سال 2025: ایک دردناک باب
تحریر: برکت مری پنجگور
دی بلوچستان پوسٹ
سال 2025 ہزاروں خواہشوں، ادھوری تمناؤں اور بے شمار مشکلات کے ساتھ غریب عوام کے لیے بدامنی، چوری، ڈکیتی، لوٹ مار، قتل و غارت، اغوا، لاشوں، حملوں، فائرنگ، بے روز گاری، تکلیف، غم، پریشانی اور خودکشیوں کی پرچھائیاں چھوڑ کر رخصت ہو گیا۔
یہ سال ایک ایسی دردناک رات ثابت ہوا جس نے ہم سے بہت کچھ چھین لیا۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق سال 2025 میں تقریباً 55 افراد قتل، اور 96 کے قریب فائرنگ سے زخمی ہوئے۔ 68 سے زائد حملے سیکیورٹی فورسز، پولیس، لیویز، تعمیراتی کمپنیوں، عام شہریوں، نادرا، پی ٹی سی ایل، چیک پوسٹوں اور شہریوں کے گھروں پر کیے گئے۔ 37 کے قریب افراد اغوا ہوئے، کئی لاپتہ ہوئے جبکہ مختلف مقامات پر دھماکے کیے گئے۔
چوری، ڈکیتی، موٹر سائیکل، گاڑیاں، نقدی اور بینکوں سمیت سینکڑوں وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔ یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو سرکاری دفاتر میں درج ہیں جبکہ بے شمار واقعات شہریوں کی مایوسی اور اداروں پر عدم اعتماد کے باعث رپورٹ ہی نہ ہو سکے۔
خستہ حال سرکاری انفراسٹرکچر اور روزگار کی تلاش میں نکلنے والے سینکڑوں شہری حادثات کا شکار ہو کر جان سے گئے، کئی عمر بھر کے لیے معذور ہوگئے۔ یوں سال 2025 ایک مایوسی، بدامنی اور بے روزگاری کی تصویر بن کر خواب کی طرح گزر گیا۔
سرکاری طور پر 2025 کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا سال قرار دیا گیا اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ ہم جدید دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں تو 1980 کا دور اس سے بہتر محسوس ہوتا ہے۔ نہ موبائل تھا، نہ ٹی وی، نہ ایپس، نہ انٹرنیٹ — مگر سکون تھا، خلوص تھا۔
ہسپتال نہیں تھے مگر حکیم، پنساری اور انسانیت تھی۔ وہ میلوں دور چل کر مریض کے پاس آتے تھے اور بیماری کا علاج ہوتا تھا۔ پرائیویٹ اسکول نہیں تھے، مگر شلٹر اسکولوں میں تعلیم تھی۔ پکے در و دیوار نہیں تھے، مگر ہمسایہ اپنے ہمسائے کی عزت کا محافظ تھا۔ غربت تھی، مگر ایک دوسرے کا خیال تھا۔ ہر گھر سے دوسرے گھر میں ایک پلیٹ سالن ضرور پہنچتی تھی۔ بڑوں کا احترام، رشتوں کا تقدس اور دلوں کا سکون تھا۔
آج موبائل ہے، ٹی وی ہے، ٹیکنالوجی ہے، ڈیجیٹل نظام ہے، اے آئی کا دور ہے مگر نہ عزت رہی، نہ رشتے، نہ سکون۔ اسکول ہیں مگر اساتذہ نہیں، ہسپتال ہیں مگر ڈاکٹر نہیں، پولیس، انتظامیہ اور عدالتیں ہیں مگر انصاف نہیں، حکمران ہیں مگر مخلص نہیں، سیاست ہے مگر خدمت نہیں۔
ہر شے ایک سوال بن چکی ہے۔ ہر نیا سال، پچھلے سال سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا جا رہا ہے۔ آخر کیوں ہم ترقی اور خوشحالی کے بجائے تقسیم اور دوریوں کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ کیوں ہم مسلسل زوال کی جانب گامزن ہیں؟ کیا ہم کسی فرشتے کے انتظار میں ہیں کہ وہ آئے اور ہمیں سیدھا راستہ دکھائے؟
نہیں!
ہمیں خود سوچنا ہوگا، خود فیصلہ کرنا ہوگا، خود راستہ بنانا ہوگا۔ آخر میں ہم بس دستِ دعا ہیں کہ اللہ تعالیٰ آنے والا سال 2026 ہر غم، ہر پریشانی، ہر مشکل، ہر بدامنی، ہر بے روزگاری اور ہر ناانصافی سے نجات کا سال بنا دے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































