بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی جانب سے ڈیرہ مراد جمالی میں قائم کیے گئے بلوچستان کتاب کاروان کے تحت لگائے گئے اسٹال پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کتابیں تحویل میں لے لیں، جبکہ اس دوران اسٹال کے منتظم طلباء کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔
طلباء کے مطابق کتاب اسٹال لگنے کے کچھ ہی دیر بعد ایس ایچ او غلام علی کنڑرانی نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور اسٹال پر موجود کتابوں کو اٹھا کر پولیس گاڑی میں ڈال دیا۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مطابق اسٹال پر رکھی گئی تمام کتابیں پاکستان کے رجسٹرڈ اشاعتی اداروں کی شائع کردہ تھیں اور ملک کے مختلف شہروں میں کھلے عام دستیاب ہیں۔
تنظیم نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ کتابیں ملک بھر میں فروخت ہوسکتی ہیں تو پھر بلوچستان میں طلبہ کو تعلیمی سرگرمی کے طور پر کتاب اسٹال لگانے سے کیوں روکا جارہا ہے؟
تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ محض ایک کتاب اسٹال کے خلاف کارروائی نہیں، بلکہ بلوچستان میں تعلیم، شعور اور فکری سرگرمیوں کے خلاف ایک تشویشناک رویے کی عکاسی کرتا ہے، ان کے مطابق اس سے قبل بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تعلیمی و فکری سرگرمیوں کو محدود کرنے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پولیس کارروائی کے دوران نہ صرف کتابیں ضبط کی گئیں بلکہ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے کئی ساتھیوں کو گرفتار کرکے اپنے ہمراہ لے جایا گیا، جبکہ کتابیں خریدنے آئے چند شہریوں کو بھی پولیس نے ہراساں کیا۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اور سول سوسائٹی حلقوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار طلبہ کو فوری طور پر رہا کیا جائے، ضبط شدہ کتابیں واپس کی جائیں، اور بلوچستان میں تعلیمی و فکری سرگرمیوں کو جرم بنانے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ کتاب اور قلم سے خوف رکھنے والی ریاستیں کبھی مضبوط نہیں ہوتیں، جبکہ علم و آگاہی ہی معاشروں کی ترقی کی بنیادی ستون ہوتے ہیں۔


















































