسرین کے کیس کو کمیشن اور صوبائی حکومت کے سامنے اٹھایا جائے گا اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔

نصراللہ بلوچ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ نسرین بلوچ سمیت دیگر بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کا فوری نوٹس لیں۔ اگر بلوچ خواتین پر کوئی الزام ہے تو انہیں منظرِ عام پر لا کر عدالتوں میں پیش کیا جائے، اور اگر وہ بے قصور ہیں تو ان کی فوری رہائی کو یقینی بنا کر ان کے خاندانوں کو طویل اذیت سے نجات دلائی جائے۔