پہاڑوں سے شہروں تک: 2025 میں بلوچ جنگجوؤں کی کاروائیاں؛ بیچیدہ و موثر نئی حکمتِ عملی

320

پہاڑوں سے شہروں تک: 2025 میں بلوچ جنگجوؤں کی کاروائیاں؛ بیچیدہ و موثر نئی حکمتِ عملی

تحریر: باہوٹ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان کے جنگی منظر نامے میں ہر سال نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے، سال 2025 شاید اس منظر نامے میں سب سے شدید نوعیت کی منظر کشی کرنے والی تھی جہاں اس کا آغاز پہلے ہفتے ہی میں ایک شدید نوعیت کے حملے سے ہوا۔ یہ سلسلہ بلا تاخیر دسمبر تک چلا۔ سال بھر پہاڑوں سے لیکر شہروں تک دھماکے، گھات حملے، ناکہ بندیاں، شہروں و قصبوں پر کنٹرول کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئیں۔ ان کاروائیوں سے کیچ سے لیکر کوئٹہ و کوہ سلیمان کے علاقے متاثر رہیں، جھل مگسی جیسے علاقوں میں یہ کاروائیاں میں دیکھنے میں آئی جہاں اس سے پہلے کوئی کاروائیاں شاہد ہی ہوئی ہو جبکہ بلوچ آزادی پسند بلوچستان سے متصل سندھ و پنجاب کے علاقوں میں کاروائیاں کرنے میں کامیاب رہیں۔

پاکستانی فوج کی جانب سے بلوچستان بھر میں فوجی آپریشن کئے گئے جن کی تعداد سرکاری اعداد شمار کے مطابق 78 ہزار پہنچتی ہے، فوج کا انحصار ڈرون حملوں پر رہا جن میں کامیابیاں بھی ملیں تاہم پاکستان فوج تاحال بلوچستان میں ہونے والے ڈرون حملوں کو آفیشلی میڈیا کے سامنے ظاہر نہیں کررہی ہے۔ کئی علاقوں میں توپ خانے و ٹینکوں کو بھی استعمال کیا گیا تاہم پیش قدمی کی کوششوں کے دوران فوج کو بھاری جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا۔

حملوں پر ایک نظر:

بلوچستان کی آزادی کیلئے سب زیادہ متحرک و شدید نوعیت کے حملوں کیلئے پہچان رکھنے والی تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے دو ہزار پچیس کی چار جنوری کو ہی ضلع کیچ کے مرکزی علاقے تربت میں پاکستان فوج کے بسوں کے قافلے کو بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے نشانہ بنایا، یہ حملہ بی ایل اے کی مجید برگیڈ نے سرانجام دیا۔ حملے میں پاکستانی فورسز کو لے جانے والی ایک بس مکمل تباہ ہوگئی جس میں سوار درجنوں اہلکار ہلاک ہوگئے۔

محض چار دن بعد آٹھ جنوری کو بلوچ لبریشن آرمی کی خصوصی دستوں اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ (ایس ٹی او ایس) اور فتح اسکواڈ نے خضدار کے زہری شہر کا کنٹرول حاصل کیا۔ آزادی پسندوں نے پولیس تھانوں، میونسپل کمیٹی، بینکوں اور دیگر سرکاری عمارتوں کو اپنے کنٹرول میں رکھا، شہر میں مورچے اور چیک پوائنٹس قائم کئے اور عوامی اجتماع سے خطاب کیا گیا۔ شہر پر کنٹرول دس گھنٹوں سے زائد جاری رہا اور جنگجو واپس جاتے ہوئے اپنے ہمراہ بھاری تعداد میں سرکاری اسلحہ و گولہ بارود اور گاڑیوں کی لے گئے۔ تنظیم کے مطابق یہ کاروائی ‘آپریشن ہیروف’ کے مشقوں کے تحت کی گئی تھی۔

جنوری کے اواخر میں بی ایل اے کے خصوصی دستے اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ (ایس ٹی او ایس) نے خضدار شہر سے چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر پاکستانی فوج کے اہلکاروں کو لیجانے والی ایک بس کو بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا۔

اس سال کی سب سے بڑی کاروائی بلوچ لبریشن آرمی کی مجید برگیڈ نے مارچ میں “جعفر ایکسپریس ٹرین” کو ہائی جیک کرکے سرانجام دیا۔ یہ کاروائی دنیا کی تاریخی واقعات میں شمار ہوتی ہے جہاں ایک ٹرین کو چار دنوں تک ہائی جیک کیا جائے۔ جعفر ایکسپریس کو اس وقت بولان کے علاقے مشکاف میں ہائی جیک کیا گیا جب اس میں پاکستانی فوج کے دو سو سے زائد اہلکار سفر کر رہے تھے۔

آزادی پسندوں نے خواتین و بچوں سمیت عام افراد کو کاروائی کی آغاز میں میں رہا کرکے دنیا کو ایک مثبت پیغام پہنچانے میں کامیابی حاصل کی جبکہ فورسز اہلکاروں کو اپنی تحویل میں لیکر پاکستانی فوج کے سامنے اپنے مطالبات رکھیں تاہم ماضی کی طرح پاکستان فوج نے بات چیت کی بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح جس کے باعث گرفتار دو سو سے زائد اہلکاروں سمیت جھڑپوں میں مزید دیگر اہلکار ہلاک ہوگئے۔

یہ کاروائی بی ایل اے کی مجید برگیڈ نے “آپریشن درہ بولان” کے دوسرے فیز کے تحت سرانجام دیا جس میں تنظیم کے خصوصی دستوں اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ (ایس ٹی او ایس) اور فتح اسکواڈ سمیت بی ایل اے کی انٹیلی جنس ونگ ‘زراب’ نے خصوصی معاونت فراہم کی۔

بلوچستان میں گذشتہ سال ٹرین سروس بری طرح متاثر رہی، جعفر ایکسپریس ہائی جیک کے بعد اس ٹرین اور ریلوے ٹریکس کو پندرہ سے زائد آئی ای ڈی حملوں میں نشانہ بنایا گیا جس کے باعث مہینوں تک ریلوے سروس متاثر رہی۔ ان حملوں میں سے اکثریت کی ذمہ داری بلوچ ریپبلکن گارڈز نے قبول کی۔

جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کرنے کے محض چار دن بعد نوشکی میں پاکستانی فوج کو لے جانے والی بسوں کے ایک  قافلے کو بی ایل اے مجید برگیڈ اور فتح اسکواڈ نے نشانہ بنایا۔ بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے دھماکے میں پاکستانی فوج کی ایک بس مکمل تباہ ہوگئی جبکہ ایک اور بس میں سوار اہلکاروں کو فتح اسکواڈ کے ارکان نے براہ راست فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔ تنظیم کے مطابق حملے میں 90 کے قریب اہلکار ہلاک کئے گئے۔

بی ایل اے مجید برگیڈ کی جانب سے تیسری بڑی کاروائی کیچ کے علاقے دشت میں ستمبر کے مہینے میں کی گئی جہاں ایک دفعہ پھر پاکستانی فوج کے بسوں کے قافلے کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ کراچی سے گوادر کے بعد تربت کی جانب جا رہے تھے، حملے میں فوج اہلکاروں کو لے جانے والی ایک بس بارود مواد سے بھری گاڑی کے ذریعے نشانہ بن کر تباہ ہوگئی جبکہ دیگر بسوں کو دیگر ‘فدائی’ جنگجوؤں نے نشانہ بنایا۔

ایک اور بڑی کاروائی سال کے اواخر، نومبر میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کی جانب سے کی گئی جس میں تنظیم کی نوتشکیل “سدو آپریشنل بٹالین” کے چھ ‘فدائین’ نے نوکنڈی میں پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ کو نشانہ بناکر اس پر چوبیس گھنٹوں سے زائد کنٹرول حاصل کیا۔

علاقہ ازیں بلوچ آزادی پسندوں نے مختلف قصبوں اور شاہراہوں پر کنٹرول حاصل کیئے جو مختلف دورانئے پر مشتمل رہیں جبکہ فوجی کیمپوں اور پولیس تھانوں و چوکیوں پر کنٹرول حاصل کرکے اسلحہ و گولہ بارود ضبط کرنے کے واقعات بھی سامنے آئیں جبکہ دو سو کے قریب مختلف نوعیت کے دھماکے ہوئے، آئی ای ڈی حملوں میں پاکستانی فوج کے میجر رینک کے چار اعلیٰ افسران سمیت کیپٹن رینک کے افسران ہلاک کئے گئے۔

مستونگ سے لیکر زہری تک بلوچ لبریشن آرمی نے مرکزی و اس سے متصل راستوں پر 16 سولہ سے زائد مقامات پر مہینوں تک ناکہ بندیاں قائم کرکے پاکستانی فوج کی رسد کو مکمل طور پر بند کردیا جبکہ اسی طرح زامران میں بھی تنظیم نے فوجی کیمپوں کی رسد کو مفلوج کردیا۔

قلات و مستونگ میں پاکستانی فوج نے ہفتوں تک طاقت کا استعمال کرکے اپنی رسد بحال کرنے کی کوشش کی تاہم آزادی پسندوں کی جانب سے انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، حملوں میں میجر رینک کے افسران سمیت ایس ایس جی کمانڈوز کو جانی نقصانات اٹھانے پڑیں۔

جنگی حکمت عملی میں تبدیلی و کامیابی:

بلوچ تحریک آزادی گذشتہ پچیس سالوں سے تسلسل کیساتھ جاری ہے تاہم ماضی کے مقابلے اب بلوچ جنگجو اپنی حکمت عملی میں واضح تبدیلی لاچکے ہیں جو آنے والے وقتوں میں اس جنگ کو فیصلہ کن جنگ میں تبدیل کر سکتی ہے۔ گذشتہ آٹھ سال کے دوران “فدائین” حملے، فوجی کیمپوں پر قبضہ، انٹیلی جنس بیسڈ کاروائیاں، مرکزی شاہراہوں اور شہروں و قصبوں پر کنٹرول سمیت آئی ای ڈی کا استعمال ان تبدیلیوں کے نمایاں نقاط ہیں۔

بلوچ آزادی پسندوں کا سب سے مہلک ہتھیار “فدائی” حملے ہیں۔ بی ایل اے کی مجید برگیڈ اب اتنی طاقتور ہوچکی ہے کہ وہ نہ صرف مہینوں بلکہ دنوں میں کئی پر بھی مہلک حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ اس ‘فدائین برگیڈ’ کو بلوچ لبریشن آرمی کی انٹیلی جنس ونگ ‘زراب’ کی معاونت حاصل ہوتی ہے جو کوئٹہ سے لیکر گوادر اور کراچی پاکستان فوج کی نقل و حرکت، اعلیٰ افسران کے ٹھکانوں اور ان کی کیموفلاج گاڑیوں تک کی معلومات رکھتی ہے۔

جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ، تربت، نوشکی اور دشت میں فوجی بسوں کے قافلوں پر بڑی نوعیت کے حملے، مستونگ اور کوئٹہ میں تین میجر رینک کے افسران کی ہلاکت کے پیچھے بھی “زراب” کی خفیہ معلومات کا اہم کردار سمجھا جاتا ہے۔

بلوچستان میں متحرک دوسری بڑی آزادی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کی ‘فدائی’ یونٹ، ‘سدو بٹالین’ کی تشکیل اس جنگ کی شدت میں مزید اضافہ کرے گی۔ بٹالین کی تشکیل یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بلوچ آزادی پسند اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ اس جنگ کو شدید نوعیت کے حملوں کے ذریعے ہی فیصلہ کن جنگ کی جانب لے جایا جاسکتا ہے۔

بلوچ آزادی پسند، بلخصوص بلوچ لبریشن آرمی اب آئی ای ڈی حملوں پر توجہ دے رہی ہے۔ گذشتہ سال اس تنظیم نے پچاس سے زائد آئی ای ڈی حملے کیئے۔ بی ایل اے کی ‘ہکل’ میڈیا پر جاری کیئے جانے والے متعدد ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ان دھماکوں کے نتیجے میں پاکستان فوج کے درجنوں اہلکار ہلاک ہوتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سکیورٹی تجزیہ کار افتخار فردوس کا کہنا تھا کہ شدت پسند گروہ اب نئے قسم کے ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’2021 کے بعد ہم نے امریکی اور نیٹو ہتھیاروں کو ان تنظیموں کے ہاتھ لگتے دیکھا۔ لیکن اب ایسے ہتھیار اور سسٹمز سامنے آ رہے ہیں جو ماضی میں شاذ و نادر ہی شدت پسندوں کے پاس ہوتے تھے۔‘

ان کے مطابق بلوچستان میں شدت پسند اب ایسی آئی ای ڈیز بھی استعمال کر رہے ہیں جو فورسز کے جیمرز کی فریکنسی کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔

افتخار فردوس کہتے ہیں کہ ’اس کی وجہ سے ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں۔ یہ آلات روایتی حفاظتی اقدامات کو ناکام بنا دیتے ہیں، جس کے باعث زیادہ افسران اور فوجی جوان مارے جا رہے ہیں۔‘

بلوچ آزادی پسند اب اس جنگ کو شہروں کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔ گذشتہ ایک سال دوران بی ایل اے نے زہری، منگچر، سوراب، مستونگ اور پنجگور جیسے شہروں پر مختلف اوقات کیلئے کنٹرول حاصل کرکے پاکستانی فورسز کو چیلنج کیا۔ ان کاروائیوں میں نہ صرف ان کی عوامی حمایت میں اضافہ ہوا بلکہ بطور گوریلا ہتھیار اور گولہ بارود کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملی۔

اب آزادی پسند کوئٹہ شہر سے محض چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر ‘دشت’ کے علاقے میں مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی اور دیگر کاروائیاں کرتے ہیں بلکہ کوئٹہ شہر کے اندر ہی پولیس اہلکاروں سے اسلحہ ضبط کرنے کے تین واقعات ہوئے ہیں۔

بلوچستان کے مرکزی شاہراہوں پر آزادی پسندوں کے کنٹرول سے نہ صرف پاکستانی فوج، حکومتی ارکان کو پریشانیوں کا سامنا ہے بلکہ بڑے پیمانے پر معدنیات لیجانے والی گاڑیوں کی نقل و حرکت پر بھی براہ راست اثرات پڑرہے ہیں۔ گذشتہ سال مستونگ میں ایسے واقعات بھی سامنے آئیں کہ ٹرالر مالکان کو براہ راست فوج کرکے ان کی گاڑیوں کی نقل و حرکت بند کردی گئی، جن افراد نے آزادی پسندوں کے ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا ان کی گاڑیوں کو نذرآتش کردیا گیا۔

اختتامیہ

بلوچ آزادی پسندوں کی جنگی حکمت عملی اور پالیسی میں تبدیلی سے بلوچستان میں جنگ کی شدت میں مزید اضافہ ہوگا، روزانہ کی بنیاد پر آزادی پسندوں کے صفوں میں نوجوانوں کی شمولیت و بلخصوص اعلیٰ تعلیمی اداروں سے سند یافتہ نوجوانوں کی شمولیت اس جنگ کا رخ ٹیکنیکل حوالے سے تبدیل کر سکتی ہے جس میں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق خود کو تبدیل کرنا اہم ہے۔

آزادی پسند نہ صرف ادارہ جاتی حوالے سے تنظیم کو مضبوط کرنے کے خواہاں بلکہ وہ اپنے رینکس میں مضبوط اسکواڈز بنانے کی کوششوں میں مصروف عمل دکھائی دیتے ہیں۔ نظم و ضبط لیکر لٹریچر پر توجہ دی جارہی ہے جس سے ان کی کارکردگی پر مثبت اثرات نظر آرہے ہیں۔

گذشتہ سال بلوچ آزادی پسندوں نے کئی مواقع پر بہترین حکمت عملی اپناتے ہوئے اہم کاروائیاں سرانجام دیئے۔ روزانہ کی بنیاد پر مختلف نوعیت کی حملے رپورٹ ہوئیں جو مجموعی طور پر ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ بلوچستان میں میڈیا بلیک آؤٹ کے باوجود پاکستان فوج کو جانی نقصانات کو چھپانے میں ناکام رہی۔

بلوچ آزادی پسندوں کا جانی نقصانات کا بھی سامنا کرنا پڑا، بلا شبہ آنے والے دنوں جنگ میں تیزی آنے سے اس تعداد میں مزید اضافہ ہوگا لیکن آزادی پسندوں کو اس حوالے سے محتاط حکمت عملی اپنانے کی ضرورت درپیش ہیں۔

پاکستان فوج کے سربراہ عاصم منیر نے جنرل مشرف کی طرح مٹھی دکھاکر بلوچوں کی سات نسلوں کو چیلنج کیا لیکن دوسری جانب بلوچستان میں آج پاکستانی فوج بڑی چیلنجز کا سامنا کررہی ہے۔ زہری جیسے قصبے میں پاکستانی فوج نے توپ خانے سے لے کر ٹینکوں کا براہ راست استعمال کیا، بولان میں جیٹ طیاروں نے بمباری کی جبکہ ڈرون حملے بلوچستان بھر میں رپورٹ ہوئے ہیں، یہ سب کچھ ظاہر کرتی ہے کہ بلوچستان میں اب کوئی سطحی جنگ نہیں چل رہی بلکہ یہاں مکمل جنگ کا آغاز ہوچکا ہے۔