ڈونلڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ پر قبضے کی مخالفت کرنے والے ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی

1

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ ان کے گرین لینڈ کو ضم کرنے کے منصوبے کی مخالفت کرنے والے تمام ممالک پر محصولات (ٹیرف) عائد کریں گے۔

جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں ہونے والی میٹنگ میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جو ممالک گرین لینڈ کے منصوبے کی حمایت نہیں کریں گے وہ ان پر ٹیرف لگا سکتے ہیں۔

تاہم صدر ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کون سے ممالک ہیں جنھیں اس نئے ٹیرف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ وہ ان درآمدی ٹیکسوں کو لاگو کرنے کے لیے کن اختیارات کا استعمال کریں گے۔

خیال رہے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کا نیم خودمختار علاقہ ہے اور اس کی اپنی حکومت موجود ہے۔

ڈنمارک اور گرین لینڈ کے علاوہ کئی دیگر ممالک بھی ٹرمپ کے اس منصوبے کے خلاف ہیں جبکہ امریکہ میں بہت سے لوگوں کو شک ہے کہ ٹرمپ ایسا کچھ کر پائیں گے۔

گرین لینڈ ایک بہت کم آبادی والا لیکن وسائل سے مالا مال علاقہ ہے جو شمالی امریکہ اور آرکٹک کے درمیان واقع ہے۔ یہ اپنے محلِ وقوع کی وجہ سے میزائل حملوں کی صورت میں ابتدائی انتباہی نظام اور خطے میں جہازوں کی نگرانی کے لیے بہترین جگہ ہے۔

پہلے ہی امریکہ کے 100 سے زائد فوجی اہلکار مستقل طور پر اپنے پٹوفک اڈے پر تعینات ہیں۔ یہ گرین لینڈ کے شمال مغربی سرے پر موجود ایک میزائل مانیٹرنگ سٹیشن ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے امریکہ چلا رہا ہے۔

امریکہ اور ڈنمارک کے درمیان موجودہ معاہدوں کے تحت، واشنگٹن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ گرین لینڈ میں جتنے چاہے فوجی بھیج سکتا ہے۔

تاہم ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ممکنہ روسی یا چینی حملوں کے خلاف مناسب طریقے سے دفاع کے لیے اس علاقے کی ’ملکیت‘ امریکہ کے پاس ہونی چاہیے۔

ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ گرین لینڈ پر امریکہ اور ڈنمارک کے درمیان ’بنیادی اختلاف‘ پایا جاتا ہے۔

لارس لوکی راسموسن کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ گرین لینڈ کو ’فتح‘ کرنے پر اصرار کر رہے ہیں جو کہ ’قطعی طور پر ناقابل قبول‘ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے یہ بات بالکل واضح کر دی کہ یہ [ڈنمارک] کے مفاد میں نہیں ہے۔‘