بلوچ لبریشن آرمی کی سالانہ کاروائیوں کی رپورٹ ‘دکّ’ شائع، رپورٹ میں سال 2025 میں کاروائیوں کی انفوگرافکس، تصاویر اور تفصیلات بیان کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے سال2025 ميں دشمن کو کئی محاذوں پر شکست دی۔ بی ایل اے کے مزاحمتکاروں نے قابض پاکستانی فوج، اس کے شراکت داروں، فوجی تنصیبات اور آلہ کاروں کے خلاف منظم کارروائیاں جاری رکھیں۔ بلوچ قومی آزادی کے حصول کے لیے بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے جدت اور شدت کے ساتھ قابض پاکستانی فوج اور اس کے شراکت داروں کو خصوصی آپریشنوں میں نشانہ بنایا، جبکہ کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں سرانجام دے کر بطور قوم اپنی طاقت کا اظہار کیا۔
رپورٹ کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے اس سال مجموعی طور پر دشمن پر 521 حملے کیے۔ سرمچاروں کے ان حملوں میں 1060 سے زائد دشمن فوجی اہلکاروں کو ہلاک کیا اور مختلف نوعیت کے حملوں کے نتیجے میں 556 سے زائد دشمن فوجی و آلہ کار زخمی ہوئے۔ قابض فوج کے لیے مخبری اور سہولت کاری میں ملوث 75 آلہ کاروں کو ہلاک کیا گیا، جن میں چھاپوں میں گرفتار و اعتراف جرم کے بعد بلوچ قومی عدالت سے سزائے موت پانے والے آلہ کار بھی شامل ہیں۔
“بی ایل اے کے سرمچاروں نے اس سال 15 خصوصی آپریشن کئے، ان آپریشنوں میں بی ایل اے کے خصوصی دستے مجید بریگیڈ کے چار، فتح اسکواڈ کے چھ اور اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ کے پانچ کاروائیاں شامل ہیں جس میں قابض فوج و اس کے شراکت داروں کو شدید جانی و مالی نقصانات سے دوچار ہونا پڑا۔ ان تمام خصوصی کاروائیوں میں بی ایل اے کی انٹیلی جنس ونگ ‘زراب’ نے اہم کردار ادا کیا ۔”
رپورٹ میں کہا گیا کہ اس سال مختلف نوعیت کے 212 دھماکوں میں دشمن کو نشانہ بنایا گیا جن میں ایک سو بارہ آئی ای ڈی دھماکے شامل ہیں ۔ اس سال سرمچاروں نے دشمن فوج کو شدید مالی نقصانات سےبھی دوچار کیا، حملوں میں دشمن فوج کی215 گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں ،35 کواڈ کاپٹر اور سرویلنس ڈرونز، 7 کمیونیکیشن و سرویلنس ٹاورز، 3 ریلوے ٹریکس کو تباہ کیا گیا۔
مزید کہا گیا کہ سرمچاروں نے قابض فوج و اس کے آلہ کاروں سے 208 مختلف نوعیت کے ہتھیار ضبط کیے، جبکہ 48 مقامات پر کنٹرول حاصل کیا جن میں قابض فوج کے کیمپ، پولیس و لیویز تھانے و چوکیاں اور زہری، منگچر، سوراب ، مستونگ اور پنجگور شہر شامل ہیں۔ سرمچاروں نے بلوچستان بھر کے شاہراہوں پر 42 سے زائد مقامات پر ناکہ بندیاں قائم کی اور قابض فوج کے اہلکاروں سمیت 366 آلہ کاروں کو حراست میں لیا۔
رپورٹ کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی کی مجید بریگیڈ نے 4 آپریشن سرانجام دیے، جن میں مجموعی طور پر10 فدائین نے حصہ لیا۔ مجید بریگیڈ کے فدائین نے آپریشن درہِ بولان کے حصہ دوئم کے تحت بولان میں قابض پاکستانی فوج کے سینکڑوں اہلکاروں کو لے جانے والی جعفر ایکسپریس ٹرین کو ہائی جیک کرکے اس میں سوار تمام اہلکاروں کو حراست میں رکھا جبکہ اس آپریشن کے تحت نوشکی میں قابض فوج کے اہلکاروں کو لے جانے والے بسوں کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ مجید بریگیڈ کے سرمچاروں نے تربت اور دشت میں بھی قابض فوج کے بسوں کے قافلوں کو حملوں میں نشانہ بناکر ان کی نقل و حرکت مفلوج کو کردیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے خصوصی دستوں فتح اسکواڈ اور اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ نے گیارہ آپریشن کیے۔ ان دستوں نے آپریشن درہ بولان میں اہم کردار ادا کرنے سمیت زہری اور منگچر شہروں کا کنٹرول حاصل کیا، قابض فوج کو نوشکی ، قلات اور کوئٹہ میں شدید نوعیت کے حملوں میں نشانہ بنایا جن میں دشمن کے میجر رینک کے افسران کو بھی ہلاک کیا گیا۔
دک رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں بلوچ لبریشن آرمی کے 72 جانباز سرمچار شہادت کے مرتبت پر فائز ہوئے، جن میں بی ایل اے مجید بریگیڈ کے 11 فدائین شامل ہیں، جو قابض فوج کو مہلک حملوں میں نشانہ بنا کر امر ہو گئے۔ بلوچ لبریشن آرمی دشمن افواج، ان کے شراکت داروں، تنصیبات اور آلہ کاروں کو مزید شدت کے ساتھ اس وقت تک نشانہ بناتی رہے گی جب تک دشمن بلوچستان سے مکمل انخلاء پر مجبور نہیں ہوجاتا۔
















































