کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف وی بی ایم پی کا احتجاج جاری، جبری لاپتہ نسرینہ بلوچ کے اہلِ خانہ کی شرکت

58

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام قائم احتجاجی کیمپ تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6041ویں روز بھی جاری رہا۔

اس موقع پر مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

اس دوران جبری لاپتہ نسرینہ بلوچ کے اہلِ خانہ نے بھی احتجاجی کیمپ میں شرکت کی اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ لواحقین نے بتایا کہ نسرینہ بلوچ کو گزشتہ سال 22 نومبر کو ایف سی، سی ٹی ڈی اور دیگر ریاستی اداروں کے اہلکاروں نے زہری گوٹھ، دارو ہوٹل حب چوکی کے قریب ان کے سامنے سے حراست میں لے کر اپنے ساتھ لے گئے۔

انہوں نے کہا کہ انصاف کے حصول کے لیے انہوں نے متعلقہ تھانے سے رجوع کیا، تاہم پولیس نے نسرینہ بلوچ کی جبری گمشدگی کی ایف آئی آر درج نہیں کی اور نہ ہی تاحال نسرینہ کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، جس کے باعث ان کا خاندان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔

نسرینہ بلوچ کے اہلِ خانہ نے مزید کہا کہ احتجاج ریکارڈ کرانے کا مقصد یہی ہے کہ کوئی ان کی فریاد سنے اور ملکی قوانین کے تحت انہیں انصاف کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے بلوچ قوم سمیت تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سے اپیل کی کہ وہ نسرینہ بلوچ سمیت دیگر بلوچ خواتین کی جبری گمشدگی کے خلاف آواز بلند کریں۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ نسرینہ بلوچ سمیت دیگر بلوچ خواتین کی جبری گمشدگی اور انہیں منظرِ عام پر نہ لانا شہریوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلوچ خواتین کی باحفاظت بازیابی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں