پاکستان افغانستان سرحد کی بندش: پنجاب کو ماہانہ 80 ارب روپے سے زائد نقصان

119

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی گزرگاہوں کی مسلسل بندش کے باعث پنجاب کو ماہانہ 80 ارب روپے سے زائد کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

ایوانِ صنعت و تجارت لاہور کے صدر فہیم الرحمان سہگل کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی گزرگاہوں کی مسلسل بندش کے باعث پنجاب کو ماہانہ 80 ارب روپے سے زائد کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ سیمنٹ اور زرعی ادویات کی صنعتیں سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔

فہیم سہگل کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی راستے مکمل طور پر بند کر دیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں دوطرفہ تجارت تقریباً معطل ہو چکی ہے۔ اس صورتِ حال نے نہ صرف دونوں ممالک کی معیشتوں کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ سرحد کے دونوں جانب ہزاروں تاجروں کا روزگار بھی داؤ پر لگ گیا ہے۔

چیمبر ذرائع کے مطابق اندازاً دونوں جانب تقریباً 3 ہزار تاجر پھنسے ہوئے ہیں، جن میں 1200 پاکستانی اور 1800 افغان تاجر شامل ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ افغانستان سے پاکستان آنے والے تازہ پھل، خشک میوہ جات اور دیگر اشیائے خورونوش سرحد پر کھڑے ٹرکوں میں خراب ہو رہی ہیں، جس سے تاجروں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔

دوسری جانب پاکستان سے سبزیاں، زرعی مصنوعات، تعمیراتی میٹریل اور ادویات افغانستان نہیں بھیجی جا سکیں، جس کے باعث برآمدی شعبہ شدید دباؤ میں ہے۔ ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان درآمدات و برآمدات کی بندش نے نہ صرف قومی معیشت کو متاثر کیا ہے بلکہ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس سے وابستہ افراد بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

لاہور چیمبر کے صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی زرعی اور صنعتی برآمدات کا بڑا انحصار افغان سرحد پر ہے، کیونکہ یہی راستہ وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی کا اہم ذریعہ ہے۔ ’’تجارتی سرگرمیوں کی بندش سے ملکی معیشت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، دونوں ممالک میں آمدن کم اور مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے عوام اور سرمایہ کار شدید بے چینی کا شکار ہیں۔

فہیم سہگل نے زور دیا کہ پاکستان کی برآمدات کا زیادہ تر دارومدار ہمسایہ ممالک پر ہے، جہاں پاکستان درآمدات کم اور برآمدات زیادہ کرتا ہے، جن کا سالانہ حجم تقریباً 2.5 ارب ڈالر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان ٹیکسٹائل، ادویات اور تعمیراتی سامان خطے کے ان ممالک کو برآمد کرتا ہے۔

انہوں نے افغانستان پر زور دیا کہ وہ تجارتی تعلقات کی بحالی کے لیے پیش قدمی کرے، یہ یاد دلاتے ہوئے کہ پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں سے لاکھوں افغان شہریوں کی میزبانی کی ہے۔ فہیم سہگل نے عالمی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے کئی خطوں میں کشیدگی اور تنازعات کے باوجود تجارت بند نہیں ہوتی۔ ’’چین اور تائیوان کے درمیان کشیدہ حالات کے باوجود دوطرفہ تجارت اور پروازیں جاری ہیں۔

لاہور چیمبر کے صدر نے شکایت کی کہ موجودہ بحران کے دوران حکومت یا فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے تاجروں کو کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کوئٹہ چیمبر کے تاجروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ افغانستان کو برآمد ہونے والا آلو گاڑیوں میں پڑا خراب ہو گیا، جبکہ ٹرانسپورٹ کا شعبہ بھی شدید مالی بحران سے دوچار ہے۔

فہیم الرحمان سہگل نے دونوں ممالک کی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ فوری بات چیت کے ذریعے سرحدی تجارت بحال کریں، تاکہ بڑھتے ہوئے معاشی نقصان کو روکا جا سکے اور خطے میں تجارتی و معاشی استحکام ممکن بنایا جا سکے۔