کراچی میں اکتوبر 2024 میں ایئرپورٹ سگنل کے قریب چائنیز سرمایہ کاروں و انجینئرز پر خودکش حملے میں فنڈنگ کے کیس میں جیل حکام نے ملزم سعید کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کردیا۔
ضمانت پر رہا شریک ملزم نجی بینک کے منیجر بلال کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا، آج عدالت نے دونوں ملزمان پر فردِ جرم عائد کی تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا۔
عدالت نے کیس کے گواہوں کو 10 جنوری کے لیے نوٹس جاری کردیا ہے۔
اس موقع پر پراسیکیوشن کی جانب سے کہا گیا کہ ملزمان پر خودکش حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی کی خریداری اور ایئر پورٹ بم دھماکا کیس میں دہشت گردوں کی مالی معاونت کا الزام ہے۔
واضح رہے عدالت نے کیس کے مفرور ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا حکم بھی دے رکھا ہے جبکہ کیس میں بلوچ لبریشن آرمی کے سربراہ بشیر زیب بلوچ اور رحمٰن گل کو مفرور قرار دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب سگنل پر چینی انجینئرز اور سرمایہ کاروں کے قافلے کے قریب ایک خودکش حملہ ہوا، جس میں چینی شہریوں سمیت کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے۔ اس حملے کی ذمہ داری بلوچستان کی آزادی کے لیے متحرک تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی۔
بی ایل اے کے مطابق مجید برگیڈ کے فدائی شاہ فہد عرف آفتاب نے بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے اس قافلے کو نشانہ بنایا، جس میں پانچ سے زائد چینی انجینئر اور سرمایہ کار ہلاک اور بارہ سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ ان کی حفاظت پر مامور کم از کم پندرہ پاکستانی فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جن میں پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کے چار سے زائد اعلیٰ سطحی افسران شامل ہیں۔
















































