امریکہ کے سابق نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے گذشتہ روز پاکستان آرمی کے ترجمان شریف چوہدری کے پریس کانفرنس پہ ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دوحہ معاہدہ صرف امریکہ اور طالبان کے درمیان تھا اور اس کا پاکستان یا افغانستان کے باہمی سیکیورٹی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
خلیل زاد نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان کے شریف چودھری نے امریکہ اور طالبان کے درمیان 2020 کے دوحہ معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ سمجھا کہ اس معاہدے میں افغانستان پاکستان تعلقات یا سیکیورٹی کے امور شامل ہیں، لیکن یہ ایک غلط فہمی ہے۔
خلیل زاد نے کہا کہ اصل میں دوحہ معاہدہ صرف امریکہ اور طالبان کے درمیان تھا اور اس کا پاکستان یا افغانستان کے باہمی سیکیورٹی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
زلمے خلیل زاد نے مزید کہا اگر افغانستان اور پاکستان ایک ایسا معاہدہ کریں جس میں دونوں ممالک یہ عہد کریں کہ وہ اپنی سرزمین کسی کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے تاکہ وہ ایک دوسرے کی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈالیں، اور اس پر تیسرے فریق کی نگرانی قبول کی جائے، تو یہ خطے میں استحکام لانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
زلمے خلیل زاد نے یہ بھی کہا کہ طالبان رہنماؤں سے حالیہ بات چیت کے دوران اشارہ ملا ہے کہ وہ اس طرح کے معاہدے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے بقول، اگر پاکستان اس تجویز پر مثبت پیش رفت کرتا ہے تو یہ دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

















































