میڈیا ایک مؤثر محاذ – سفر خان بلوچ ( آسگال)

41

میڈیا ایک مؤثر محاذ

تحریر: سفر خان بلوچ ( آسگال)

دی بلوچستان پوسٹ

انسانی تاریخ میں طاقت ہمیشہ صرف تلوار، فوج یا معیشت سے متعین نہیں ہوئی، بلکہ خیالات، تصورات اور بیانیوں نے بھی اقوام کی تقدیر کا فیصلہ کیا ہے۔ جس نے سوچ پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت حاصل کر لی، اس نے بالآخر عمل کی سمت بھی متعین کر لی۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جنگیں میدان میں لڑی جانے سے پہلے ذہنوں میں جیتی یا ہاری جاتی ہیں۔

یہی اصول سیاسی تحریکوں، سماجی تبدیلیوں اور نظریاتی جدوجہد پر بھی لاگو ہوتا ہے، جہاں کامیابی کا دارومدار محض تنظیمی قوت پر نہیں بلکہ اس بیانیے پر ہوتا ہے جو عوام کے دل و دماغ میں جگہ بنا لے۔

میڈیا اس بیانیہ سازی کا سب سے طاقتور اور مؤثر ذریعہ رہا ہے۔ میڈیا محض خبر رسانی یا اطلاعات کی ترسیل کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا فکری نظام ہے جو یہ طے کرتا ہے کہ معاشرہ کیا سوچے، کن موضوعات کو اہم سمجھے، اور واقعات کو کس زاویے سے دیکھے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید دنیا میں میڈیا کو ریاست، عدلیہ اور معیشت کے ساتھ طاقت کے مرکزی ستونوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ذرائع ابلاغ کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کی اثر پذیری میں بھی اضافہ ہوا، اور یوں میڈیا ایک خاموش مگر فیصلہ کن قوت بن کر ابھرا۔

جہاں میڈیا شعور، آگاہی اور سماجی اصلاح کا ذریعہ بن سکتا ہے، وہیں یہی میڈیا گمراہی، نفرت اور فکری استحصال کا آلہ بھی بن سکتا ہے۔ اس دو رُخی کردار کو سمجھنے کے لیے پروپیگنڈا کا تصور نہایت اہم ہے۔ پروپیگنڈا دراصل اسی مقام پر جنم لیتا ہے جہاں معلومات محض اطلاع نہیں رہتیں بلکہ ایک مخصوص مقصد کے تحت ترتیب دی جاتی ہیں۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ پروپیگنڈا نے کبھی مظلوم اقوام کو آواز دی، اور کبھی طاقتور طبقات کو اپنی بالادستی قائم رکھنے کا جواز فراہم کیا۔

تحریکوں اور جنگوں کے تناظر میں پروپیگنڈا کو سمجھے بغیر نہ تو تاریخ کے بڑے واقعات کی درست تفہیم ممکن ہے اور نہ ہی حال کے سیاسی و سماجی منظرنامے کا ادراک رکھنا ممکن ہوگا۔

فرانسیسی اور روسی انقلابات سے لے کر عالمی جنگوں، آزادی کی تحریکوں اور جدید نظریاتی کشمکش تک، ہر مرحلے پر بیانیہ سازی نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ عوامی جذبات کو ابھارنا، دشمن کی شبیہہ تشکیل دینا، قربانی کو معنی دینا اور جدوجہد کو اخلاقی رنگ فراہم کرنا یہ سب پروپیگنڈا کے ذریعے ممکن ہوا ہے۔

آج کے ڈیجیٹل دور میں یہ عمل مزید پیچیدہ ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا پر مبنی الگورتھمز نے پروپیگنڈا کو زیادہ تیز، زیادہ گہرا اور اکثر غیر محسوس بنا دیا ہے۔ اب بیانیہ سازی صرف ریاستی اداروں تک محدود نہیں رہی بلکہ ہر فرد، گروہ اور تنظیم اس عمل میں شریک ہو چکی ہے۔ ایسے میں غیر تربیت یافتہ میڈیا ورکرز اور سیاسی کارکن اگر تاریخ، نفسیات اور اخلاقیات سے ناواقف ہوں تو وہ دانستہ یا نادانستہ طور پر گمراہ کن بیانیوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔

اسی پس منظر میں اس مضمون کا مقصد محض پروپیگنڈا پر بحث کرنا نہیں بلکہ میڈیا، تحریکوں اور جنگوں کے باہمی تعلق کو تاریخی اور فکری تناظر میں سمجھنا ہے۔ اس تحریر میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ پروپیگنڈا کیسے تشکیل پاتا ہے، کن حالات میں یہ مثبت کردار ادا کرتا ہے، اور کن مواقع پر یہ معاشروں کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اس مطالعے کے ذریعے میڈیا ورکرز، سیاسی کارکنان اور تنظیمی ذمہ داران کو یہ احساس دلانا مقصود ہے کہ بیانیہ سازی ایک طاقت بھی ہے اور ایک ذمہ داری بھی، جسے شعور، علم اور اخلاقی حدود کے بغیر استعمال کرنا خود اپنے مقصد کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

میڈیا سے مراد وہ تمام ذرائع، نظام اور پلیٹ فارمز ہیں جن کے ذریعے معلومات، خیالات، نظریات، احساسات اور خبریں ایک فرد یا گروہ سے دوسرے فرد یا معاشرے تک منتقل کی جاتی ہیں۔ میڈیا محض ابلاغ کا ایک ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسا سماجی ادارہ ہے جو انسانی شعور، اجتماعی یادداشت، اور رائے عامہ کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید سماجی علوم میں میڈیا کو چوتھا بڑا طاقت کا ستون قرار دیا جاتا ہے۔

میڈیا کا بنیادی کام معلومات کی ترسیل ضرور ہے، لیکن اس کے اثرات محض اطلاع تک محدود نہیں رہتے۔ میڈیا یہ طے کرتا ہے کہ کون سا موضوع اہم ہے، کس خبر کو کس زاویے سے پیش کیا جائے، کن الفاظ کا انتخاب ہو، اور کن حقائق کو نمایاں یا پسِ پردہ رکھا جائے۔ اس طرح میڈیا نہ صرف خبریں دیتا ہے بلکہ حقیقت کو سمجھنے کا فریم بھی تشکیل دیتا ہے۔

میڈیا کی تاریخ دراصل انسانی ابلاغ کی تاریخ ہے۔ قدیم معاشروں میں میڈیا کی ابتدائی شکل زبانی روایت پر مشتمل تھی، جہاں کہانیاں، اساطیر، مذہبی تعلیمات اور تاریخی واقعات نسل در نسل منتقل کیے جاتے تھے۔ اس دور میں ابلاغ محدود تھا مگر اثر انگیز، کیونکہ معلومات کا واحد ذریعہ یہی روایات تھیں۔

قدیم تہذیبوں میں تحریر کی ایجاد نے میڈیا کو ایک نیا رخ دیا۔ بادشاہوں کے فرمان، جنگی فتوحات، اور مذہبی قوانین کتبوں، دیواروں اور تختیوں پر تحریر کیے جاتے تھے۔ یہ تحریری میڈیا دراصل اقتدار اور طاقت کے اظہار کا ذریعہ تھا۔

پندرھویں صدی میں پرنٹنگ پریس کی ایجاد نے میڈیا کی دنیا میں انقلابی تبدیلی پیدا کی، جس سے کتابیں، رسائل اور اخبارات بڑی تعداد میں شائع ہونے لگے۔ اس ایجاد نے مذہبی اصلاحات، سائنسی انقلاب اور سیاسی شعور کے فروغ میں مرکزی کردار ادا کیا۔ یورپ میں اخبارات نے پہلی بار عوامی رائے کو منظم کرنا شروع کیا، اور یوں میڈیا ایک سماجی قوت بن کر ابھرا۔

انیسویں اور بیسویں صدی میں ریڈیو، فلم اور ٹیلی وژن نے میڈیا کو گھروں تک پہنچا دیا۔ ریاستوں اور کارپوریشنز نے میڈیا کی طاقت کو پہچانا اور اسے باقاعدہ پالیسی اور حکمتِ عملی کے تحت استعمال کرنا شروع کیا۔ اکیسویں صدی میں ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا نے ابلاغ کو فوری، عالمی اور باہمی (Interactive) بنا دیا، جہاں ہر فرد خود بھی میڈیا بن چکا ہے۔

پروپیگنڈا سے مراد معلومات، خیالات، نظریات یا بیانیے کو اس خاص انداز میں ترتیب اور پیش کرنا ہے جس کا مقصد عوام کے خیالات، جذبات اور فیصلوں کو کسی مخصوص سمت میں موڑنا ہو۔ پروپیگنڈا صرف جھوٹ پر مبنی نہیں ہوتا، بلکہ اکثر سچ، آدھا سچ، انتخابی حقائق، جذباتی اپیل اور علامتی زبان کے امتزاج سے تشکیل پاتا ہے۔ پروپیگنڈا میں دلیل سے زیادہ تاثر، اور عقل سے زیادہ جذبات کو مخاطب کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد فرد کو سوچنے کے بجائے محسوس کرنے پر آمادہ کرنا ہوتا ہے۔ خوف، امید، نفرت، فخر اور قربانی جیسے جذبات پروپیگنڈا کے بنیادی اوزار ہوتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ پروپیگنڈا ہمیشہ منفی ہو۔ بعض اوقات یہ قومی اتحاد، سماجی اصلاحات یا اخلاقی اقدار کے فروغ کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ تاہم اس کی غیر اخلاقی اور غیر ذمہ دارانہ شکل معاشروں کو گمراہ، تقسیم اور انتہا پسند بھی بنا سکتی ہے۔

پروپیگنڈا کی جڑیں انسانی تاریخ کے ابتدائی ادوار تک پھیلی ہوئی ہیں۔ قدیم بادشاہ اپنے آپ کو خداؤں کا نمائندہ یا منتخب قرار دیتے تھے، اور دشمن کو وحشی یا باغی دکھایا جاتا تھا۔ یہ بیانیے طاقت کو جائز ثابت کرنے اور عوام کی اطاعت حاصل کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ لفظ “پروپیگنڈا” پہلی مرتبہ سترھویں صدی میں باضابطہ طور پر استعمال ہوا، جب کیتھولک چرچ نے Congregatio de Propaganda Fide کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا، جس کا مقصد مذہبی تعلیمات کو دنیا بھر میں پھیلانا تھا۔ اس مرحلے پر پروپیگنڈا کا مفہوم منفی نہیں تھا بلکہ محض تبلیغ اور اشاعت تک محدود تھا۔

انیسویں صدی میں قوم پرستی، صنعتی ترقی اور نوآبادیاتی توسیع نے پروپیگنڈا کو ایک منظم ریاستی ہتھیار میں بدل دیا۔ ریاستوں نے محسوس کیا کہ عوامی حمایت کے بغیر جنگیں، اصلاحات اور سیاسی منصوبے کامیاب نہیں ہو سکتے۔

بیسویں صدی میں پہلی اور دوسری عالمی جنگوں نے پروپیگنڈا کو ایک سائنسی اور نفسیاتی فن بنا دیا۔ نفسیات، سماجیات اور ابلاغیات کے ماہرین کو شامل کر کے ایسے پیغامات تخلیق کیے گئے جو عوام کے لاشعور پر اثر انداز ہوں۔ پوسٹرز، فلمیں، ریڈیو تقاریر اور اخباری مہمات کے ذریعے دشمن کو غیر انسانی اور اپنے آپ کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا گیا۔

جنگوں کے بعد یہ تکنیکیں سیاست، اشتہارات، انتخابی مہمات اور کارپوریٹ دنیا میں منتقل ہو گئیں۔ آج کے دور میں ڈیجیٹل میڈیا، الگورتھمز، ڈیٹا اینالیسس اور مصنوعی ذہانت نے پروپیگنڈا کو مزید پیچیدہ، تیز رفتار اور غیر محسوس بنا دیا ہے۔

انسانی تاریخ میں جب بھی کوئی بڑی سیاسی، سماجی یا عسکری تبدیلی رونما ہوئی، اس کے پسِ منظر میں صرف طاقت، اسلحہ یا تنظیم نہیں بلکہ خیالات، تصورات اور بیانیے بھی کارفرما رہے ہیں۔ یہی خیالات جب منظم انداز میں عوام تک پہنچائے جاتے ہیں تو وہ پروپیگنڈا کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ تحریکیں اور جنگیں دراصل صرف میدانِ جنگ یا جلسہ گاہ میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ انسانی ذہن اور شعور میں بھی ان کا محاذ قائم ہوتا ہے۔ اس ذہنی محاذ پر پروپیگنڈا ایک فیصلہ کن ہتھیار ثابت ہوتا ہے، جو عوامی رائے، جذبات اور رویّوں کو کسی خاص سمت میں موڑ دیتا ہے۔

سیاسی اور انقلابی تحریکوں میں پروپیگنڈا کا بنیادی مقصد عوام کو متحرک کرنا، انہیں کسی مشترکہ مقصد پر متحد کرنا، اور موجودہ نظام یا مخالف قوت کو غیر اخلاقی، ظالم یا ناکام ثابت کرنا ہوتا ہے۔ فرانسیسی انقلاب اس کی ایک نمایاں مثال ہے، جہاں انقلابی رہنماؤں نے اخبارات، پمفلٹس، سیاسی تحریروں اور کارٹونز کے ذریعے بادشاہت کو عوامی مسائل، معاشی ناہمواری اور ناانصافی کی جڑ کے طور پر پیش کیا۔ عوام کو یہ باور کرایا گیا کہ شاہی نظام نہ صرف غیر ضروری بلکہ انسانی وقار کے خلاف ہے۔ اس پروپیگنڈا نے عام شہری کو سیاسی شعور دیا اور اسے ایک انقلابی قوت میں بدل دیا۔

اسی طرح روسی انقلاب میں ولادیمیر لینن اور بالشویک قیادت نے پروپیگنڈا کو ایک باقاعدہ انقلابی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ “روٹی، امن اور زمین” جیسے سادہ مگر طاقتور نعروں نے مزدوروں اور کسانوں کے دلوں میں فوری جگہ بنائی۔ اخبارات، پوسٹرز اور جلسوں کے ذریعے زار شاہی نظام کو عوامی استحصال کی علامت بنا کر پیش کیا گیا۔ اس پروپیگنڈا نے عوام کو سیاسی طاقت دی اور صدیوں پرانا نظام گرا دیا۔

جب ہم جنگوں کی طرف آتے ہیں تو پروپیگنڈا کا کردار مزید گہرا اور پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ پہلی عالمی جنگ وہ پہلا موقع تھا جب ریاستوں نے پروپیگنڈا کو باقاعدہ ادارہ جاتی سطح پر منظم کیا۔ برطانیہ نے جرمن افواج کو وحشی اور غیر مہذب دکھا کر عوامی نفرت کو ہوا دی، تاکہ جنگ کے لیے اخلاقی جواز پیدا کیا جا سکے۔ امریکہ میں جارج کریل کی سربراہی میں قائم ہونے والی کمیٹی نے فلموں، پوسٹرز اور اخباری مضامین کے ذریعے حب الوطنی، قربانی اور قومی اتحاد کا بیانیہ تشکیل دیا۔ ان کے نتیجے میں عوام جنگ کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوئے اور صنعتی و عسکری پیداوار میں اضافہ ہوا، مگر اسی کے ساتھ نسلی تعصب، آزادیِ اظہار کی پابندی اور اقلیتوں کے خلاف نفرت بھی بڑھی۔

دوسری عالمی جنگ میں پروپیگنڈا اپنی انتہا کو پہنچ گیا، خصوصاً نازی جرمنی میں جوزف گوئبلز نے میڈیا، تعلیم، ثقافت اور فنون کو مکمل طور پر ریاستی بیانیے کے تابع کر دیا۔ جرمن قوم کو نسلی برتری، تاریخی عظمت اور دشمن کے خلاف وجودی خطرے کا احساس دلایا گیا۔ یہ پروپیگنڈا اتنا طاقتور تھا کہ اس نے عام شہریوں کو اجتماعی جرائم، حتیٰ کہ نسل کشی جیسے ہولناک اقدامات پر خاموش یا شریک بنا دیا۔ یہاں پروپیگنڈا کا سب سے خطرناک پہلو سامنے آتا ہے، جہاں جھوٹ، نفرت اور خوف کو اس قدر معمول بنا دیا جاتا ہے کہ اخلاقی حس مفلوج ہو جاتی ہے۔

اس کے برعکس، اتحادی طاقتوں خصوصاً امریکہ اور برطانیہ نے بھی پروپیگنڈا استعمال کیا، مگر زیادہ تر جمہوریت، آزادی اور فاشزم کے خلاف جدوجہد کے بیانیے کے تحت، خواتین کو صنعت میں لانے، عوامی حوصلہ بلند رکھنے اور قربانی کو قابلِ فخر عمل کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہ پروپیگنڈا کئی مثبت نتائج لایا، مگر اس کے سائے میں جاپانی نژاد امریکیوں کی نظر بندی اور دشمن کی غیر انسانی تصویر کشی جیسے منفی اقدامات بھی سامنے آئے۔

ان تمام مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ پروپیگنڈا تحریکوں اور جنگوں میں ایک دو دھاری تلوار کی حیثیت رکھتا ہے۔ مثبت طور پر یہ عوامی شعور بیدار کرتا ہے، ظلم کے خلاف مزاحمت کو منظم کرتا ہے، اور اجتماعی شناخت و اتحاد پیدا کرتا ہے۔ لیکن منفی طور پر یہی پروپیگنڈا جھوٹ، نفرت، تعصب اور تشدد کو فروغ دے کر معاشروں کو تقسیم اور اخلاقی طور پر کھوکھلا بھی کر دیتا ہے۔ اختلافِ رائے کو غداری اور انسان کو محض ایک آلہ بنا دینا اس کے خطرناک نتائج ہیں۔

لہٰذا جدید دور میں، جہاں میڈیا کی رسائی فوری اور ہمہ گیر ہو چکی ہے، پروپیگنڈا کو سمجھے بغیر نہ تحریکوں کو سمجھا جا سکتا ہے اور نہ جنگوں کو، یہی وجہ ہے کہ میڈیا ورکرز، سیاسی کارکنان اور فکری رہنماؤں کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ وہ پروپیگنڈا کی تاریخ، اس کے استعمال کے طریقوں، اور اس کے اخلاقی اثرات کا گہرا مطالعہ کریں، تاکہ وہ بیانیہ سازی کو تباہی کے بجائے تعمیر، نفرت کے بجائے شعور، اور جبر کے بجائے انصاف کے لیے استعمال کر سکیں۔

تحریکوں اور جنگوں کی تاریخ کا گہرا مطالعہ اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ طاقت صرف عسکری برتری، وسائل یا تنظیمی ڈھانچے سے قائم نہیں ہوتی، بلکہ اصل طاقت انسانی ذہن، اجتماعی شعور اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت میں مضمر ہے۔ پروپیگنڈا اسی ذہنی میدان میں کام کرنے والا وہ ہتھیار ہے جو بظاہر الفاظ، تصاویر اور علامتوں پر مشتمل ہوتا ہے، مگر اپنے اثرات میں اسلحے سے کہیں زیادہ دیرپا اور گہرا ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں بہت سی تحریکیں اور جنگیں میدانِ جنگ سے پہلے ذہنوں میں جیتی یا ہاری گئیں۔

اس مطالعے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پروپیگنڈا بذاتِ خود نہ مکمل طور پر خیر ہے اور نہ سراسر شر، بلکہ اس کی اخلاقی حیثیت کا تعین اس کے مقصد، طریقۂ کار اور نتائج سے ہوتا ہے۔ جہاں یہ مظلوم اقوام کو آواز دینے، اجتماعی شعور بیدار کرنے اور ناانصافی کے خلاف مزاحمت منظم کرنے کا ذریعہ بنا، وہیں اسی نے نفرت، نسل پرستی، تشدد اور اندھی اطاعت کو بھی جنم دیا۔

جرمنی، اٹلی اور دیگر مثالیں ہمیں خبردار کرتی ہیں کہ جب پروپیگنڈا اخلاقی اصولوں سے عاری ہو جائے اور طاقت کے بے لگام استعمال سے جُڑ جائے تو وہ پورے معاشروں کو اخلاقی طور پر مفلوج کر دیتا ہے۔

جدید دور میں، جہاں ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا نے ابلاغ کو فوری، عالمی اور مسلسل بنا دیا ہے، پروپیگنڈا کی نوعیت مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو چکی ہے۔ اب بیانیے صرف ریاستیں نہیں بلکہ سیاسی جماعتیں، کارپوریشنز، نظریاتی گروہ اور حتیٰ کہ انفرادی اکاؤنٹس بھی تشکیل دے رہے ہیں۔ اس صورتِ حال میں سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ غیر تربیت یافتہ اور غیر شعوری میڈیا ورکرز، دانستہ یا نادانستہ طور پر، نفرت، غلط معلومات اور فکری انتشار کا حصہ بن جاتے ہیں۔

اسی تناظر میں یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور تنظیمیں اپنے میڈیا ونگز اور میڈیا ورکرز کی باقاعدہ فکری اور علمی تربیت کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ میڈیا ورکرز کو محض پوسٹس بنانے یا بیانات پھیلانے والے کارکن نہیں بلکہ فکری ذمہ داری اٹھانے والے افراد کے طور پر تیار کیا جانا چاہیے۔ ان کے لیے میڈیا کی تاریخ، پروپیگنڈا کی اقسام، بیانیہ سازی کے اصول، نفسیاتی اثرات اور اخلاقی حدود پر مشتمل منظم کورسز ترتیب دیے جائیں۔

میڈیا ٹریننگ میں صرف تکنیکی مہارتوں تک خود کو محدود نہ رکھا جائے بلکہ تنقیدی سوچ (Critical Thinking)، تاریخ کے مطالعے، اور سماجی اثرات کے تجزیے کو بھی مرکزی حیثیت دی جائے۔ میڈیا ورکرز کو یہ سکھایا جائے کہ وہ ہر خبر، تصویر یا بیان کو کس طرح پرکھیں، اس کے پسِ پردہ مفادات کو سمجھیں، اور جذباتی ردِعمل کے بجائے شعوری اور ذمہ دارانہ ابلاغ اختیار کریں۔ اسی طرح انہیں یہ ادراک بھی دیا جائے کہ مختصر وقتی فائدے کے لیے اختیار کیا گیا غلط یا نفرت انگیز بیانیہ طویل مدت میں خود تنظیم، تحریک اور معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

بلوچ قومی تنظیموں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے میڈیا بیانیے کے لیے واضح اخلاقی اصول اور ضابطۂ اخلاق (Code of Ethics) مرتب کریں۔ سچائی، شفافیت، انسانی وقار اور اختلافِ رائے کے احترام کو بیانیہ سازی کی بنیاد بنایا جائے۔ دشمن یا مخالف کو غیر انسانی، غدار یا شیطانی قوت کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اختلاف کو سیاسی اور فکری دائرے میں رکھا جائے، تاکہ معاشرہ مزید تقسیم کے بجائے مکالمے اور فہم کی طرف بڑھے۔

یہ مسلمہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ میڈیا اور پروپیگنڈا محض معلومات کی ترسیل کے ذرائع نہیں بلکہ ایسے طاقتور فکری اوزار ہیں جو قوموں کی سمت، تحریکوں کی روح اور تاریخ کے دھارے کو موڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی اوزار اگر شعور، تحقیق اور اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ استعمال ہوں تو وہ ظلم کے خلاف مزاحمت، فکری بیداری اور مثبت سماجی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں، تاہم انہیں اقتدار، نفرت یا مفاد کے اندھے حصول کے لیے بروئے کار لایا جائے تو یہی قوت معاشروں کو تقسیم، ذہنوں کو مسخ اور انسانیت کو سنگین نقصان سے دوچار کر دیتی ہے۔ اس لیے آج کے دور میں اصل چیلنج یہ نہیں کہ بیانیہ کیسے بنایا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اسے کس مقصد، کس شعور اور کن اخلاقی حدود کے ساتھ تشکیل دیا جائے۔ اگر ہم اس سوال کا سنجیدگی سے جواب تلاش کر لیں تو میڈیا محض پروپیگنڈا کا ہتھیار نہیں رہے گا بلکہ ایک ذمہ دار، باخبر اور انسان دوست معاشرے کی تعمیر کا ذریعہ بن جائے


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔