بلوچ نیشنل موومنٹ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہےکہ پارٹی نے ہفتے کے روز 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ، لندن کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس احتجاج کا مقصد بلوچستان میں بگڑتی ہوئی انسانی حقوق کی صورتحال، بالخصوص پاکستانی فوج کی جانب سے بلوچ خواتین، بچوں اور بچیوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنانے کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔
مظاہرین نے برطانوی وزیرِاعظم کی رہائش گاہ کے قریب جمع ہو کر انصاف، جوابدہی اور عالمی مداخلت کے حق میں نعرے لگائے۔ بی این ایم کے مطابق یہ اقدامات بلوچستان کے تنازعے میں ایک ’’نئی اخلاقی پستی‘‘ کی عکاسی کرتے ہیں۔
مظاہرین نے کہا کہ خطے میں جبری گمشدگیوں اور اجتماعی سزا کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
مظاہرے کے دوران ماہ جبین بلوچ، نسرینہ بلوچ، فرزانہ بلوچ، ھانی بلوچ اور ھیرنسا کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا گیا، جنھیں پاکستانی فوج نے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر رکھا ہے۔ مقررین نے اس عمل کو بلوچ تحریکِ آزادی کو کچلنے کے لیے ریاست کی جانب سے اختیار کیا جانے والا ایک بدترین ہتھکنڈا قرار دیا۔
مقررین نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی قیادت کی غیرقانونی گرفتاریوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پرامن انسانی حقوق کے کارکنان کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کر کے انھیں غیرقانونی حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں جیلوں میں منتقل کیا گیا۔ ریاستی ادارے طاقت کے ناجائز استعمال کے ذریعے عدالتوں سے ضمانت ملنے کے باوجود انھیں بے بنیاد مقدمات میں الجھا کر قید رکھے ہوئے ہیں۔
بی وائی سی کے قائدین ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ، گل زادی بلوچ، بیبگر بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف عوامی تحریک کی قیادت کر رہے ہیں، مگر ان کی آواز سننے کے بجائے ریاست نے انھیں جھوٹے الزامات کے تحت گرفتار کر رکھا ہے۔ دورانِ حراست ریاستی سرپرستی میں سوشل میڈیا پر ان کے خلاف منظم میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے، جبکہ بلوچ خواتین کے خلاف نازیبا اور اخلاق باختہ مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔
بی این ایم کے رہنماؤں نے کہا کہ یہ تمام افراد غیرقانونی حراست میں ہیں۔
احتجاج سے خطاب کرنے والوں میں بی این ایم کے مرکزی قائدین، یو کے چیپٹر کے عہدیداران اور دیگر کارکن شامل تھے۔ انھوں نے ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان پر دباؤ بڑھائیں اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیقات کریں۔
مقررین نے پاکستانی ریاست کے بلوچستان پر دعوے اور پاکستان کی پارلیمنٹ کی حقیقی کردار کی یاد دہانی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ بلوچ قوم کی نمائندگی کی اہل نہیں، بلکہ وہاں صرف پنجابی قوم کی بالادستی قائم ہے۔ بلوچستان ایک مقبوضہ خطہ ہے، جس پر نوآبادیاتی طرز پر پنجابی فوج کا قبضہ ہے۔ بلوچستان میں قائم کٹھ پتلی حکومت نمائشی سے بھی بدتر ہے، جس کے نام نہاد وزراء اور نمائندگان کی عوام میں نہ کوئی ساکھ ہے اور نہ ہی انھیں کسی سطح پر اہمیت حاصل ہے۔ اس لیے پاکستانی نظام کے اندر رہتے ہوئے بلوچ عوام پر ہونے والے مظالم کے خاتمے کی کوئی امید نہیں۔
بی این ایم نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ’’سفارتی خاموشی‘‘ ترک کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف عملی اقدامات کرے۔ تنظیم نے تمام جبری لاپتہ افراد کی فوری اور محفوظ بازیابی، بلوچستان میں ریاستی تشدد پر بین الاقوامی پابندیاں عائد کرنے، اور بلوچ عوام کے خلاف ہونے والے منظم جنگی جرائم کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔



















































