ڈاکٹر مالک،سرفراز بگٹی اور انسدادِ بغاوت کا سیاسی پہلو – للّا بلوچ

8

ڈاکٹر مالک،سرفراز بگٹی اور انسدادِ بغاوت کا سیاسی پہلو

‎تحریر: للّا بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

‎انسدادِ بغاوت یعنی کاؤنٹر انسرجنسی اپنی فطرت میں تشدد و عدم تشدد کے سانچے میں قید ایک ایسی حکمتِ عملی ہے جس میں مخالف قوت یا کاؤنٹر انسرجنٹ ہر سیکنڈ ایک نئی بھیس میں نمودار ہوتا ہے، مثلاً وہ ہر پل مسخ شدہ لاش گراتا ہے، لوگوں کو جبراً لاپتہ کرتا ہے، تشدد کرتا ہے جبکہ عین اُسی وقت مددگار و ہمدرد بننے کا ناٹک بھی کرتا ہے، عزت و وقار کا علمبردار بن جاتا ہے۔ عام فہم منظر نامے میں اگر اسے پرکھنے کی کوشش کی جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایک طرف ذکری کو کافر قرار دیا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف یہی قوتیں کوہِ مراد کے ذکری زائرین کے لیے مددگار بن جاتے ہیں، زہری میں آزادی پسندوں کو کاؤنٹر کرنے کی نیت سے سرچ آپریشن کیا جاتا ہے، بے گناہوں کی جبری گمشدگی و گھروں کی تقدس کو پامال کیا جاتا ہے جبکہ اُسی آپریشن کے دوران آرمی کا ونگ کمانڈر بچوں کے ساتھ ویڈیو بناکر ان کو محبِ وطنی کا درس دلواتا ہے۔ میں صرف یہ سمجھنے کی کوشش میں ہوں کہ انسدادِ بغاوت سے وابستہ قوت کی حکمت عملی صرف تشدد زدہ امیج کا داعی نہیں رہتا بلکہ وہ مختلف و ہمہ جہت حکمت عملیوں کا نچوڑ بن کر ابھرتا ہے، مثلاً بوقتِ ضرورت آرمی کا استعمال، انٹلیجنس کا استعمال، پولیسنگ، ڈپلومیسی، پروپیگنڈہ وغیرہ وغیرہ۔ یہ صرف بلوچستان کا کیس نہیں بلکہ جہاں کہیں بغاوت و انسدادِ بغاوت رہی ہے تو اس کا پولیٹیکل اپروچ بھی رہا ہے اور یہ اپروچ ایک متوازن حکمت عملی کی طرح کام کرتا ہے اور انسدادِ بغاوت کی ڈپلومیٹک یا پروپیگنڈہ ماڈل کاؤنٹر انسرجنی کے سیاسی اپروچ کے شاہکار حکمت عملیاں ہیں۔

‎ہم اس حکمت عملی کو بلوچ تحریک کے پانچویں فیز سے مشابہت کی رو سے پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سن 2000 کے بعد بلوچ تحریک ایک نئی لہر کے ساتھ ابھری اور ساتھ ہی کاؤنٹر انسرجنٹ اسکی خد و خال، پیمانہ، حکمت عملی، اور جہتوں کی مطالعے میں لگی رہی، سن 2006 سے بی ایل اے،2010 میں پیپلز پارٹی حکومت نے بی ایل ایف اور بی آر اے پر پابندی لگائی اور تحریک کے مسلح محاذ پر ایک گہری نظر رکھی۔ یہ زمانہ تحریکی آب و تاب کا زمانہ تھا کہ اس میں بلوچ تحریک ہمہ جہت قوت کے طور پر کام کر رہی تھی جسکی سیاسی محاذ کے فعال ادارے بی ایم این، بی ایس او آزاد، بی آر پی انتہائی متحرک تھے۔ 2009 میں سیاسی محاذ بھی ایک اعلانیہ کریک ڈاؤن کا شکار ہوا جس میں بی ایس او آزاد کی مرکزی قیادت مثلاً زاکر مجید کو جبراً لاپتہ کیا گیا، بی این ایم کے چئیرمین گلام محمد بلوچ، لالا منیر اور بی آر پی کے مرکزی رکن شیر محمد بلوچ کی مسخ شدہ لاش مرگاپ میں پھینکے گئے۔ یہ ایک ایسی دردناک، وحشت ناک داستانِ تسلسل کی ابتدا تھی جس میں بلوچ کی دانشمند نسل کو جبراً لاپتہ، مسخ شدہ لاشوں و اجتماعی قبروں کے وارث بنایا گیا۔ سفر کے روانی میں 2013 آیا اور بی ایس او آزاد بھی ریاستی پابندی کا شکار ہوا۔ ریاست نے پیچیدہ مطالعے کے بعد سیاسی محاذ کو مسلح محاذ کے برابر کریک ڈاؤن کا شکار بنایا۔ اس کریک ڈاؤن میں تحریک کے سیاسی محاذ زیرِ زمین یا بیرونِ ملک منتقل ہوئے جبکہ مسلح محاذ بھی آپسی لڑائی سمیت ان گنت کمزوریوں کا شکار ہوئے۔ اس دورانیے کو آج بھی بلوچ کِل اینڈ ڈمپ پالیسی کے نام سے یاد کرتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں اس دورانیے میں ریاست نے بلوچستان کے طول و عرض میں ریگولر آرمی و پیرا ملٹری فوج کی منتقلی کی۔ پہاڑی چوٹیوں میں کیمپ بنائے،ٹارچر سیل بنائے اور ابتدائی ادوار میں انسرجنٹ کو عام آبادی سے دور کرنے اور عام آبادی کو انسرجنٹ سے دور کرنے کی نیت سے آئے روز
‎ سرچ آپریشن کیے،انٹرنیٹ سسٹم کی بندش، سرویلنس کیمپوں کا جامع و وسیع نیٹورک کی تشکیل کی۔

‎سن 2013 میں جب بلوچ تحریک کی سیاسی محاذ ریاستی کریک ڈاؤن کا مرکز رہا تو اسی دوران بلوچستان میں ریاستی امیج کو سیاسی نقطہِ نظر میں مؤثر و جاندار بنانے کی نیّت سے ایک ایسی حکومت تشکیل دی گئی جسے ریاستی عوام و ریاستی دانشور سرکل میں ترقی پسند کہا جاتا ہے وہ تھا نیشنل پارٹی کی سرکار اور ڈاکٹر مالک کی حکومت۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ڈاکٹر مالک کو بلوچ کی سیاسی نفسیات پر گہرا مشاہدہ تھا اور اس نے آتے ہی ایک ایسی اپروچ اپنائی جس میں کاؤنٹر انسرجنٹ کی قوت بھی طاقتور رہے جبکہ ساتھ ہی انسرجنٹ بھی کمزور رہے۔

اس دوران جبری گمشدگی،مارو پھینکو پالیسی کے ساتھ بلوچستان میں سیاسی امیج کی ترقی و ترویج پر کام کا آغاز ہوا،نئے ادارے بنائے گئے، خصوصاً تُربَت میں نئی و کشادہ سڑکیں بنائی گئیں،گڈ گورننس کا بیانیہ رچایا گیا اور انسدادِ بغاوت کے تجربات مثلاً سرچ آپریشن، جبری گمشدگی، ہراسمنٹ، سیاسی محاذ پر کریک ڈاؤن سمیت باقی حربے بھی مستقل کیے گئے۔ یہ وہ دور تھا جب ڈاکٹر مالک نے آزادی پسند سوچ کو کمزور کرنے کی نیّت سے انقلابی و فکری لٹریچر کو نشانہ بنایا، کتابوں پر پابندیاں لگائی گئیں، تُربَت میں کتاب کی دکانوں پر چھاپے پڑے اور عطا شاد ڈگری کالج کے بوائز ہاسٹل میں ڈاکٹر مالک نے چھاپے لگوائے، کتاب ضبط کیے اور میڈیا میں اس عمل کو ہائیپ بخشی۔

ایسا نہیں ہے کہ ریاست نے محض ڈاکٹر مالک کے دورِ سرکار میں سافٹ امیج یا کاؤنٹر انسرجنسی کی سیاسی اپروچ کی طرف توجہ مبذول کرائی بلکہ 2010 میں بلوچستان و مرکز میں برسرِ اقتدار پیپلز پارٹی نے آغازِ حقوق بلوچستان کا اعلان کیا، اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو اضافی اختیارات سونپے۔ لیکن 2015 میں اسٹوڈنٹس انگیجمنٹ کے لیے طلبا کے اسٹڈی ٹرپ منعقد کرائے گئے۔ اسی دوران حیران کن حد تک ہزاروں کی تعداد میں جنگجوؤں کے سرنڈر کروانے کا دعوی کیا گیا، ڈاکٹر مالک بے نتیجہ مذاکرات کے لیے ڈائسپورا سے ملنے بیرونِ ملک گئے، انٹرنل ڈپلومیٹک اسٹریٹیجی کو اپناتے ہوئے بی ایس او آزاد کے جبراً لاپتہ چئیرمین زاہد بلوچ کی بازیابی کے لیے کراچی میں منعقد بھوک ہڑتال کیمپ گئے ویڈیو بنوائے اور مذاکرات کی دعوت دی۔

اس سیاسی منظرنامے میں میڈیا میں بلوچستان سے متعلق سینکڑوں ٹاک شوز منعقد کیے گئے، رپورٹ بنوائے گئے اور سنگین انسانی مسئلہ ”لاپتہ افراد“ کی روک تھام کے لیے رائےِ عامہ کو ورغلایا گیا۔ کریک ڈاؤن میں سیاسی ماحول گھٹن زدہ اور ماند پڑتا گیا لیکن ریاستی تشدد متواتر جاری رہی۔ ڈاکٹر مالک کا سورج غروب ہوا، 2017 میں مسلح محاذ ایک بار پھر ابھری اور ایسے ابھری کہ رائے عامہ کو دوبارہ اپنے لپیٹ میں جھکڑتی چلی گئی، دو طرفہ حکمت عملیوں میں شدت و جدت کا سلسلہ شروع ہوا، براس کی تشکیل ہوئی، بی ایل اے کا تنظیمِ نو ہوا، مجید بریگیڈ سمیت نئے ایلیٹ یونٹ کا قیام عمل میں آتا گیا اور اس سفر میں جام کمال نمودار ہوئے۔ 2019 میں دس سال سے قائم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا احتجاجی کیمپ ختم کیا گیا اور دو ماہ میں جبراً لاپتہ افراد کی بازیابی اور کاونٹر انسرجنٹ کی حکمت عملی یعنی جبری گمشدگی کی خاتمے کا اعلان ہوا لیکن یہ تصور سے آگے نہیں بڑھی۔ ویسے اس کو آگے بڑھنا تھا ہی نہیں کیونکہ جب تک کاؤنٹر انسرجنٹ کی وجود کو برقرار رہنا تھا تب تک اس غیر انسانی عمل کو ابدی رہنا لازماً تھا لیکن اس عمل سے میڈیا میں متشدد ریاستی شکل دکھانا مقصود تھا۔

‎بدلتے وقت کے ساتھ کاؤنٹر انسرجنٹ پالیسیز میں جدّت و شدّت لائے گئے، کیمپ اسٹرکچر از سرِ نو تشکیل دیے گئے، چیک پوسٹوں کی انجیئرنگ کرکے ان کو قلعہ نما بنایا گیا، جدید کیمرے انسٹال کیے گئے، نئے فوجی ڈویژن و اسکاؤٹس کا قیام عمل میں لایا گیا ،ایف سی کو نارتھ و ساؤتھ میں بانٹا گیا اور ساتھ ہی ایف سی کی سوشل ورکس پروگرام مثلاً فری میڈیکل کیمپ ، اسکول ، کالج و یونیورسٹیوں تک رسائی سمیت ان کا آپریشنل دائرہ کار وسیع کرکے پبلک پروفائلنگ و ہراسمنٹ سمیت مسلح محاذ سے مقابلہ کرنے کے لیے ڈرون وارفیئر کا اضافہ کیا گیا۔

اس دوران پولیس کی ایلیٹ یونٹ سی ٹی ڈی کی آپریشنل صلاحیتوں و اختیارات میں اضافے بھی شامل ہیں۔ اس دوران مختلف حکمت عملیوں میں رد و بدل بھی آتے گئے جس میں سرچ آپریشن کو انٹلیجنس بیسڈ آپریشن میں تبدیل کرنا اور بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کو نارملائز بنانا شامل ہیں لیکن اس کریک ڈاؤن کے دوران ہی بلوچ کی سرفیس سیاست نے ایک بار پھر نمودار ہونے کی کوشش کی، بی وائی سی کا ظہور ہوا اور 2024 میں بی وائی سی بلوچ سیاسی منظرنامے میں ایک ایسی تپش کے طور پر ابھری جس نے پاکستان کی رائے عامہ سمیت غیر ملکی سفارتخانوں،میڈیا و انسانی حقوق کی اداروں تک رسائی حاصل کی جس میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی یورپی یونین کی سفیر سے ملاقات، ٹائمز میگزین میں سو بااثر افراد کی لسٹ میں اندراج، الجزیرہ میں مضمون لکھنا، نوبل امن انعام کی نامزدگی، اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں سے رابطہ سمیت کراچی بار کونسل و لمز میں تقریر شامل ہیں۔ یہ عوامل بلوچستان میں ریاستی خود ساختہ امیج کو کاؤنٹر کرنے کے لیے اتنے کامیاب ہوئے کہ ریاست نے لیگل چینل کے ذریعے من گھڑت ایف آئی آر، میڈیا میں بی وائی سی کی ساخت کو مشکوک بنانے کے لیے بیانیہ سازی اور خفیہ اداروں کے ذریعے بی وائی سی کے ذمہ داران سمیت انکے خاندان سے وابستہ افراد کو جبراً لاپتہ کرکے بی وائی سی کو دیوار سے لگانے کی منظم کوشش کی۔

‎ اس متشدد ماحول میں سرفراز بگٹی کی قیادت میں کاؤنٹر انسرجنسی کی پولیٹیکل اپروچ کو نئی جدّت دے کر رائے عامہ میں داخل ہونے کی کوشش کی گئی جو ہنوز جاری ہے۔ ڈاکٹر مالک کی کشادہ سڑکوں اور پبلک انفراسٹرکچر کے نقشِ قدم پر چل کر تُربَت و کوئٹہ میں گرین بس، کوئٹہ میں پنک بس کی افتتاح اور اب کوئٹہ میں ٹرین سروس کی اجرا کا منصوبہ بنایا گیا۔ جامعات اور کالجوں میں مختلف موضوعات پر انٹریکٹیو سیشن منعقد کیے گئے، فوجی جرنیلوں کو عوام میں لانا، صحافیوں کے لیے لیپ ٹاپ و ہاؤسنگ اسکیم متعارف کرانا، ایف سی کی جانب سے طلبا کے لیے اسکالرشپ و اسٹڈی ٹرپ کا بندوبست سمیت مقامی پارلیمنٹرین کا آئے روز تعلیمی اداروں کا دورہ شیڈول کروانا، اورماڈہ و پَسِنی جیسے شہروں میں نیوی،آرمی و کوسٹ کارڈ کے ذریعے سوشل ورک سرگرمیوں کا بندوبست کروانا، ضلعی انتظامیہ کا کھلی کچہری کا انعقاد، ایف سی کے عوامی جرگے و آئی جی ایف سی ساؤتھ و نارتھ کا بازاروں کا دورہ، آئی ایس پی آر کے آل بلوچستان نیشنل ورکشاپ جیسے سرگرمیاں شامل ہیں۔

اس دوران بی وائی سی سمیت تحریک سے وابستہ تنظیموں سے متعلق رائے عامہ تبدیل کرنے کے لیے ایف سی ہیڈکواٹرز و جامعات میں سیشن،اجتماعات و کیمپسز میں سروے کے انتظامات کیے گئے۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں کہ تُربَت جیسے شہروں میں اسپورٹس فیسٹیول ، کلچرل فیسٹیول و آرٹ ایگزیشن کا انعقاد کرنا، جامعہ تُربَت کی کنووکیشن میں کمانڈنٹ ایف سی کو اعزازی مہمان بنانا ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسی دوران ایف سی ( کاؤنٹر انسرجنٹ) کے چھاپے، عوامی ہراسمنٹ، انٹلیجنس بیسڈ آپریشن معمول ہیں اور اس کریک ڈاؤن کی فضا میں جامعہ تُربَت ہی کے اساتذہ کی جبری گمشدگی شامل ہیں جس کی شکار بالاچ بالی تو بازیاب کیے گئے لیکن پنجگُور سے جبراً لاپتہ ساجد احمد اب بھی ریاستی گرفت میں ہے اور اب اُسی ساجد کو منظرِ عام پر لاکر بی وائی سی و بی ایل اے کا رکن قرار دیا گیا ہے۔

ایک ہی وقت انسدادِ بغاوت کی مہم میں ایک ایسی بیانیے کی تشکیل و تعمیر میں ریاستی تگ و دو جاری ہے جس میں مسلح محاذ کا مرکزی رکن بی ایل اے و سیاسی محاذ کی سرگرم رکن بی وائی سی کو ایک ہی پلیٹ میں پیش کیا جا سکے۔ یہ عجلت میں نہیں ہوا بلکہ جب بی وائی سی انتہائی سرگرم تھی تو اس وقت سابق نگراں وزیراعظم انوار کاکڑ و موجودہ وزیر اعلی سرفراز بگٹی و وزیر مملکت طلال چودھری سمیت ریاستی مشینری سے وابستہ افراد بی وائی سی کو بی ایل اے کا سافٹ امیج دکھانے و ثابت کرنے میں مصروف رہے ہیں تاکہ بی وائی سی کو کاؤنٹر کرنے کا ریاستی جواز بنایا جاسکے اور رائے عامہ میں بی وائی سی کی کردار کو مشکوک بنایا جا سکے۔ یہ صرف بی وائی سی کے ساتھ نہیں ہو رہا بلکہ ایک دہائی پہلے جب بلوچ سیاسی جماعت بی این ایم پر کریک ڈاؤن کیا گیا تو اسکے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر منان سمیت کئی رہنماؤں کی بی ایل ایف سے وابستگی ثابت کرانے کی کوشش کی گئی اور یہ بیانیہ آج بھی ریاستی دانشوران، اسٹڈی سنٹر اور میڈیا ڈسکورس کا مستقل حصّہ ہے۔ ایک دہائی قبل یہ مشکوک و من گھڑت بیانیے کی ضرورت بھی آج کی طرح تھی کہ کس طرح بی این ایم پر ریاستی کریک ڈاؤن کا جواز بنایا جا سکے۔

‎کاؤنٹر انسرجنسی آج بھی اپنی دونوں پہلوؤں مثلاً متشدد و سیاسی جہت میں رواں ہے۔ جہاں ایک طرف ایڈشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات گزشتہ سال کی انٹلیجنس بیسڈ آپریشن کی اعداد کو قریباً اسّی ہزار میں گِن رہا ہے جبکہ دوسری طرف حمزہ شفقات ایک ایسی پروگرام کی تشکیل کی بات کر رہا ہے جس کا کام جامعات میں ریڈیکل و انقلابی سوچ کی Paradigm کو سمجھنا، ریاست کے ساتھ مل کر اس کو کاؤنٹر کرنا ہے اور اس پروگرام کے مرکزی کردار جامعات میں پی ایچ ڈی پروفیسر ہوں گے جبکہ دوسری طرف جامعات کے طلبا و اساتذہ کے لیے متشدد ریاستی پالیسیز کو بروئے کار لا کر ان کو جبراً لاپتہ کیا جا رہا ہے۔

‎کاؤنٹر انسرجنسی کی پولیٹیکل اپروچ کو اتنا باریک بنایا گیا ہے جہاں ایک طرف سرفراز بگٹی جارحانہ و دھمکی آمیز لہجے میں بلوچ سے مخاطب ہوتا ہے جبکہ دوسری طرف ایک ہی تقریر میں وہ مذاکرات پسند، ہمدرد و بھائی چارے کی روپ دھارتا ہے اور نئی ڈویژن و اضلاع کا قیام سمیت انفراسٹرکچر کی وسعت و ترقی کا دعوی کرتا ہے۔ عین اُسی وقت فوجی اداروں کے اہلکار جبری گمشدگی، نسل کشی، چھاپوں و ہراسمنٹ کے مرتکب پائے جاتے ہیں جبکہ اُسی ادوار فوجی افسران امن جرگے، جامعات و بازاروں کے دورے، عوام سے رابطے بنا کر پبلک ڈپلومیسی کی توسط سے مثبت و ہمدرد امیج بناکر ”اپنے لوگ“ ہونے کا دعوی کرتے ہیں لیکن اس دوران یہ آزادی پسندوں اور ریاستی دہشتگری کو آشکار بنانے والے اداروں کو غیر ملکی عناصر و شرپسند کہنا بھی نہیں بھولتے۔ یہ اپروچ عام فہم میں یہی ہے کہ رائے عامہ میں ایک ایسی امیج کی تشکیل کیا جا سکے جہاں قابض وقت مثبت و قبضہ گیری کے نجات دہندہ منفی امیج کے مالک بن سکیں۔ جاتے جاتے یہ یاد رکھیں کہ یہ اپروچ انسدادِ بغاوت کی عالمی پالیسی ہے کہ رائے عامہ کو آزادی سے دستبردار کیا جا سکے، مبہم کیا جا سکے اور ایک ایسی کیفیت کا جنم ہو جس میں عام عوام قبضہ گیر کی شناخت میں مبہم رہ سکے، وہ ایک ایسی شناخت کے پیروکار رہیں جس میں ریاستی ادارے و ریاستی مشینری کے بابت کثیر الجہتی خیال کا جنم ہو، اس کی عملی شکل یہ ہے کہ بلوچ اگرچہ فوج کی شناخت سے اظہارِ لاتعلق یا مبہم ہے جبکہ عین اُسی وقت ریاستی مشینری کے ورکنگ باڈی بیوروکریسی، دانشوران، میڈیا شخصیات و سیاستدانوں کے بابت مبہم تصور کی مالک ہیں اور کاؤنٹر انسرجنسی کی پولیٹیکل اپروچ کی توسط سے بلوچ رائے عامہ کو مبہم تصور کی گرفت میں جھکڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔