کوئٹہ: شہر میں حالات بدستور کشیدہ، فورسز نے صحافیوں کو سول ہسپتال جانے سے روک دیا

154

بلوچستان میں صبح شروع ہونے والے حملے تاحال جاری ہیں۔ مختلف شہروں سمیت کوئٹہ میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔

کوئٹہ میں شیخ زید ہسپتال کے علاقے اور بلوچستان یونیورسٹی کے اطراف مسلح افراد نے پولیس اور فورسز کی چوکیوں پر حملے کیے۔

سریاب کے علاقے ہزار گنجی میں بینکوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ خالق شہید پولیس اسٹیشن پر بھی حملہ کیا گیا۔ اس دوران دیگر سرکاری تنصیبات پر بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہیں۔

بعدازاں ان حملوں کا دائرہ ریڈ زون کے قریب ایدھی چوک تک پھیل گیا، جہاں صبح نو بجے ایک زوردار دھماکے کے بعد دوپہر ایک بجے تک فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں۔

دھماکے کے باعث امداد چوک سے جناح روڈ تک کے علاقے میں ہوٹلوں کے شیشے ٹوٹ گئے، جبکہ دکاندار دکانیں بند کر کے چلے گئے۔

سول سیکریٹریٹ میں بھی دفاتر میں کوئی کام نہ ہو سکا، جبکہ ضلع کچہری اور ماتحت عدالتوں میں بھی امور ٹھپ ہو کر رہ گئے۔

اس دوران ریڈ زون کے اطراف کے علاقوں سے وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے صحافیوں کو سول ہسپتال جانے سے بھی روک دیا۔

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ کے مطابق، آپریشن “ہیروف فیز ٹو” کے تحت سرمچاروں نے بلوچستان کے 14 شہروں میں 48 مختلف مقامات پر منظم حملے کیے، جہاں گزشتہ دس گھنٹوں سے سرمچاروں کا مضبوط کنٹرول بدستور قائم ہے۔

ترجمان کے مطابق کوئٹہ، نوشکی، مستونگ، دالبندین، قلات، خاران، پنجگور، گوادر، پسنی، تربت، تمپ، بلیدہ، منگوچر، لسبیلہ، کیچ اور آواران میں دشمن کے عسکری، انتظامی اور سیکیورٹی ڈھانچوں کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا۔

ان کارروائیوں کے دوران قابض پاکستانی فوج، پولیس، خفیہ اداروں اور سی ٹی ڈی کے مجموعی طور پر 84 اہلکار ہلاک، درجنوں زخمی جبکہ 18 اہلکاروں کو زندہ گرفتار کیا گیا ہے، جو اس وقت بلوچ لبریشن آرمی کی تحویل میں ہیں۔

ترجمان کے مطابق سرمچار قابض فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد چوکیوں پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور ان مقامات پر مضبوط پوزیشن برقرار رکھی گئی ہے۔ مختلف شہروں میں دشمن کی نقل و حرکت شدید محدود ہو چکی ہے، جبکہ سرمچاروں نے اہم پوائنٹس پر اپنی موجودگی مستحکم رکھی ہوئی ہے۔