ریاست کا اصل مسئلہ بلوچ مزاحمت نہیں، بلوچ شناخت ہے۔ سمی دین

94

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی رہنما سمی دین نے کہا ہے کہ ریاست بلوچ قوم کو ایک قوم کے طور پر نہیں بلکہ ایک دشمن کے طور پر دیکھتی ہے، اور یہی سوچ بلوچستان میں جاری سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بنیاد ہے۔ ان کے مطابق ریاست کا مسئلہ نہ تو محض بلوچ انسرجنسی ہے، نہ کاؤنٹر ٹیررازم، اور نہ ہی نام نہاد ناراض بلوچ، بلکہ اصل مسئلہ بلوچ کی شناخت اور وجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی سوچ کے تحت بلوچ مرد، عورتیں، نوجوان، بزرگ اور حتیٰ کہ کمسن بچوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا جا رہا ہے یا قتل کیا جا رہا ہے۔ یہ بلوچ کُش پالیسیاں خود اس حقیقت کو عیاں کرتی ہیں کہ ریاست کو بلوچ کی مزاحمت سے نہیں بلکہ اس کی شناخت سے مسئلہ ہے۔

سمی دین کے مطابق دہشت گردی اور کاؤنٹر ٹیررازم کا بیانیہ محض ایک پردہ ہے، جس کے پیچھے ریاست اپنی بلوچ دشمن پالیسیوں کو جواز فراہم کرتی ہے اور دنیا کے سامنے انہیں جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اگر واقعی یہ کارروائیاں کاؤنٹر ٹیررازم کے زمرے میں آتی ہیں تو نہتی خواتین، حاملہ عورتوں اور تیرہ سالہ بچوں کو جبری طور پر غائب کرنا آخر کس قانون اور کس منطق کے تحت درست قرار دیا جا سکتا ہے؟

انہوں نے کہا کہ جب بلوچ نسل کُشی کی بات کی جاتی ہے تو اسے جھوٹا بیانیہ قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ ایک قوم کے لیے اس سے بڑی نسل کُشی اور کیا ہو سکتی ہے کہ اسے مٹانے کے لیے تمام حدیں پار کر لی جائیں اور مرد، عورت، بزرگ اور بچے کے درمیان کوئی تمیز باقی نہ رہے۔

سمی دین نے کہا کہ دنیا میں مہذب قومیں دشمنی اور جنگ کی حالت میں بھی عورتوں اور بچوں کو الگ اور محفوظ تصور کرتی ہیں، مگر بلوچ قوم کی بدقسمتی یہ ہے کہ جس ریاست نے اسے دشمن سمجھ لیا ہے، اس کے پاس نہ تہذیب باقی رہی ہے اور نہ انسانیت۔ ملکی اور بین الاقوامی آئین و قوانین اب محض کاغذی دعوے بن کر رہ گئے ہیں، جن کا عملی طور پر کوئی وجود نہیں۔

آخر میں انہوں نے عالمی انسانی حقوق کے اداروں اور مہذب دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور بلوچ قوم کے خلاف جاری پالیسیوں کا فوری اور سنجیدہ نوٹس لیں۔