کلچرل و اسپورٹس فیسٹیول کے گود تلے سہارہ لیتی ریاستی امیج – للّا بلوچ

2

کلچرل و اسپورٹس فیسٹیول کے گود تلے سہارہ لیتی ریاستی امیج

تحریر: للّا بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

آواران میں تباہ کن زلزلے کے بعد جب امدادی سرگرمیاں شروع ہوئی تھیں تو اس میں بلوچ تحریک سے وابستہ تنظیموں نے امدادی کاموں میں حصہ لیا تھا لیکن دوسری طرف بلوچستان میں جاری انسدادِ بغاوت کے فعال رکن ریاستی افواج امدادی کاموں کو جواز بنا کر نہ صرف آواران میں داخل ہوئی تھیں بلکہ پہلے سے میدان میں موجود بلوچ تنظیموں کو کریک ڈاؤن کا شکار بنا کر بلوچ زمین کے وارثوں کے سامنے اپنی تشدد زدہ امیج کو پوزیٹیو بنانے کی کوشش کرتی رہی۔

حالیہ مثال لے لیجئے، بلوچ یکجہتی کمیٹی جو آج ایک منظم ریاستی بیانیے کا شکار ہے، اس کی مرکزی لیڈرشپ پابندِ سلاسل ہے، اس کا سیاسی پوشاک ان گنت اور بے بنیاد ریاستی الزامات کا سامنا کر رہی ہے۔ وہ آج سے پانچ سال قبل بلوچستان میں نہ صرف انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف ایک منظّم و قابل آواز بن کر ابھرا تھا بلکہ بلوچ عوام کی طبّی سہولیات کے لیے فری میڈیکل کیمپ و سیلاب زدگان کے لیے امدادی سرگرمیوں میں بھی ایک مؤثر کردار ادا کرتا رہا۔

میں یہاں صرف یہ بتانے کی کوشش میں ہوں کہ بلوچستان میں ریاست سالوں سے ایک ایسے بیانیے کی تشکیل و تعمیر میں برسرِ پیکار ہے جس میں بلوچ تحریک سے وابستہ سیاسی ادارے منفی کردار جبکہ ریاستی اداروں کو پوزیٹیو کردار کا مالک بنانا چاہتا ہے لیکن بلوچستان کے زمینی حقائق ہمیشہ اس خود ساختہ بیانیے کو خود بخود دیوار پہ لگاتے رہے ہیں۔ یقین نہ آئے تو بلوچستان میں ریاستی سرگرمیوں کو دیکھ لیجئے۔

ایک طرف ریاستی ادارہ سی ٹی ڈی بلوچستان کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل کھلے عام اعتراف کرتا ہے کہ ریاست بلوچستان میں ”ڈیٹینشن سنٹر“ کی تعمیر میں مصروف ہے لیکن دوسری طرف اسی عمل کو جواز دینے کے لیے ”ریہیبیلیٹیشن سنٹر“ کی تعمیر کا تصور سامنے لاتا ہے بالکل ہو بہو کہ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے شکار لوگوں کی کھوج پہاڑوں میں لگاتا ہے کبھی ان کی اعداد کو ”ڈیڑھ سو“ بتاکر ٹول مٹول سے کام لیتا ہے لیکن اسی زمانے میں ریاستی بیوروکریسی سے وابستہ ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر بڑیچ کے دفتر سے جبراً لاپتہ لوگ بازیاب بھی ہوتے ہیں۔

اس بیچ ایک ایسی مبہم تصویر کو پینٹ کیا گیا ہے جو نہ صرف ریاستی بیانیے کے تصور سے انکاری ہے اور نہ ہی بلوچ بیانیے سے ناطہ توڑتا ہے اور یہی بیانیہ جب عمل میں آتا ہے تو ساتھ ساتھ ایک ایسی مبہم تصور کو جنم دینے کی کوشش کرتا ہے جس کا مقصد بلوچ کی تحریک و بلوچ کو زمینی حقائق سے دستبردار کرے۔

ریاستی فورس ایف سی کی مثال لے لیجئے جو آئے روز بلوچ قوم کے خلاف اجتماعی کریک ڈاؤن، چیک پوسٹ پر تذلیل، سیاسی کارکنوں پر کریک ڈاؤن، عام لوگوں پر سرویلنس و ہراسانی کا معتمد ہے جبکہ دوسری طرف بلوچ نسل کشی میں ملوث ادارہ کبھی جرگہ منعقد کراتا ہے، کبھی اسپورٹس ٹورنامنٹ کا امیری بن کر سامنے آتا ہے، کبھی اسکول، کالج و یونیورسٹی میں بلوچ طلبہ کے سامنے ”امن کا داعی“ بن کر سامنے آتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ بلوچ طلبہ کو جبراً لاپتہ کرنے والے ایف سی کا آئی جی تعلیمی فروغ کے لیے اسکالرشپ کا اعلان بھی کرتا ہے جس کی حالیہ مثال حالیہ دنوں تربت یونیورسٹی کے بیس طلبہ کے لیے اسکالرشپ کا اعلان ہے اور ان امیدواروں میں سے تربت یونیورسٹی کے شعبہ کامرس کا طالب علم فضیل بلوچ بھی شامل ہے جس کو اسکالرشپ تقریب کی پچھلی رات ہوت آباد سے ایف سی نے جبری لاپتہ کیا تھا۔

حالیہ دنوں ڈی سی کیچ ایک ایسی اسپورٹس فیسٹیول کا منتظم ہے جس کو بڑی چالاکی سے ہمہ جہت و کثیر الطبقاتی بنایا گیا ہے۔ فیسٹیول کا مرکزی مقام فٹ بال اسٹڈیم ہے جہاں مقامی میڈیا و آل پارٹیز کی معاونت سے آئے روز نئے اشتہار و کوریج سے مقامی لوگوں کو انگیج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ عین اسی فیسٹیول کے نام سے تربت یونیورسٹی میں انڈور گیمز کھیلے جا رہے ہیں جہاں سرکاری افسران و اساتذہ کو اس کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

تربت کے سرکاری اسکولوں کے طلبہ کو انگیج کرنے کی نیت سے ماڈل اسکول تربت میں اسی فیسٹیول کے کھیل کھیلے جا رہے ہیں جبکہ لڑکیوں کے لیے گرلز ڈگری کالج تربت کو مرکز بنایا گیا ہے جہاں گرلز کالج اور تربت یونیورسٹی سمیت دیگر اداروں کے طالبات کو کھیل میں مشغول کیا جا رہا ہے۔

میں ہرگز کھیل کو موردِ الزام نہیں ٹھہراتا لیکن کھیلوں کے منتظمین کو تنقید سے مبرہ نہیں ہونا چاہیے۔ کیچ میں جاری اسپورٹس فیسٹیول کے منتظمین کیچ میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کے مرکزی کردار ہیں اور یہی لوگ کیچ کو بقول ان کے ”صحت مند کیچ“ بنانے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں؟ اگر مقصد کیچ کو صحت مند بنانے کا ہے تو کیچ منڈ کا صحت مند نوجوان و کرکٹر آدم بلوچ کے قاتل آج تک ریاستی اداروں کے ہاتھ کیوں نہیں لگے۔ صحت مند کیچ کا حصول صحت مند و پرامن سماجی ماحول میں پنہاں ہے،

کیچ سمیت بلوچستان کا ہر نوجوان رات سونے سے چھاپے، دن کی سفر میں زیرِ حراست ہونے کے خوف میں جی رہا ہے تو سوال یہ ہے کہ کچھ روز کا فیسٹیول سیاسی، سماجی و معاشی استحصال کا شکار نوجوان کو تاحیات کیوں کر صحت مند بنا سکتا ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ کیچ سمیت بلوچستان میں اسپورٹس ٹورنامنٹ، سی ایس ایس کلچر ریاستی تشکیل کردہ ردِعمل ایک ایسی نسل کی جنم ہے جو رٹّا بازی و کھیلوں کی ایسی تماشائی ہو جو اپنے اردگرد کے معاملات سے لاتعلق رہے۔ وہ سی ایس ایس کے لیے مطالعے کے بجائے رٹّا لگائے اور نوکرِ شاہی بنے۔ ہمیں یاد رہنا چاہیے کہ برطانیہ کی سی ایس ایس کلچر ہو بہو پاکستان کی میراث میں آیا ہے اور وہی میراث ریاستی اداروں کو ہر سمت توانائی بخش رہا ہے۔

یہی نوکرِ شاہی جبراً لاپتہ افراد کے لواحقین سے جھوٹ کے سہارے مذاکرات کرتے ہیں، ضرورت پڑے تشدد کا استعمال کرتے ہیں اور بوقتِ ضرورت ریاستی پالیسیوں کے فرنٹ مین بن کر اسپورٹس فیسٹیول، لٹریری فیسٹیول و کھلی کچہری منعقد کراتے ہیں۔ یہ اتنے چالاکی و سفاکی سے ایک ایسی بیانیہ کی تعمیر میں مصروف ہیں جو شکل بدل کر عام لوگوں کو دام میں پھنسائے۔

بلوچستان میں ایف سی ایک ایسی تشدد زدہ امیج کا کردار ہے کہ عام لوگ ان کو نفرت کے سوا اور کسی بھی نظر سے نہیں دیکھتے لیکن ایف سی کے منعقد پروگراموں سے لوگوں کی شرکت نہ ہونے کی وجہ سے یہی افسر فرنٹ مین بن کر فیسٹیول و اسپورٹس گالہ منعقد کراتے ہیں جس کی حالیہ مثال کیچ اسپورٹس فیسٹیول اور کچھ ماہ قبل کیچ لٹریری فیسٹیول کا انعقاد تھا۔

یہ منظرنامہ بلوچ سماج کے لیے انتہائی خطرناک ہے کیونکہ یہ ایک ایسی تصور کی تشکیل ہے جس میں عام لوگ مبہم ہو جاتے ہیں۔ مثلاً لوگ ایف سی و دیگر سرکاری اداروں سے ذہنی لاتعلق ہو چکے ہیں لیکن اسی سمے ڈی سی ان کے لیے قابلِ قبول رہتا ہے۔ یہ قبولیت محض کچھ دن کی محنت نہیں بلکہ ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہے اور اسی قبولیت کے لیے ان سب ریاستی اداروں کو پسِ پشت ڈالا جاتا ہے جن سے عوام نفرت کرتے ہیں اور ان سب عوامل کا دفاع کیا جاتا ہے جس کا براہِ راست تعلق عوام سے ہو مثلاً جبری گمشدگیوں و روزمرہ شہری مسائل کا ڈی سی کی طرف سے سنے جانا اور حل کرنے کی یقین دہانی کرانا وغیرہ وغیرہ۔

لیکن میں یہ دعوے کا حق آج بھی محفوظ رکھتا ہوں کہ اس تشدد زدہ سماج میں یہ فارمولا مستقل نہیں رہے گا کیونکہ یہ بیانیہ بلوچ کے زمینی حقائق کا منافی ہے اور جب تک بلوچ تحریکِ آزادی کی تگ و دو میں مصروف رہے گا اس وقت تک یہ ریاست تشدد کا آلہ ہاتھ سے جانے نہیں دے گی اور تشدد زدہ سماج کو اسپورٹس فیسٹیول سے منانا تصوراتی خیال کے سوا اور کچھ نہیں!


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔