کراچی: فورسز کا دو ٹن دھماکہ خیز مواد برآمدگی کا دعویٰ، بی ایل اے سربراہ بشیر زیب پر مقدمہ درج

458

پاکستانی انسداد دہشت گردی پولیس نے کراچی میں ایک بڑی کارروائی کے دوران تقریباً دو ٹن بارودی مواد قبضے میں لے کر تین مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی ایک بڑا حملہ کرنا چاہتی تھی۔

انسدادِ دہشت گردی کے سینئر افسر ذوالفقار علی لاریک اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس غلام اظفر محسر نے پیر کو پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ یہ بارود اور ڈیٹونیٹرز علیحدگی پسند گروپ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے تھے، جو کراچی میں حملوں کے لیے استعمال کیے جانا تھے۔

لاریک نے کہا کہ ایک گاڑی دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی تھی اور حملے کے لیے تیار تھی۔ ان کے مطابق یہ مواد جنوب مغربی صوبے بلوچستان سے کراچی منتقل کیا گیا تھا۔

محسر نے بتایا کہ کراچی میں مارے گئے چھاپے پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مشترکہ آپریشن کا نتیجہ تھے۔ ان کے مطابق ابتدا میں ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا اور اس سے تفتیش کے دوران حاصل معلومات کی بنیاد پر دو دیگر کو پکڑا گیا۔ انہوں نے کہا کہ باقی نیٹ ورک کے ارکان، جو فرار ہو گئے تھے، ان کی گرفتاری کے لیے مزید چھاپے جاری ہیں۔

دھماکا خیز مواد برآمد ہونے کا مقدمہ درج کرلیا گیا اور مقدمہ سی ٹی ڈی میں سرکاری مدعیت میں درج کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ مقدمے میں انسداد دہشت گردی اور ایکسپلوزو ایکٹ کی دفعات شامل کی گئی ہیں اور مقدمے میں بلوچ لبریشن آرمی کے سربراہ بشیر زیب بلوچ اور ساتھیوں کو نامزد کیا گیا ہے۔