مغربی بلوچستان: عوام کی زندگیاں معاشی مُشکالات کا شکار ہیں، کسی کو اپنی رائے عوام پر مسلط نہیں کرنی چاہیے۔ مولوی عبدالحمید

80

ایران کے زیر انتظام مغربی بلوچستان کے شہر زاہدان میں اہلِ سنت سے تعلق رکھنے والے مولوی عبدالحمید اسماعیل زاہی نے جمعہ کے روز اپنے خطاب میں مُلک میں جاری حالیہ مظاہروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’ایرانی عوام کی زندگی اور معاشی حالت شدید مُشکالات کا شکار ہو چکی ہے۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’عوام کو پُرامن احتجاج کا حق حاصل ہے اور حکومت کو مظاہرین کے ساتھ تشدد آمیز رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔‘
انھوں نے بڑھتی ہوئی کشیدگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ’ہم سب ایرانی ہیں۔ آج لوگ بھوک کا شکار ہیں اور بعض سرمایہ دار بھی سنگین مشکلات میں مبتلا ہیں۔ حکام کو چاہیے کہ عوام کی آواز سنیں اور اُن کے مطالبات پر غور کریں۔

مولوی عبدالحمید نے مُلک میں رائج کوپن سسٹم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسی سکیمیں یا منصوبے کارآمد نہیں۔ حکام کو دیکھنا چاہیے کہ عوام کیا چاہتے ہیں، عوام کی راہ اور خواہش ہی معیار ہے، کسی کو اپنی رائے عوام پر مسلط نہیں کرنی چاہیے۔

ایران کا ’کوپن سسٹم‘ ایک پرانا نظام ہے کہ جو وقتاً فوقتاً معاشی دباؤ اور پابندیوں کے دوران دوبارہ نافذ کیا جاتا رہا ہے۔ اس نظام کے تحت کم آمدنی والے شہریوں کو ضروری اشیاء جیسے کھانے پینے کا سامان (تیل، چینی، گوشت، چاول) اور ایندھن سبسڈی کے ساتھ فراہم کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں کرنسی کی قدر میں بے تحاشہ کمی اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف عوامی مظاہروں کا سلسلہ لگ بھگ پانچ روز قبل شروع ہوا تھا جو بدستور جاری ہے۔ مظاہرین اور ایرانی سکیورٹی فورسز کے درمیان گذشتہ پانچ روز میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک چھ مظاہرین اور ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔