فاطمہ بلوچ کی جبری گمشدگی باعث تشویش ہے، بلوچ خاتون کی باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وی بی ایم پی

18

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے بیان کے مطابق تنظیم شکایت موصول ہوئی ہے کہ فاطمہ بلوچ کو فورسز نے مبینہ طور پر 13 جنوری کی علی الصبح حب چوکی سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا، اور ان کے اہلِ خانہ کو ان کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

مزید کہا گیا کہ فاطمہ بلوچ کی جبری گمشدگی سے قبل ان کے شوہر نوروز بلوچ کو 14 نومبر 2024 کو حب چوکی سے سکیورٹی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا اور 20 دن خفیہ حراست میں رکھنے کے بعد رہا کیا گیا۔ ایک ہی خاندان کو بار بار نشانہ بنانا اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ پہلے سے جبری گمشدگی کا شکار افراد کے رشتہ داروں کے خلاف دھمکیوں اور انتقامی کارروائیوں کا ایک تشویشناک سلسلہ جاری ہے۔

وی بی ایم پی کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جبری گمشدگیاں بالخصوص خواتین کی جبری گمشدگیاں ملکی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں، اس طرح کے اقدامات اجتماعی سزا کے مترادف ہیں اور متاثرہ خاندانوں میں خوف و ہراس کی فضا قائم کرتے ہیں۔ جو شہریوں کی بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ کہ وہ فوری طور پر فاطمہ سمیت دیگر جبری لاپتہ بلوچ خواتین کی بازیابی کو فوری طور پر یقینی بنائے، اگر بلوچ خواتین پر کوئی الزام ہے تو انہیں منظر عام پر لاکر عدالت میں پیش کرکے قانونی چارہ جوئی کا حق دیا جائے۔