خاران میں حملہ: حکام اور آزادی پسندوں کے متضاد دعوے، شہر کئی گھنٹے تک میدانِ جنگ بنا رہا

118

بلوچستان کے ضلع خاران میں 15 جنوری کو ہونے والے ایک بڑے اور منظم حملے کے بعد سیکیورٹی صورتِ حال بدستور کشیدہ ہے، جہاں حکومتی حکام اور بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کی جانب سے حملے کے نتائج سے متعلق متضاد دعوے سامنے آئے ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران تصدیق کی کہ خاران میں ہونے والے حملے کے دوران ونگ کمانڈر کرنل ودھان اور میجر عاصم زخمی ہوئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے دعوی کیا ہے کہ فورسز کی جوابی کارروائی میں 12 حملہ آور مارے گئے ہیں۔

تاہم سرکاری دعوؤں کے برعکس، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں پاکستانی فورسز کو بھی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، جس کی تفصیلات تاحال منظرِ عام پر نہیں لائی گئیں۔

دوسری جانب بلوچستان لبریشن فرنٹ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے سرمچاروں نے 15 جنوری بروز جمعرات دوپہر کے وقت ایک منظم کارروائی کے تحت خاران شہر میں داخل ہو کر پاکستانی فورسز کے متعدد مراکز کو نشانہ بنایا۔

بی ایل ایف کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق درجنوں گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے شہر میں داخل ہو کر خاران سٹی پولیس تھانے پر حملہ کیا اور عارضی طور پر اس کا کنٹرول سنبھال لیا۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اس دوران فورسز کے ساتھ جھڑپ ہوئی، جس کے بعد پاکستانی فورسز کے اہلکار پسپا ہو گئے۔

بیان کے مطابق حملہ آور اس کے بعد خاران کے مرکزی بازار میں داخل ہوئے، جہاں بینکوں اور دیگر اہم سرکاری اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔ بی ایل ایف کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد ریاستی اداروں کی معاشی اور انتظامی تنصیبات کو نقصان پہنچا کر انہیں مفلوج کرنا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق حملے کے دوران شہر کے کئی علاقوں میں فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

حملے کے بعد خاران اور گرد و نواح میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ حساس مقامات پر ناکے قائم ہیں۔

بی ایل ایف کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کارروائی کی تفصیلی رپورٹ جلد شائع کی جائے گی۔

بلوچستان لبریشن فرنٹ نے جاری کردہ اپنےبیان میں وزیر اعلی بلوچستان کے بیان کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔