مشترکہ خصوصی سیکیورٹی یونٹ – ٹی بی پی اداریہ

110

مشترکہ خصوصی سیکیورٹی یونٹ

ٹی بی پی اداریہ

پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے چین کے دورے کے دوران بیجنگ میں وزارتِ عوامی سیکیورٹی کے ہیڈکوارٹر میں چین کے پبلک سیکیورٹی کے وزیر وانگ ژیاؤ ہونگ سے ملاقات میں چین اور پاکستان کا مشترکہ خصوصی سیکیورٹی یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پاکستان میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے اقدامات کو بہتر بنایا جا سکے اور اس مقصد کے لیے پاکستان کے اہلکاروں کی تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت بڑھانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنایا جا سکے۔

پاکستان اور چین کا مشترکہ خصوصی سیکیورٹی یونٹ قائم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان اور بالخصوص بلوچستان میں چین کے کان کنی اور دیگر اقتصادی منصوبوں سے منسلک چینی انجینئرز اور تکنیکی ماہرین کی حفاظت کو ممکن بنایا جاسکے۔ یہ واضح رہے کہ چینی شہری اور انجینئرز کراچی، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں متعدد بار مہلک حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ پاکستان کے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کے ڈیٹا کے مطابق 2021 سے دسمبر 2024 تک مختلف حملوں میں چین کے 20 شہری ہلاک اور 34 زخمی ہوئے ہیں۔

گزشتہ برسوں سے بلوچستان میں چین کے اقتصادی اور عسکری منصوبوں سے منسلک چینی انجینئرز اور تکنیکی ماہرین پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ کے فدائی کراچی اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں چینی شہریوں پر ہلاکت خیز حملے کر چکے ہیں۔ اکتوبر 2024 میں کراچی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مجید بریگیڈ کے فدائی حملے میں تین چینی انجینئر ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے جبکہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کی سدو آپریشنل بٹالین نومبر 2025 میں نوکنڈی میں ریکوڈک اور سیندک کے انجینئرز پر مہلک حملہ کر چکی ہے۔

چین کو پاکستان، بالخصوص بلوچستان میں اپنے اقتصادی منصوبوں کو جاری رکھنے کے لیے سنگین سیکیورٹی خدشات لاحق ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے پاکستان اور چین نے مشترکہ خصوصی سیکیورٹی یونٹ قائم کیا ہے۔ تاہم، گزشتہ برس پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بلوچستان میں 90 ہزار انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کرنے کے باوجود بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کے حملوں کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور بعید نہیں کہ مشترکہ خصوصی سیکیورٹی یونٹ کے قیام کے بعد بھی چین کے استحصالی قرار دیے گئے منصوبوں پر حملے جاری رہیں۔