کوئٹہ: حسیبہ قمبرانی کے بھائی کو پاکستانی فورسز نے دوسری بار جبری طور پر لاپتہ کر دیا

119

اطلاعات کے مطابق رات گئے کوئٹہ کے علاقے کلی قمبرانی روڈ میں پاکستانی فورسز نے ایک گھر پر چھاپہ مار کر حسان قمبرانی کو حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔

ذرائع کے مطابق سفید رنگ کی چھوٹی گاڑیوں اور سیاہ رنگ کی ویگو میں سوار ایف سی، سی ٹی ڈی اور ایم آئی کے اہلکاروں نے رات گئے گھر پر چھاپہ مار کر اہلِ خانہ کو ہراساں کرنے کے بعد حسان قمبرانی کو اپنے ساتھ لے گئے۔

واضح رہے کہ حسان قمبرانی کو اس سے قبل بھی 14 فروری 2020 کو کلی قمبرانی سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، جو 15 ماہ طویل اذیت ناک گمشدگی کے بعد 7 مئی 2021 کو بازیاب ہوئے تھے۔ اس کے باوجود آج ایک بار پھر انہیں اسی علاقے سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔

حسان قمبرانی کی بہن حسیبہ قمبرانی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ “میرے بھائی کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے اور ہمیں بتایا جائے کہ اس کا قصور کیا ہے۔ اگر اس پر کوئی الزام ہے تو اسے آئین و قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، نہ کہ اس طرح غیرقانونی طور پر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جائے۔