نیا سال، نئی تکلیفیں یا نئی مزاحمت
تحریر: ڈاکٹر صبیحہ بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
نئے سال کا آغاز ہو چکا تھا مگر کیفیت وہی تھی جو پچھلے سال کی رہی۔ رات بارہ بجے، جس طرح کا سال گزرا، اسی کیفیت میں یہ لمحہ بھی گزر رہا تھا۔ نہ وقت سے کوئی آشنائی تھی، نہ دن اور پہر کی کوئی پہچان۔ معلوم نہیں آج کون سا دن ہے، کون سا وقت ہے۔ بس جو حالات ہیں، انہی میں زندہ ہیں، اور انہی حالات کے بطن سے جنم لینے والے ممکنہ دنوں کے لیے خود کو تیار کر رہے ہیں۔
اسی اثنا میں اچانک گلی میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دی۔ ایک لمحے کو یوں لگا جیسے فائرنگ ہو رہی ہو۔ دل چھونک گیا اور بے ساختہ منہ سے نکلا کہ ’’یا اللہ خیر، گلی میں فائرنگ ہو رہی ہے۔‘‘ ساتھ بیٹھے ساتھی نے اطمینان سے بتایا کہ یہ پٹاخوں کی آواز ہے، نیا سال شروع ہو چکا ہے۔ میں ہنس پڑی اور کہا کہ اوہ، 2026 شروع ہوچکی ہے مگر اس ہنسی کے ساتھ ہی ذہن اچانک پیچھے کی طرف مڑ گیا، پورے 2025 کی طرف۔
یہ پورا سال عجیب تھا۔ ایسا سال جس میں زندگی کے وہ مناظر دیکھنے پڑے جن کے بارے میں شاید کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ یہ درست ہے کہ جب مزاحمتی سیاست کا انتخاب کیا تو یہ اندازہ ضرور تھا کہ تکالیف آئیں گی مگر اس شدت، اس تسلسل اور اس بے رحمی کا اندازہ نہیں تھا۔ سال کی ابتداء مزاحمت کے ایک عظیم باب سے ہوئی؛ بلوچ نسل کشی کے خلاف دالبندین کے عظیم الشان جلسے سے۔ مگر اس کے بعد حالات مسلسل بد سے بدتر ہوتے چلے گئے، اور ہر گزرتے مہینے نے جبر کی ایک نئی صورت سامنے رکھی۔
مسخ شدہ لاشیں، فیک انکاؤنٹرز میں قتل کیے گئے نوجوان، اندھیرے میں دفنائے گئے جسم، پُرامن مظاہرین پر گولیوں کی بوچھاڑ، خون میں لت پت نوجوانوں کو رکشوں میں ڈال کر اسپتال پہنچانا، مسلسل گرفتاریاں، چھاپے، جھوٹے الزامات، والد کی جبری گمشدگی، روپوشی اور ریاستی جبر کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ۔ ایک پورا سال، بغیر کسی جرم کے ہمارے ساتھی زندانوں میں قید رہے، ہماری اجتماعی آواز پابندِ سلاسل رہی، لکھنے اور بولنے پر پابندیاں رہیں۔ ایک پورا سال، ہمارے اپنے جبری گمشدہ رہیں۔
ایک ایک کرکے ساتھیوں کو جبری گمشدہ کیا جاتا رہا، جبری گمشدگی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی مسخ شدہ لاشیں ملتی رہیں، ڈرون حملوں کی خبریں معمول بن گئیں، فیک انکاؤنٹرز کا سلسلہ جاری رہا۔ ڈرون حملوں میں سرکٹی بلوچ خواتین کی لاشیں، قطار میں رکھی بچوں کی لاشیں، زہری میں ہنستے بستے گھروں کو کھنڈر بنتے دیکھنا، آواران میں ایک پورے خاندان کو ایک ایک کرکے لاشوں میں بدلتے دیکھنا، راڑاشم اور رکھنی میں باری باری لاشیں گرتے دیکھنا، مکران میں ٹارگٹ کلنگ، جبری گمشدگیاں اور گرفتاریاں، یہ سب جبر کے اس نہ رکنے والے سلسلے کی کڑیاں تھیں جو پورے سال پر محیط رہا۔
یہ غلامی کا ایک اور گزرتا ہوا سال تھا۔ غلامی ایک ایسی بیماری ہے جس کی مدافعت ممکن نہیں۔ اس کا علاج ناگزیر ہے، اور بغیر علاج اس سے نجات ناممکن۔ جتنی دیر یہ برقرار رہتی ہے، اتنا ہی یہ معاشرے کو دیمک کی طرح کھوکھلا کر دیتی ہے۔ غلامی کا ہر سال پچھلے سال سے زیادہ وحشتناک، زیادہ اذیت ناک اور زیادہ سفاک ہوتا ہے۔
اس گزرتے سال میں، جہاں پہلے سے جبری گمشدہ افراد کے انتظار میں ایک اور سال کا اضافہ ہوا، وہیں اس فہرست میں مزید نام بھی شامل ہوگئے اور ان میں خواتین کی بڑی تعداد بھی تھی۔ ایک پولیو زدہ خاتون، ایک آٹھ ماہ کی حاملہ ماں، سترہ سال کی کم عمر بچیاں۔ اگر ان کہانیوں کو پورے طور پر لکھا جائے تو شاید کوئی کمزور دل انسان انہیں پڑھ نہ سکے، اور شاید انہیں لکھتے ہوئے خود ہمارے آنسو خشک نہ رہ سکیں، ہماری سسکیاں ہمارے گلے میں اٹک جائیں۔
اس سال کو لکھنے کی کوشش کے ساتھ یہ احساس اور گہرا ہو جاتا ہے کہ یہ محض ایک کیلنڈر کا سال نہیں تھا۔ یہ غلامی کا ایک سال تھا، اور غلامی کے سال ایسے ہی ہوتے ہیں، بلکہ اس سے بھی بدتر۔ پھر سوال ابھرتا ہے کہ کیا یہ گزرتا وقت صرف افسردہ ہونے کے لیے ہے؟ کیا یہ سال محض اذیت ناک لمحوں کو گننے کے لیے ہوتے ہیں؟ کیا اس پورے سال میں خوش ہونے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا؟
اگر کچھ تھا تو وہ مزاحمت تھی، ٹوٹنے اور مٹنے سے انکار۔ ان لوگوں کی فکر اور عمل جنہوں نے اجتماعی زندگی کو زندہ رکھنے کے لیے وقت سے پہلے تکلیفیں مول لیں، درد سہے، بے گھر ہوئے، زندانوں کا سامنا کیا، اور اپنی ذاتی خوشیاں قربان کیں، محض اجتماعی زندگی کے لیے، ہم سب کے لیے۔ طویل جدوجہد ایک خوبصورت لفظ ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے طویل جدوجہد کی، وہ آخرکار خوشحال ہوئیں اور بہتر مستقبل کی طرف بڑھیں۔
مگر اصول واضح ہے: جدوجہد طویل ہوسکتی ہے، غلامی نہیں۔ کبھی کبھی اردگرد کے حالات دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ ہم بامعنی طویل جدوجہد کے بجائے محض طویل غلامی کے سال گزار رہے ہیں۔ میں انکار نہیں کرتی ان افراد کی جدوجہد سے جو برسوں سے مسلسل لڑ رہے ہیں، مگر میں انکار کرتی ہوں ان لوگوں کی بے حسی سے جن کے پاس تعلیم تو ہے مگر شعور نہیں، جو جانتے ہیں کہ وہ غلام ہیں، جانتے ہیں کہ لوگ غائب کیے جا رہے ہیں، مگر پھر بھی سوچنے اور عمل کرنے سے انکاری ہیں، اور اپنی بے حسی میں مطمئن ہیں۔
ایسے لوگ طویل جدوجہد کا حصہ نہیں ہوتے، وہ طویل غلامی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ غلامی کے دور میں اگر گزرتا وقت فکر اور عمل کے لیے وقف نہ ہو تو وہ سال محض زنگ آلود ہونے کا مطلب رکھتا ہے۔ ایک طویل جدوجہد کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید پختہ ہوں، اپنے مسائل کو بہتر طور پر سمجھیں، اور ان سے مقابلہ کرنے کے لیے خود کو ذہنی، فکری اور عملی طور پر تیار کریں۔
مجھے حیرت ہوتی ہے جب ہم منشیات کو غلامی کا تحفہ کہتے ہیں، مگر پھر انہی باشعور اور خوبصورت نوجوانوں کو اس لت کا شکار دیکھتے ہیں، جو اسے شخصی آزادی یا ذہنی سکون کا نام دے کر قبول کر لیتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ وہ غلامی کے سالوں میں زندہ ہیں، اور ان کا حقیقی وجود جدوجہد اور آزادی کے لیے ہے۔ یہ لت ان سے ان کی خودی چھین رہی ہے، ان کی قوت کو کمزور کر رہی ہے، اور انہیں بے عمل بنا رہی ہے۔
اسی طرح مجھے حیرت ہوتی ہے ان لوگوں پر جو نیوٹرل ہونے کے نام پر مظلوم کی جدوجہد کو جذباتی، پرتشدد یا غیر ضروری قرار دیتے ہیں۔ ہم اجتماعیت، تحریک اور جدوجہد جیسے خوبصورت الفاظ تو استعمال کرتے ہیں، مگر جب عمل کا وقت آتا ہے تو انتظار کرتے ہیں کہ ہم سے پہلے کوئی اور قدم اٹھائے۔ مسئلہ ہو تو اپنوں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں، مشکلات بڑھیں تو کنارہ کش ہو جاتے ہیں، اور فیصلوں کے وقت اجتماعی نہیں رہتے۔ ایسی بے حسی میں ہر گزرتا سال غلامی کا سال ہی رہتا ہے، مزاحمت کا نہیں۔
اب بھی ہم اس حقیقت کا سامنا نہیں کر رہے کہ غلامی کے آنے والے سال کس قدر ہولناک ہوسکتے ہیں۔ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جو اب خواتین تک پہنچ چکا ہے، مستقبل میں مزید سفاک صورت اختیار کرے گا۔ زمینوں اور گھروں پر قبضے کے لیے استعمال ہونے والے ہتھکنڈے اب بیٹیوں کو جبری گمشدہ کرنے کے لیے استعمال ہوں گے، تشدد اور بے حرمتی کے بعد انہی سے غیرت کی قیمت وصول کی جائے گی۔
اسی طرح ہم رخشان ریجن میں سونے اور افیون کے کھیل کے ممکنہ نتائج پر بھی سنجیدگی سے غور نہیں کر رہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں دہائیاں پہلے ایٹمی دھماکے کیے گئے، جہاں زمین آج بھی تابکاری اثرات سے دوچار ہے، پانی کھارا ہو رہا ہے اور زمین بنجر بنتی جا رہی ہے۔ اب اسی زمین کو ایک نئی تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ ایک طرف اسے کان کنی کے لیے ہموار کیا جا رہا ہے تاکہ وہ سونا اُگل سکے، اور دوسری طرف اسے افیون کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ وہاں کے لوگ ناکارہ بنا دیے جائیں۔
انہیں تعلیم دیے بغیر، صحت دیے بغیر، بھوکا رکھ کر توڑنے کی کوشش کی گئی مگر وہ پھر بھی زندہ رہے۔ اب انہیں افیون کے جال میں پھنسا کر خود ہی خود کو کھو دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اور ہم اب بھی یہ نہیں سوچ رہے کہ غلامی کے یہ سال ہمیں مزید کتنی اذیت دیں گے، یہ راستہ کتنا خطرناک اور ہولناک ہے۔
آج خود سے سوال کرنے کا وقت ہے: کیا آنے والے سال محض غلامی کے سال ہوں گے، یا کیا یہ نیا سال مزاحمت کے نام ہوگا؟ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم کیا سوچتے ہیں، ہم اس سال کو کیسے گزارنے کا فیصلہ کرتے ہیں، ہم اپنی مزاحمت کو تقویت دینے کے لیے کیا منصوبہ بناتے ہیں، اور ان اذیتوں کے مقابلے میں ہمارے ارادے کتنے مضبوط ہیں۔
یہ فیصلہ ہمارا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































