صنم خانے کا متولی – شاہ محمد مری

35

صنم خانے کا متولی

تحریر: شاہ محمد مری

دی بلوچستان پوسٹ

ایک صنم خانہ ہے۔ بے شمار انسانی چہروں پر مشتمل تصاویر سے بھرا صنم خانہ … تصویریں بوڑھوں کی ہیں، جوانوں کی ہیں ، پگڑی داڑھی والوں کی ہیں، شیو کیے ہوﺅں کی ہیں۔ بوسیدہ یا خوب اچھی طرح رکھے ہوﺅں کی ہیں۔۔۔۔ مگر سب باوقار۔

سب کو پتہ ہے کہ یہ سب لوگوں کی تصویریں نہیں ہیں ، صرف ان لوگوں کی ہیں جو دستیاب ہو سکی ہیں۔ کتنی ایسی تصویریں ہیں جو کسی دور دراز دشت و دمن، کسی کوہ و کئور سے باہر نہ نکل پائیں۔ اور اگر سب تصویریں میسر ہوں تو وہ ایک احتجاجی ٹینٹ میں سما ہی نہیں سکتیں۔ شاید ایک شہر، ایک ضلع ، ڈویڑن حتیٰ کہ پورے بلوچستان میں اتنی وسعت نہ ہو۔

مگر ایک ہی مفہوم کا یہ صنم خانہ تو محض علامتی تھا ، ایک سب کی نمائندگی کرے اور سب ایک کی۔ یہ عارضی مستقل صنم خانہ اور مستقل عارضی صنم خانہ باون کروڑ چودہ لاکھ چوبیس ہزار سیکنڈ تک چلا جب تک کہ اس کا آذر ، اور پجاری اپنی مقررہ طبعی وقت پورا کر کے عدم کو چلا۔

معلوم نہیں اس پہ کوئی شاعری ہوئی یا نہیں، اس پہ کوئی مناجاتی گیت خلق ہوئے یا نہیں ، یاکسی ”کوائر “نے اسے گایا یا نہیں۔ یہ بھی نہیں معلوم کہ اس پہ کوئی افسانہ، اور ناول تحریر ہوا یا نہیں۔ یا اس یہ کوئی فلم بنی یا نہیں۔ مگر یہ سب اہم نہیں ہوتا۔ بلندی تک پہنچنے والی ارواح ایک نامعلوم انداز میں دلوں روحوں میں جگہ کر لیتی ہیں۔

اُس بزرگ سن آدمی کے دکھوں کی کیفیت و کمیت تو سدھارتھا گوتم بھی نہیں سمجھا سکتا۔ نہ اس کے دکھ کی وسعت اور گہرائی کوئی شہہ مرید ناپ سکا ہے۔

صنم خانے کے اس آذر و پجاری کا لخت جگر 2009 میں اچک لیا گیا ، اور باپ کو اس کا تشدد بھرا بے جان جسم ملا۔ وہ دن کہ اس بوڑھے آذر کی زندگی پلٹ گئی۔ وہ ٹوٹا نہیں۔ اس نے شخصی اندوہ کو اسی حالت میں گزرنے والے ہجوم کے المیے کے اندر جذب و تحلیل کر لیا۔ اس شخص کی ممتاز ترین خصوصیت تو یہ رہی کہ اسے جو سب سے بڑا المیہ درپیش ہوا ، اس نے اسے ذاتی رہنے نہ دیا۔ اس نے کمال ہنر مندی کے ساتھ اس بڑے غم کو عزم میں بدل دیا اور اسے اجتماعی آواز اور باز گشت در باز گشت میں ڈھال دیا۔

بے شمار ہم نسل گم گشتہ تھے، ان سب کی بازیابی کے لیے اس نے ایک ” بے تشدد “، ” بے آواز” اور ” بے نعرہ” دھرنا دیے رکھنے کی صورت مزاحمت شروع کردی۔ جن جن کی آنکھوں کا تارا اٹھایا جاتا اس کے اہل و عیال اس بوڑھے کی پارٹی کے گویا آٹومیٹک ممبر بن جاتے ۔ دور و قریب موجود انسانی زندگی کو قیمتی سمجھنے والے لوگ گویا اس کی سنٹرل کمیٹی تھے۔ سندھ و ہند سے لے کر ہوانا اور ہنوئی تک انسانی حقوق کے لاکھوں کروڑوں لوگ گویا اس کا لشکر تھے۔

یوں اس کی صفوں میں ایک بھی کھوٹا سکہ نہ تھا۔ سب کو غم کے بھسم کردینے والے جھکڑ چھو چکے تھے۔ سب کے دل پھپھولوں سے ریش ریش تھے۔ ہر برباد شدہ فرد، تنہا کردہ فرد ،کھوکھلا کر دہ سینوں کے ساتھ نہ جھکنے والی جد و جہد میں مصروف رہا۔ یہ مزاحمت چھیاسی لاکھ نوے ہزار چار سو منٹ تک اسی طرح چلنے کے بعد اپنا ایک فیز مکمل کرچکا جب صنم کدے کا متولی و مہتمم زندگی کی آخری ہچکی لے چکا ۔

پر تشدد اغوا اور پر تشدد قتل کے خلاف ایک ”بے تشدد “تحریک!!۔ عجب Contrast لگتا ہے ناں ؟ مگر انسپائر کر ڈالنے والی مزاحمت تھی یہ۔ حقوق کے لیے، وقار کے لیے اور برابری کے لیے۔

ایک اور بھاری کام بھی اس نے اپنے ذمے لے لیا۔ گم کردگان کے اعداد وشمار جمع کرنا۔ ایک جاری کام۔ دنوں ہفتوں میں گنتیاں بڑھتی رہیں، قنات کے اندر تصویروں کی تعداد بڑھتی رہی۔ ہم سب نے دیکھا کہ بات گنتیوں، کیلکولیشنوں کی حد سے تجاوز کر چکی تھی ۔ مگر وہ چلتن پہاڑ کی طرح مضبوط بیٹھا رہا۔

کوئٹہ اور کراچی پریس کلب کے سامنے یہ منکسر مگر جدوجہد کا انو کھا صنم خانہ انسانوں کو متاثر کرتا رہا، انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی۔ یہ خود سے مطابقت رکھنے والی نئی نئی تنظیموں کے قیام کی ترغیب بھی تھا۔ اس نے تو خود اپنی تنظیم بھی بنائی تھی اور اس کے پلیٹ فارم سے ایک طویل ، موثر اور معتبر جدو جہد کی۔اس تحریک میں شامل ہر فرد کا ذاتی اور مقامی دکھ علاقائی و قومی بنا اور پھر بین الاقوامی۔

یہ صنم خانہ ایک درسگاہ ثابت ہوا۔ کسی نے ایک حرف یا فقرہ سیکھا، کسی نے ایک چیپٹر اور پوری کتاب۔ وہیں سے مزید کونپلیں نکلیں۔ کہیں ایک نیا گروپ تشکیل پایا ، کہیں ایک پوری تنظیم منظم ہوئی اور ہوتے ہوئے ایک پوری تحریک چل پڑی۔

چنانچہ وہ ایک فرد نہ تھا۔ اس نے تو بہت سے روپ اختیار کیے۔ وہ تاریخ کا زندہ کردار بن گیا ، ایک نیا مزاحمتی Icon بن گیا۔ تاریخ کا ایک باب پرڈیہی حاکمیت کے خلاف عوامی مزاحمت کا ایک عہد بن گیا۔ آدم زادوں کو زورا زوری گم کر ڈالنے والی قوتوں کے خلاف ایک خاموش مزاحت استقامت اور حوصلہ کی علامت بن گیا۔ ایسا کبھی کبھی ہوتا ہے کہ آپ بس ایک شخص کا تصور کرلیں اور اس کی ساری شخصیت آپ کے سامنے آشکار ہوجائے ۔ یہی معاملہ یہاں بھی تھا ۔ بس آپ اس سانولے بوڑھے کا نام دل میں لائیے سامنے مزاحمت استقلال اور استقامت مسکراتا ہوا ملے گا ۔ ایک وجود جدوجہد کا استعارہ بن چکا تھا ۔ اس نے اس جبر کا سامنا کیا اور ایک لاکھ چوالیس ہزار آٹھ سو چالیس گھنٹوں تک ایک تاریخ ساز جد وجہد جاری رکھی۔ اس وقت تک جب روئے زمین پر اس کی اپنی موجودگی کا وقت پورا ہو گیا۔

اس بیچ 2013 میں اس نے اسی خاموشی میں کوئٹہ کراچی ، اور پھر کراچی اسلام آباد تک ہزاروں میل کا پیدل سفر کیا تا کہ دنیا اس کے وطن میں پیش آنے والے مظالم سے لا علم نہ رہے۔ یہ پیدل لانگ مارچ صرف بلوچستان اور ایشیا تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھرکی تاریخ میں ایک اہم تاریخی لانگ مارچ تھا۔ طویل اور مصائب بھرے اس پیدل لانگ مارچ نے چار ماہ لے لیے ۔ یہ محض فاصلوں کا سفر نہ تھا یہ تو قربانی ، ہمت اور مزاحمت کا سفر تھا ۔ وہ خواہ جس پریس کلب میں بیٹھا ہوتا، یا اس لانگ مارچ میں کسی بھی کھیت کنارے گزرتا وہ ہزاروں بلوچ خاندانوں کے کرب کو اپنے اندر سمویا ہوا انصاف کے اپنے مطالبے کا اظہار تھا۔

اسی طرح وہ 2018 میں جنیوا تک گیا جہاں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپنے وطن کی صور تحال بیان کردی۔۔

ایک اور دلچسپ مشاہدہ دیکھے۔چھ ہزار 35 دن تک یہ شخص کوئٹہ شہر کے مرکز میں روز دھرتی کے دکھ اور ماتم کا بازار سجاتا رہا ۔ توجہ کا مرکز رہا؛ دیگر ہزاروں ” ہم غم “خاندانوں کا، جمہوریت نواز لوگوں کا ، صحافیوں وزیٹروں کا اور جاسوسی نگاہوں کا۔ مگر یہ شخص کوئی بھی “بلند بانگ ” بول بول کے نہ دیا۔ ان چھ ہزار دنوں کی طویل جدوجہد میں اس نے ایک بھی نعرہ بلند نہ کیا۔ وہ ایک بار بھی نہیں چیخا، ایک بار بھی اس کے آنسو کسی نے نہ دیکھے۔۔۔ وہ بس ایک جگہ بیٹھ گیا۔

اور دیکھیے : اس کے آس پاس جھنڈے نہ تھے، بینز نہ تھے۔ ایک صبر آزما جد و جہد جس میں اس کی زبان نے خود پہ قابو پا کر ساتھ دیا۔

دو سو دو ماہ تک یہ بوڑھا ہر طرح کی سہولتوں سے محروم اس قنات میں بیٹھا رہا ۔ اُس کے اس معمول میں کبھی کوئی قضا نہ آئی ۔ شدید برفباری کے بعد چلنے والے یخ جھکڑوں نے اُس کے اس فریضے میں رخنہ ڈالنے کی جرات نہ کی ۔ نہ ہی شہر کے برے حالات اس کے احتجاجی ٹینٹ کو چھو سکے۔ تسلسل ، استقامت !!۔ وہ آنے والے دکھیوں کی سرگزشت سنتا، ان کے غم بانٹتا ،ان کے مصائب کا اندراج کرتا مگر آج تک کسی نے اس کی آنکھوں اور گفتگو میں اس بھانبڑ کی جھلک تک نہ دیکھی ، جو اس کے اپنے سینے میں شعلہ بار تھا۔ کوئی خود ترسی نہیں ، کوئی wound exhibition نہیں۔

بہادری کے لیے عام طو رپر ”سیاہ جگر“ اور ”سرخ آنکھ “والے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ میں نہایت اعتماد سے کہتا ہوں کہ یہ آدمی ان دونوں الفاظ کی حدیں پار کر چکا تھا۔ انسانیت کا یہ بہادر سپاہی !۔

قبائلی اور جاگیردار سماج میں لوگ عموماً قتل کا بدلہ قتل کو سمجھتے ہیں۔ کوئی اور طریقہ سوجھتا ہی نہیں۔ مگر یہ شخص اس روایت یہ نہیں چلا۔ اسی طرح بہت سے مقتول تحریر و تصانیف سے قتل کے پورے نظام کے خلاف عوامی شعور بڑھانے کے طویل عمل کا راستہ لے کر انتقام لیتے ہیں۔ یہ اجڑی روح کا مالک دنیا کا سب سے طویل احتجاجی کیمپ لگا کر پونے سترہ برس تک وہاں بیٹھا رہا۔ پیہم و پائیدار ایک چھوٹی قنات میں اپنے آس پاس گم کردہ لوگوں کی تصاویر ٹانگے بیٹھا رہے۔ یہی بیٹھنا اقتدار والوں کی آنکھ میں نیزہ بنا رہا۔

اس کا کیمپ رات کو کئی بار جلا دیا گیا، کئی بار اس میں غلاظت پھینکی گئی، کئی بار اسے ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی گئی۔ مگر وہ بغیر کچھ بولے بیٹھا رہا۔

کبھی کسی نے غور کیا کہ اس نے ان تصویروں والوں کے علاوہ بھی کتنے لوگوں کا انتقام لیا ؟۔ اور قتل کا بدلہ لینا کیا ہے؟ – قاتل کو بے بسی کی حد تک پہنچا کر دکھ دیے رکھنا ، اور خود کے اس عمل سے شعوری اطمینان پانا۔ یہ دو شاخہ تاثر صرف اس کے گاﺅں سوراب کے لوگوں نے نہیں بلکہ پورے بلوچستان اور ملک و بیرون کے سارے روشن فکر لوگوں نے لیا۔ بین الاقوامی طور پر اس کے اس گراں مایہ عمل کا نوٹس لیا گیا۔ سچائی ، انصاف اور احتساب کے لیے ایک غیر متزلزل صبر، وقار اور جرات۔

اور یہ صرف فاشزم کے خلاف لڑائی نہ تھی ، یہ تو بالادست قوم کی چیرہ دستیوں کو اشکار کرنے کی جدوجہد بھی تھی۔
اس کی خاموشی نے خاموشی کو توڑ ڈالا۔ کبھی کبھار اس کی دوانگلیوں سے بنایا وکٹری کا نشان اب پورے وطن میں “انکار” کا اظہار بن چکا۔

لہو لہو دل والا یہ آذر، 85 سالہ بوڑھا اور بیمار ،صنم خانے کا یہ مالک مسخ شدہ جلیل ریکی کا باپ تھا، عبدالقدیر ریکی۔۔۔ ماما قدیر۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔