عبدالرحمن مری 2015 سے جبری طور پر لاپتہ ہیں، بازیاب کیا جائے۔ لواحقین

31

گیارہ سال طویل عرصے سے جبری لاپتہ عبدالرحمن مری کے اہل خانہ نے کہا ہے 13 جنوری 2015 کو صبح تقریباً 9 بجے عبدالرحمن مری کو، ہزار گنجی مری کیمپ، کوئٹہ سے اٹھایا گیا۔ انہیں ایک دن کے لیے سریاب تھانے میں رکھا گیا، جہاں بعد ازاں ذاتی مچلکہ پر رہا کر دیا گیا۔

لواحقین کے مطابق رہائی کے بعد دوسرے دن پھر عبدالرحمن مری کو دوبارہ تفتیش کے لیے فون کال کے ذریعے بلایا گیا۔ جب وہ تفتیش کے لیے سریاب تھانے گئے تو انہیں مزید دو دن تک تھانے میں رکھا گیا، جس کے بعد انہیں اسی تھانے سے لاپتہ کر دیا گیا۔اس کے بعد سے آج تک عبدالرحمن مری کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی اہلِ خانہ کو ان کی خیریت یا موجودگی سے آگاہ کیا گیا۔ اس طرح انہیں جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا، اور اب اس واقعے کو گیارہ (11) سال پورے
ہونے کو ہیں۔

اہلِ خانہ کا واضح مؤقف ہے کہ اگر عبدالرحمن مری پر کوئی الزام تھا تو انہیں آئین اور قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے تھا، نہ کہ انہیں اس طرح لاپتہ کیا جاتا۔ گزشتہ گیارہ برسوں سے اہلِ خانہ شدید ذہنی اور نفسیاتی اذیت کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ہم میڈیا کے ذریعے حکومت اور ریاستی اداروں سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ عبدالرحمن مری ولد محمد بخش کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے، اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو شفاف عدالتی کارروائی کے ذریعے اس کا فیصلہ کیا جائے۔
یہ صرف ایک فرد یا خاندان کا نہیں بلکہ ایک سنگین انسانی اور آئینی مسئلہ ہے۔ہمیں انصاف چاہیے ہمیں عبدالرحمن مری کی فوری بازیابی چاہیے۔