ڈاکٹر منان بلوچ نے ساتھیوں کے ہمراہ بلوچ عوام کی رہنمائی کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ بی ایس او آزاد

5

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے ترجمان شولان بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے شہید ڈاکٹر منان بلوچ اور ان کے ساتھی بابو نوروز، اشرف بلوچ، ساجد جان اور حنیف بلوچ کو ان کے دسوئیں شہادت کی برسی پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ 

ترجمان نے کہا یہ قبضہ گیر ریاستوں کا وطیرہ رہا ہے کہ جب بھی کسی سرزمین پر قبضہ کرکے وہاں بسنے والی قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے اور ان کی شناخت کو ختم کرنے کی خاطر وہاں ظلم و جبر کا بازار گرم کیا تو انہی قوموں کے اندر کچھ عظیم و دلیر فرزندوں نے اس قبضہ گیریت کے خلاف مزاحمت کا راستہ اپنایا اور اپنا سب کچھ اس قوم کے لیے قربان کیا۔ 

اسی فہرست میں ڈاکٹر منان بلوچ اپنے ساتھیوں سمیت شامل ہیں جنہوں نے بلوچستان کی آزادی کی خاطر اپنی زندگی کا ہر لمحہ داؤں پر لگاکر جدوجہد کیا اور اپنی آخری سانس تک اس عظیم مقصد سے جڑے رہیں۔ 

ترجمان کا کہنا تھا شہید منان بلوچ بلوچ قومی آزادی کی تحریک میں وہ عظیم و سرخرو رہنما ہیں جنہوں نے عوام کے اندر رہتے ہوئے عوامی سیاست کی اور بلوچ عوام کو آزادی کی خاطر موبلائز کرتے رہے، وہ ہر وقت بلوچستان میں سفر پر تھا اور بلوچ عوام کے مسائل سن کر ان کی رہنمائی کرتا، وہ سیاسی رہنما ہونے کے ساتھ ایک ڈاکٹر تھا جو اپنے ساتھیوں کی علاج کرنے سمیت بلوچ عوام کی علاج کرنے میں مصروفِ عمل تھا، جو خود میں ایک انقلابی عمل ہے۔ 

عوامی سیاست کو سمجھنے اور اس پر حقیقی بنیادوں پر عمل کرنے میں وہ ہمیشہ صفِ اول پر کھڑا تھا جس سے وہ بطور ایک انقلابی و سیاسی رہنما عوامی سطح پر مقبول تھا۔ 

شولان بلوچ کے مطابق شہید منان و ساتھیوں کے عمل اور جدوجہد سے ہمیں یہی درس ملتی ہے کہ وہ بلوچستان میں عوامی سیاست پر یقین رکھتے تھے اور عوام کے اندر ہی رہ کر سیاست کررہے تھے، جب ان کو بے دردی سے شہید کیا گیا تو اس وقت بھی وہ ساتھیوں کے ہمراہ عوام کے اندر رہ کر ان کی سیاسی رہنمائی کرنے میں مصروف تھا۔

انہوں نے مزید کہا ہم ڈاکٹر منان بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو ان کے شہادت کے دسوئیں برسی کے موقع پر خراجِ عقید پیش کرتے ہیں، بلوچ کارکنان ان ہی کرداروں کو اپنا ہیرو بنا کر ان کا مطالعہ کریں اور ان کی جدوجہد کی پیروئی کریں۔