سوراب کے تین رہائشی کوئٹہ سے حراست بعد لاپتہ

25

کوئٹہ کے مختلف علاقوں سے بلوچستان کے ضلع سوراب سے تعلق رکھنے والے تین افراد کی جبری گمشدگی کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ یہ تینوں افراد 23 اور 24 جنوری 2026 کو مختلف مقامات سے پاکستانی فورسز نے اغواء کیے ہیں، جس کے بعد ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

لاپتہ ہونے والوں میں ایک نوجوان ڈاکٹر، ایک طالب علم اور ایک اسکول ٹیچر شامل ہیں۔

ڈاکٹر شاہزین احمد ولد غلام حیدر، عمر تقریباً 25 سال، پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر اور ضلع سوراب کے رہائشی ہیں۔ انہیں 24 جنوری 2026 کو کوئٹہ کے علاقے گنجھ چوک، اسپنی روڈ سے اغوا کیا گیا۔

جنید احمد ولد علی احمد، عمر 22 سال، ایک طالب علم ہیں اور ان کا تعلق بھی ضلع سوراب سے ہے۔ انہیں 23 جنوری 2026 کو چلڈرن اسپتال، کواری روڈ، کوئٹہ سے اغوا کیا گیا۔

علی احمد ریکی ولد رشید احمد، عمر 40 سال، پیشے کے لحاظ سے ایک استاد ہیں اور ضلع سوراب کے رہائشی ہیں۔ انہیں بھی 24 جنوری 2026 کو گنجھ چوک، اسپنی روڈ، کوئٹہ سے اغوا کیا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق انہیں بھی کے اہلکاروں نے حراست میں لیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ کئی دن گزرنے کے باوجود ان کے بارے میں کوئی سرکاری معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ گزشتہ دو دہائیوں سے ایک سنگین انسانی حقوق کا بحران بن چکا ہے۔ خاص طور پر 2000 کے بعد سے بلوچستان میں سیاسی کارکنوں، طلبہ، اساتذہ، صحافیوں اور عام شہریوں کی گرفتاریوں اور بعد ازاں ان کے لاپتہ ہو جانے کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ان جبری گمشدگیوں نے نہ صرف ہزاروں خاندانوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کیا بلکہ پورے بلوچستان میں خوف اور بے یقینی کی فضا کو جنم دیا۔ کئی لاپتہ افراد برسوں بعد مردہ حالت میں ملے، جبکہ بعض آج تک لاپتہ ہیں۔

متاثرہ خاندانوں نے انصاف کے لیے بارہا احتجاجی مظاہرے، لانگ مارچ اور دھرنے دیے، جن میں کوئٹہ سے اسلام آباد تک طویل مارچ بھی شامل ہیں۔

انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے بلوچستان میں یہ مسئلہ اب محض انفرادی کیسز تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک اجتماعی المیہ بن چکا ہے۔