بلوچ یکجہتی کمیٹی نے جاری دو مختلف بیانات میں کہا ہےکہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ریاستی سرپرستی میں سرگرم مسلح ڈیتھ اسکواڈ کی کارروائیوں میں دو افراد کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کے بعد ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا، جن کی لاشیں بعد ازاں مختلف مقامات سے برآمد ہوئیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلع کیچ کے علاقے نوانو زامران سے تعلق رکھنے والے ملا رزاق ولد داد محمد کو 14 جنوری 2026 کو مسلح افراد نے ان کے گھر سے بغیر کسی وارنٹ یا قانونی جواز کے اغوا کیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق اغواکار ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے ڈیتھ اسکواڈ سے وابستہ تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق ملا رزاق کو اغوا کے ایک روز بعد 15 جنوری 2026 کو شدید تشدد کے بعد قتل کر دیا گیا۔ ان کی مسخ شدہ لاش بعد ازاں سمسوری کور سے برآمد ہوئی، جس پر بدترین تشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ملا رزاق ایک عام شہری تھے اور اپنے خاندان اور کے لیے ذریعہ معاش تھے۔ ان کا قتل بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے تسلسل کی ایک اور مثال ہے۔
علاوہ ازیں انہوں نے مزید کہا ہےکہ دوسرے واقعے میں ضلع آواران کے علاقے گیشکور میں ایک طبی ڈسپنسر ڈاکٹر ظریف بلوچ ولد محمد یعقوب کو 14 جنوری 2026 کی شام تقریباً 5 بجے ان کی میڈیکل اسٹور سے مسلح افراد نے اغوا کیا۔
عینی شاہدین کے مطابق مسلح افراد دن دیہاڑے کھلے عام ڈاکٹر ظریف بلوچ کو اپنے ساتھ لے گئے اور صرف دو گھنٹے بعد، شام تقریباً 7 بجے انہیں قتل کر دیا گیا۔ ان کی لاش بعد ازاں ہوتان ندی سے برآمد ہوئی، جس پر تشدد کے واضح آثار موجود تھے۔
ڈاکٹر ظریف بلوچ ایک صحت کے کارکن تھے جو مقامی آبادی کو بنیادی طبی سہولیات فراہم کر رہے تھے۔ ان کا قتل نہ صرف انسانی حقوق بلکہ طبی شعبے پر بھی براہ راست حملہ ہے۔
بیان میں کہا گیا ہےکہ دونوں واقعات بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور مکمل استثنا کی عکاسی کرتے ہیں۔ عام شہریوں، طلبہ، اساتذہ اور صحت کے کارکنوں کو نشانہ بنانا نہ صرف معاشرتی ڈھانچے کو تباہ کر رہا ہے بلکہ علاقے میں خوف، عدم تحفظ اور شدید نفسیاتی دباؤ کو بھی جنم دے رہا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان میں جاری ان سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر فوری بین الاقوامی تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
















































