خاران: بلوچ آزادی پسندوں کا شہر پر کنٹرول، جھڑپوں میں اعلیٰ افسران زخمی

56

بلوچستان کے ضلع خاران میں جمعرات کی دوپہر مسلح افراد کے ایک بڑے اور منظم تعداد نے شہر میں داخل ہو کر پولیس تھانے، سرکاری اور بینکوں کو نشانہ بنایا۔ حملوں کے دوران پاکستانی فورسز کے ساتھ فائرنگ کا شدید تبادلہ بھی ہوا۔

مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق درجنوں مسلح افراد گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں پر سوار ہو کر دوپہر کے وقت خاران شہر میں داخل ہوئے۔ شہر میں داخل ہوتے ہی انہوں نے مختلف مقامات پر پوزیشنیں سنبھال لیں اور سب سے پہلے خاران سٹی پولیس تھانے کو نشانہ بنایا۔

مسلح افراد نے تھانے پر دھاوا بول کر اسے اپنے قبضے میں لے لیا، جہاں پولیس ریکارڈ کو نذرِ آتش کر دیا گیا جبکہ تھانے میں موجود قیدیوں کو بھی رہا کر دیا گیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے دوران پولیس کی سرکاری گاڑیوں اور دیگر سامان کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ تھانے کے اطراف اور شہر کے مختلف حصوں میں شدید فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔

اسی دوران مسلح افراد خاران کے مرکزی بازار میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے بازار کو گھیرے میں لے کر نیشنل بینک آف پاکستان، میزان بینک اور بینک الحبیب کی عمارتوں کو نقصان پہنچایا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے بازار میں موجود افراد سے بات چیت بھی کی۔

اس دوران فرنٹیئر کور (ایف سی) اور مسلح افراد کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فائرنگ کا یہ سلسلہ کچھ وقت تک جاری رہا، تاہم مسلح افراد کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد مختلف راستوں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

پاکستان آرمی کے لیفٹیننٹ کرنل ودھان، میجر عاصم اور ایک صوبیدار کے جھڑپوں کے دوران زخمی ہونے کے اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

خاران میں پیش آنے والا یہ واقعہ بلوچستان میں حالیہ مہینوں کے دوران سامنے آنے والے اسی نوعیت کے دیگر واقعات کی کڑی سمجھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ ماہ ضلع پنجگور میں بھی مسلح افراد نے شہر میں داخل ہو کر پولیس اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، جہاں محدود وقت کے لیے قبضہ جمائے رکھا۔

اسی طرح خضدار اور مستونگ میں بھی حالیہ عرصے کے دوران ایسے حملے رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں مسلح افراد نے مختصر وقت کے لیے مختلف علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد کارروائیاں مکمل کر کے علاقہ چھوڑ دیا۔

ان حملوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ رہی ہے کہ یہ دن دیہاڑے، منظم انداز میں اور نسبتاً کم وقت میں انجام دیے جاتے ہیں۔ ماضی کے ایسے واقعات کے بعد بلوچ آزادی پسند تنظیمیں ان کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہیں اور انہیں اپنی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیتی آئی ہیں۔ ان تنظیموں کا مؤقف رہا ہے کہ اس نوعیت کے حملوں کا مقصد ریاستی عمل داری کو چیلنج کرنا اور یہ پیغام دینا ہے کہ وہ مخصوص علاقوں میں کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سکیورٹی امور کے بعض تجزیہ کاروں کے مطابق خاران، پنجگور، خضدار اور مستونگ جیسے علاقوں میں بار بار اس نوعیت کے واقعات کا پیش آنا فورسز اور ضلعی انتظامیہ کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ فورسز بڑے پیمانے پر موجود ہیں، تاہم مسلح افراد کا شہر میں داخل ہو کر کارروائیاں کرنا اور بغیر کسی بڑی مزاحمت کے فرار ہو جانا، انٹیلی جنس اور بروقت ردِعمل پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔

دوسری جانب بلوچ آزادی پسند حلقے ان واقعات کو اپنی کامیابی قرار دیتے ہوئے یہ مؤقف اپناتے ہیں کہ ایسے حملے فورسز کی ناکامی اور مقامی سطح پر ریاستی گرفت کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں نہ صرف علامتی نوعیت کی ہوتی ہیں بلکہ اس بات کا اظہار بھی ہیں کہ وہ اپنی موجودگی اور اثرورسوخ برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔