شرکاء نے ماما قدیر بلوچ کی تاریخی جدوجہد کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لاپتہ افراد کی بازیابی کی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیرِ اہتمام بزرگ انسانی حقوق کے کارکن اور تنظیم کے وائس چیئرمین مرحوم ماما قدیر بلوچ کی یاد میں جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں تعزیتی ریفرنس منعقد کیا گیا۔
تعزیتی ریفرنس میں مختلف سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور جبری لاپتہ افراد کے لواحقین نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جبکہ تقریب کی صدارت وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کی۔
ریفرنس میں سیاسی و قبائلی شخصیت حاجی میر لشکری خان رئیسانی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ایڈووکیٹ آغا حسن بلوچ، نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر ڈاکٹر اسحاق، بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی ڈپٹی آرگنائزر لالا وہاب بلوچ، پشتونخوا نیشنل ملی عوامی پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری سلیمان بازئی، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے مرکزی سیکرٹری جنرل مزمل شاہ، پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما زبیر آغا، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری محبت کاکا، بی ایس او پجار کے مرکزی وائس چیئرمین بابل ملک بلوچ، بی ایس او کے زونل صدر کبیر بلوچ، ہزارہ ورکرز فورم کے ضامن چنگیزی، بلوچ وومن فورم کی رکن سلطانہ بلوچ، وومن ڈیموکریٹک فرنٹ بلوچستان کی صدر ایڈووکیٹ فاطمہ خلجی، انقلابی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما کریم پرار سمیت دیگر سیاسی و سماجی شخصیات اور لاپتہ افراد کے لواحقین نے شرکت کی۔
مقررین نے ماما قدیر بلوچ کی طویل، مسلسل اور بے مثال جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ جبری گمشدگیوں کے خلاف مزاحمت کی ایک مضبوط علامت تھے۔
انہوں نے کہا کہ ماما قدیر بلوچ نے پندرہ ہزار دنوں سے زائد عرصے تک بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے، کوئٹہ سے اسلام آباد تک تاریخی لانگ مارچ کیے اور عالمی فورمز پر بلوچ لاپتہ افراد کا مقدمہ پیش کر کے انسانی حقوق کی اس جدوجہد کو ایک عالمی مسئلہ بنایا۔
مقررین کے مطابق شدید ریاستی دباؤ، مشکلات اور ذاتی صدمات کے باوجود ماما قدیر بلوچ نے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا اور آخری سانس تک مظلوموں کی آواز بنے رہے۔
ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ صوبے میں ایک سنگین انسانی بحران موجود ہے، مگر آئینی اور قانونی ادارے متاثرہ عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ تمام جبری لاپتہ افراد کو منظرِ عام پر لا کر انہیں قانون کے مطابق صفائی کا حق دیا جائے، بے گناہوں کو فوری رہا کیا جائے، بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کا خاتمہ کیا جائے، ماورائے عدالت قتل بند کیے جائیں، لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کو درست معلومات فراہم کی جائیں، جبری گمشدگیوں میں ملوث اداروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور اس عمل کے سدباب کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے۔
قرارداد میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیر رہنماؤں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ، گلزادی بلوچ، شاہ جی بلوچ، بیبگر بلوچ سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی باعزت رہائی اور بلوچستان کے مسئلے کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
آخر میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ تمام سیاسی جماعتیں اور طلبہ تنظیمیں باہمی اختلافات بالائے طاق رکھ کر بلوچ قوم اور دیگر محکوم عوام کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ، بالخصوص جبری گمشدگیوں کے خلاف مشترکہ اور منظم جدوجہد کو عملی شکل دیں۔



















































