نُومان بلوچ اور عبدالمطلب بلوچ کی جبری گمشدگی کے بعد ماورائے عدالت قتل۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی

1

بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے تسلسل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ حالیہ دنوں میں کیچ اور مستونگ میں پیش آنے والے دو الگ الگ واقعات میں دو بلوچ نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا، جو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

بی وائی سی نے کہاہےکہ 21 جنوری 2025 کو نُومان ولد حیدر، ساکن مند، ضلع کیچ، کو پاکستانی فورسز نے ان کے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کیا۔ بعد ازاں ان کی مسخ شدہ لاش تمپ کے علاقے سے برآمد ہوئی۔

لواحقین کے مطابق نُومان کو 19 نومبر 2025 کو ایک تفریحی مقام سے پاکستانی فوج اور فرنٹیئر کانسٹیبلری نے غیرقانونی طور پر حراست میں لیا تھا۔ اسی کارروائی کے دوران ان کے ایک دوست اسماعیل کو موقع پر ہی ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا۔ نُومان تقریباً دو ماہ تک جبری گمشدگی کا شکار رہے اور اس دوران ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

ضلع ہیڈکوارٹر ہسپتال میں شناخت کے بعد نُومان بلوچ کی لاش لواحقین کے حوالے کی گئی، جس پر شدید تشدد اور گولیوں کے واضح نشانات موجود تھے، جو طویل غیرقانونی حراست اور ماورائے عدالت قتل کا واضح ثبوت ہیں۔

مزید کہا ہےکہ 19 جنوری 2026 کو عبدالمطلب ولد عبدالعزیز، ساکن کلی کمالو، سریاب، کوئٹہ، کو ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں ایک جعلی مقابلے میں قتل کر دیا گیا۔ ان کی لاش 20 جنوری 2026 کو اہلِ خانہ کے حوالے کی گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق عبدالمطلب کو 11 جولائی 2025 کی رات 2 بجے ان کے گھر سے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے سادہ لباس میں بغیر کسی وارنٹ کے اغوا کیا۔ وہ چھ ماہ سے زائد عرصہ غیرقانونی حراست میں رہے۔ 19 جنوری 2026 کو انہیں مستونگ دشت میں جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا۔ ان کی لاش پر بھی طویل حراست اور بدترین تشدد کے نشانات موجود تھے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی واضح کرتی ہے کہ یہ واقعات بلوچستان میں جاری ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور مکمل استثنیٰ (Impunity) کی ایک اور کڑی ہیں۔ عام شہریوں، طلبہ اور نوجوانوں کو نشانہ بنانا پورے معاشرے کو خوف اور شدید نفسیاتی صدمے سے دوچار کر رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ نُومان بلوچ اور عبدالمطلب بلوچ کے قتل کی غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں،بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی انسانی حقوق کے ادارے ان سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں