مستونگ: سی ٹی ڈی کا مبینہ مقابلے میں پانچ افراد کو مارنے کا دعوی

1

بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم ماضی میں سی ٹی ڈی کی متعدد کارروائیوں پر اٹھنے والے سوالات اور ماورائے عدالت قتل کے الزامات کے تناظر میں اس تازہ کارروائی کو بھی بعض حلقے مشکوک قرار دے رہے ہیں۔

سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق یہ کارروائی 19 جنوری کو شام 4 بج کر 45 منٹ پر اس وقت کی گئی جب ادارے کو خفیہ اطلاع ملی کہ مسلح افراد مستونگ کے علاقے دشت کے قریب پہاڑی علاقے میں موجود ہے اور کوئٹہ۔سبی شاہراہ کو بلاک کرنے کے ساتھ ساتھ تخریبی کارروائیوں کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ اطلاع ملنے پر سی ٹی ڈی اہلکاروں نے علاقے کا گھیراؤ کیا جس کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس مبینہ مقابلے کے نتیجے میں پانچ افراد مارے گئے جبکہ ان کے دیگر ساتھی دشوار گزار پہاڑی راستوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

سی ٹی ڈی کے مطابق مارے گئے افراد کے قبضے سے پانچ سب مشین گنز (ایس ایم جیز)، سات دستی بم اور تین موٹر سائیکلیں برآمد کی گئی ہیں۔

لاشوں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی کوئٹہ میں درج کر لیا گیا ہے۔

تاہم سی ٹی ڈی کے اس دعوے کے برعکس کئی اہم سوالات ابھی جواب طلب ہیں۔ اس کارروائی کی نوعیت پر مزید شکوک پیدا ہو رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور بعض مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی سی ٹی ڈی کی متعدد کارروائیوں کو مشکوک قرار دیا جاتا رہا ہے، جہاں مقابلوں کے نام پر پہلے سے لاپتہ افراد کو مار گیا ہے۔

بلوچستان میں ایک طویل عرصے سے جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے الزامات بھی ریاستی اداروں کے دامن سے وابستہ رہے ہیں۔ اس پس منظر میں مستونگ کا حالیہ واقعہ ایک بار پھر سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے۔