نسرینہ بلوچ کی جبری گمشدگی: ایف آئی آر درج ہوئی نہ منظرِ عام پر لایا گیا، اہلِ خانہ کی اذیت سے نجات کی اپیل

59

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں جبری طور پر لاپتہ کی گئی 17 سالہ نسرینہ بلوچ کے اہلِ خانہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کی جبری گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اہلِ خانہ نے صحافیوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اس سنگین معاملے پر خاموشی توڑیں۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اہلِ خانہ نے بتایا کہ 22 نومبر کی شب حب چوکی میں رات تقریباً 11 بجے ایف سی، سی ٹی ڈی اور دیگر سادہ لباس میں ملبوس مسلح اہلکار زبردستی ان کے گھر میں داخل ہوئے، گھر میں توڑ پھوڑ کی اور 17 سالہ نسرینہ بلوچ کو اپنے ساتھ لے گئے۔ اہلِ خانہ کے مطابق، جاتے وقت انہیں سخت دھمکیاں دی گئیں کہ اگر اس واقعے کے بارے میں کسی کو آگاہ کیا گیا تو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

اہلِ خانہ کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد انہوں نے انصاف کی تلاش میں تمام متعلقہ اداروں اور اعلیٰ حکام سے رجوع کیا، حتیٰ کہ سی ٹی ڈی کے دفتر بھی گئے، جہاں انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ کچھ تفتیش کے بعد نسرینہ کو رہا کر دیا جائے گا۔ تاہم ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود نہ تو اغوا کی ایف آئی آر درج کی جا رہی ہے اور نہ ہی نسرینہ بلوچ کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔

پریس کانفرنس میں اہلِ خانہ نے بتایا کہ وہ شدید ذہنی اذیت اور کرب کا شکار ہیں اور انہیں یہ تک معلوم نہیں کہ نسرینہ زندہ ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی جبری گمشدگیاں نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک خطرناک رجحان ہیں، جسے کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے واضح مطالبہ کیا کہ اگر نسرینہ بلوچ پر کسی قسم کا الزام ہے تو اسے آئین و قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، لیکن ایک کم عمر لڑکی کو اس طرح جبری گمشدگی کا نشانہ بنانا نہ آئینی ہے، نہ اخلاقی اور نہ ہی انسانی اقدار کے مطابق۔

اہلِ خانہ نے صحافیوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ نسرینہ بلوچ سمیت تمام جبری گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے آواز بلند کریں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس ہفتے ماما قدیر کے کیمپ میں احتجاج جاری رکھا جائے گا اور جلد اسی کیمپ سے ایک باقاعدہ احتجاجی پروگرام کا اعلان کیا جائے گا