خاران شہر کا محاصرہ،دشمن فوج کے 50 سے زائد اہلکار ہلاک، چار سرمچار شہید۔بی ایل ایف

1

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہاکہ سرمچاروں نے پندرہ جنوری کی دوپہر تقریباً 2:30 بجے تنظیمی حکمتِ عملی کے تحت منظم کارروائی کرتے ہوئے پورے خاران شہر کو کنٹرول میں لے لیا۔ کارروائی کے آغاز میں سرمچاروں کی ایک ٹیم نے خاران سٹی پولیس تھانے پر حملہ کرکے تمام اہلکاروں کو یرغمال بنایا، تھانے میں موجود تمام سرکاری اسلحہ اور عسکری سامان اپنے قبضے میں لے لیا، اور تھانے میں قید درجنوں قیدیوں کو رہا کر دیا۔ کارروائی مکمل ہونے کے بعد تھانے کی مرکزی عمارت، سرکاری ریکارڈ اور پولیس گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا۔
 
ترجمان نے کہاکہ اسی دوران سرمچاروں کے ایک اور دستے نے خاران کے مرکزی بازار میں داخل ہو کر نیشنل بینک، میزان بینک، الحبیب بینک اور دیگر اہم سرکاری مالیاتی نظام کو نشانہ بناکر دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔ بینک کے سیکیورٹی گارڈ نے سرمچاروں کی مزاحمت کیا جس کے باعث سرمچاروں نے اسے نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا۔ سرمچاروں نے بازار میں ڈیتھ اسکواڈ کے سربراہ شاہد گل ملازئی کے کارندوں پر بھی حملہ کیا جس کے نتیجے میں عبدالحکیم اور غلام حسین نامی دو اہلکار زخمی ہو گئے۔
 
انہوں نے کہاکہ سرمچاروں کی کارروائی کو تحفظ دینے کے لیے تنظیم کی ذیلی ادارے قربان یونٹ کے ایک دستے نے ریڈ زون کے مقام پر ناکہ بندی کرکے دشمن کی مدد کے لیے آنے والے تین گاڑیوں پر مشتمل فوجی قافلے پر بھاری اور جدید ہتھیاروں سے شدید حملہ کیا۔ اس حملے میں 15 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے، تینوں فوجی گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں اور سرمچاروں نے ہلاک فوجی اہلکاروں کا اسلحہ قبضے میں لے لیا۔ قربان یونٹ کے کمانڈر عبدالرازق عرف بارگ جان زخمی ہونے کے باوجود اپنی ٹیم کے ساتھ محاذ پر آخر تک ڈٹے رہے اور احسن طریقے سے اپنی ذمہ داری نبھائی۔
 
انہوں نے کہاکہ ریڈ زون میں مارے گئے اپنے ہلاک اہلکاروں کی لاشیں لینے کے لیے پیش قدمی کرنے والے ایک اور فوجی دستے کو سرمچاروں نے نشانہ بنایا۔ فوج نے بکتر بند گاڑیوں اور پیدل نفری کے ذریعے سرمچاروں کو گھیرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں سرمچاروں اور فوج کے مابین شدید نوعیت کی جھڑپ شروع ہوئی جو تین گھنٹے تک جاری رہی۔ منظم جنگی حکمتِ عملی کے تحت آمنے سامنے ہونے والی اس جھڑپ میں مزید 27 فوجی اہلکار ہلاک اور بڑی تعداد میں زخمی ہوئے، جبکہ دو بکتر بند گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ باقی بکتر بند گاڑیاں اور نفری پسپا ہوکر ہلاک اہلکاروں کی لاشیں جائے وقوعہ پر چھوڑ کر فرار ہو گئیں۔
 
ترجمان نے کہاکہ شام سات بجے خاران کے علاقے کُلان میں پاکستانی فوج کی بڑی نفری نے بکتر بند گاڑیوں اور دیگر گاڑیوں کے قافلے کی صورت میں پیش قدمی کی، جس میں ایس ایس جی کمانڈوز کی ایک بٹالین بھی شامل تھی۔ سرمچاروں کے ایک اور دستے نے بھاری اور جدید ہتھیاروں کے ساتھ انتہائی قریب سے ان پر شدید حملہ کیا جو رات ایک بجے تک جاری رہا۔ اس حملے کے نتیجے میں تین فوجی گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں، اور قافلے میں شامل درجنوں فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ ہلاک اہلکاروں میں آٹھ ایس ایس جی کمانڈوز بھی شامل تھے۔ باقی اہلکار اپنے ہلاک اور زخمی ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ سرمچاروں نے کچھ ہلاک فوجیوں کا اسلحہ اور ساز و سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
 
اس شدید جھڑپ میں قربان یونٹ کے سرمچار سنگت حفیظ عرف یاسر بلوچ آمنے سامنے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ اس معرکے میں تنظیم سے منسلک ذیلی یونٹ اسنائپر ٹیکٹیکل اسکواڈ کے سرمچاروں نے اپنی جنگی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک فوجی اسنائپر شوٹر سمیت آٹھ کواڈ کاپٹروں کو بھی نشانہ بنا کر مار گرایا۔
 
ترجمان نے کہاکہ کارروائی کے تمام اہداف مکمل کرنے کے بعد سرمچار اپنی پوزیشنیں چھوڑ کر محفوظ ٹھکانوں کی جانب روانہ ہو گئے۔ اس کے بعد فورسز نے پہاڑی علاقوں میں سرمچاروں پر فضائی حملے کیے اور ڈرون کے ذریعے دو میزائل داغے جن کے نتیجے میں کیپٹن رینک کے سرمچار مبین بلوچ عرف مُلا رحمین اور سرمچار محسن بلوچ  عرف مریدشہید ہو گئے۔ بی ایل ایف کے سرمچار اس کاروائی میں شہید ہونے والے 4 میں سے 3 شہداء کی لاشیں بحفاظت نکال کر سپرد خاک کرنے میں کامیاب ہوئے۔
 
اس نو گھنٹے کی طویل جھڑپ میں پاکستانی فوج کے وِنگ کمانڈر کرنل ودھان اور میجر عاصم سمیت بڑی تعداد میں اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ نائب صوبیدار شفقت سمیت 50 سے زائد دشمن اہلکار ہلاک ہوئے۔
 
شہید سرمچاروں پر تفصیلی بیان بعد میں شائع کیا جائے گا۔
 
آخر میں کہاکہ بلوچستان لبریشن فرنٹ دشمن کے خلاف خاران آپریشن کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ بلوچستان کی آزادی تک قابض دشمن کے عسکری، اقتصادی، مالیاتی، مواصلاتی اور حکومتی نظام پر حملے جاری رکھے گی۔