پنجگور میں طالب علم زوہیب احمد کو جبری گمشدگی کے بعد ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا۔ بی وائی سی

10

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ پنجگور سے تعلق رکھنے والے گریجویٹ طالب علم اور جزوقتی دکاندار زوہیب احمد ولد محمد اعظم کو ریاستی سرپرستی میں سرگرم مسلح ڈیتھ اسکواڈز نے پہلے جبری طور پر لاپتہ کیا اور بعد ازاں بے دردی سے ماورائے عدالت قتل کر دیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق زوہیب احمد 13 جنوری 2026 کو وشبود میں میونسپل کمیٹی کے دفتر میں ایک انٹرویو کے لیے موجود تھے کہ اسی دوران ایک سفید رنگ کی ٹویوٹا کرولا میں سوار نقاب پوش مسلح افراد دفتر کے احاطے میں داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں گیٹ کیپر محمد عالم زخمی ہو گیا۔

ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے زوہیب احمد کو دفتر کے اندر گھسیٹ کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں انہیں زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ 14 جنوری 2026 کو زوہیب احمد کی مسخ شدہ لاش پنجگور کے علاقے بونستان سے برآمد ہوئی، جس پر گولیوں کے متعدد نشانات اور بدترین تشدد کے واضح آثار موجود تھے۔

بیان میں کہا ہے کہ بھاری سیکیورٹی نفری کی موجودگی کے باوجود، ریاستی سرپرستی میں سرگرم مسلح ملیشیائیں بلوچستان بھر میں کھلے عام کارروائیاں کر رہی ہیں اور بلوچ شہریوں کو جبری گمشدگی اور ماورائے عدالت قتل کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ زوہیب احمد کا قتل بلوچستان میں جاری ریاستی تشدد، استثنیٰ اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تسلسل کی ایک اور واضح مثال ہے۔

انسانی حقوق کے حلقوں نے زوہیب احمد کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر بے نقاب کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے سلسلے کا خاتمہ کیا جائے۔