پاکستان: انسانی حقوق کے وکلاء ایمان مزاری اور ہادی علی کی گرفتاری پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کا شدید اظہارِ تشویش

6

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انسانی حقوق کی وکلاء ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی آج ہونے والی گرفتاری پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق، یہ گرفتاری پاکستانی حکام کی جانب سے انسانی حقوق کے کارکنوں اور وکلاء کے خلاف جاری عدالتی ہراسانی اور دباؤ میں خطرناک اضافہ ہے۔

اطلاعات کے مطابق، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک عدالتی سماعت میں پیش ہونے کے لیے جا رہے تھے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے گرفتاری کے دوران غیر ضروری اور حد سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا۔ گرفتاری کے وقت کوئی واضح وجہ یا قانونی جواز بھی فراہم نہیں کیا گیا، جس سے دونوں وکلاء کی سلامتی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل گرفتاری کے طریقۂ کار، قانونی عمل کی کھلی خلاف ورزی اور حکام کی جانب سے جھوٹے، من گھڑت اور انتقامی مقدمات کے مسلسل استعمال پر سخت تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ یہ مقدمات واضح طور پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ان کے انسانی حقوق کے کام اور اختلافِ رائے کی سزا دینے کی کوشش ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، انسانی حقوق کے محافظین کو ہراساں کرنے اور ڈرانے دھمکانے کا یہ جانا پہچانا طریقۂ کار فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل پاکستانی حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے، ان کے خلاف انسانی حقوق کے دفاع کے سبب قائم کیے گئے تمام الزامات واپس لیے جائیں، انسانی حقوق کے وکلاء اور کارکنوں کو بغیر خوف و دباؤ کے اپنا کام کرنے کی اجازت دی جائے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔