حق حکمرانی (self rule) سے انکار کیوں؟ – بھار خان بلوچ

26

حق حکمرانی (self rule) سے انکار کیوں؟

تحریر: بھار خان بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

1948 سے بلوچستان پر پنجاب کا قبضہ ہے۔ 27 مارچ 1948 کو خان میر احمد یار خان سے گن پوائنٹ پر بلوچستان کا پاکستان کے ساتھ الحاق کے معاہدے پر دستخط لیے گئے تھے۔ اس کے باوجود ہمارے بزرگوں میر غوث بخش بزنجو، سردار عطااللہ مینگل، بابا خیر بخش مری اور شہید نواب محمد اکبر خان بگٹی نے برابری، جمہوری اور معاشی حقوق کی خاطر پرامن جدوجہد کی۔ لیکن اشرافیہ نے حقوق دینے کی بجائے انہیں غدار کہا، جیلوں میں ڈالا، بار بار طاقت کا استعمال کیا اور بلوچ عوام کو محروم رکھا۔ دوسرے صوبوں میں صاف شفاف انتخابات ہوتے ہیں اور جمہوری حکومتیں بنتی ہیں لیکن بلوچستان کے عوام جمہوریت کے ثمرات سے گزشتہ 80 سال سے محروم چلے آ رہے ہیں۔ حکمران پنجابی اشرافیہ، عسکری قیادت، ان کی خفیہ اداروں، سول بیوروکریسی اور بدعنوان سیاسی قیادت پر مشتمل ہے۔ عسکری قیادت ملک کی بالادستی اور حکمران طاقت ہے۔ ان کا تعلق سینٹرل پنجاب سے ہے۔ شروع میں انڈین مہاجر نے ان کا ساتھ دیا اور جھوٹے بیانیے گھڑ کر اسلامی لبادہ پہنایا۔ جیسے اردو کو اسلامی اور قومی زبان قرار دیا، بنگالی زبان کو کافروں کی زبان کہا گیا۔ اس اشرافیہ نے 25 سال تک بنگالیوں کو حقوق دینے سے انکار کیا، ان کے خلاف ون یونٹ اور پیریٹی کے قوانین بنائے، آخر کار ملک توڑا لیکن اقتدار میں بنگالیوں کی شرکت قبول نہیں کی۔ پشتونوں پر لمبی جنگیں مسلط کیں۔ افغان جنگ کے نام پر خوب ڈالر کمائے۔ سندھیوں سے ان کے شہر چھینے اور انہیں سندھ میں اقلیت بنایا، اب ان سے سندھو دریا بھی چھین رہے ہیں۔ بلوچستان ابتدا سے ان کا مقبوضہ ہے۔

78 سالہ طویل تاریخ میں اسٹیبلشمنٹ تین بار بری طرح مشکلات سے دوچار ہوئی جب انہوں نے مجبوراً بلوچستان میں مختصر وقفوں کے لیے جمہوری حکومتیں برداشت کیں۔ یہ مدت ملا کر تقریباً تین سال بنتی ہے۔ پہلی بار 1971 میں بنگلہ دیش بننے کے بعد نیشنل عوامی پارٹی (NAP) کی حکومت بنی جس کے وزیراعلیٰ سردار عطا اللہ مینگل تھے۔ یہ حکومت 9 ماہ تک رہی پھر نیپ پر پابندی لگا دی گئی۔ اس کی بلوچ پشتون قیادت پر غداری کا مقدمہ حیدرآباد جیل میں چلایا گیا اور بلوچستان پر فوجی آپریشن کا آغاز ہوا۔ سردار مینگل کا بیٹا اسداللہ مینگل اور اس کا ساتھی احمد شاہ کرد اغوا ہوئے اور آج تک ان کی قبریں بھی نہ مل سکیں۔ اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے حیدرآباد ٹریبونل کے سامنے بیان دیا کہ ’’میں ان غداروں کو کبھی اقتدار نہ دیتا اگر بنگلہ دیش کی وجہ سے پاکستان کے حالات اتنے خراب نہ ہوتے۔‘‘

شاہ ایران نے نیپ حکومت گرانے اور فوجی آپریشن کے لیے کوبرا ہیلی کاپٹر بمع پائلٹ اور 320 ملین ڈالر پاکستان کو دیے۔ 1977 میں جنرل ضیاءالحق کے مارشل لا کے بعد نیپ کی لیڈرشپ کو رہائی ملی اور بلوچستان میں آپریشن بند ہوا۔ دوسری بار 1988 میں مشکل پیش آئی جب جنرل ضیاءالحق کے طیارے کا حادثہ ہوا جس میں ضیاءالحق کے علاوہ کئی جنرلز اور امریکی سفیر رافیئل جان بحق ہوئے تھے۔ طویل مارشل لا کے بعد الیکشن ہوئے اور صوبے میں بلوچستان نیشنل الائنس (BNA) کی حکومت بنی۔ نواب محمد اکبر خان بگٹی وزیراعلیٰ ہوئے۔ تقریباً ڈیڑھ سال بعد اسمبلیاں توڑ دی گئیں اور نئے الیکشن ہوئے۔ نواب بگٹی کی جمہوری وطن پارٹی اکثریتی پارٹی تھی لیکن ان کی حکومت بننے نہ دی گئی۔

ان دنوں نواب کے خلاف خفیہ ادارے بہت فعال تھے۔ نواب صاحب کا چھوٹا بیٹا صلال اکبر بگٹی کو شہید کیا گیا۔ نواب اپنے گھر ڈیرہ بگٹی تک محدود ہوئے۔ پھر ان کے گھر پر فورسز نے راکٹ پھینکے، نواب نے پہاڑوں میں پناہ لی۔ آخر کار ضلع کوہلو ’’ترا تانی‘‘ کے مقام پر انہیں شہید کیا گیا۔ نواب کی میت ورثاء کو نہیں دی گئی۔ ان کے تابوت پر دو بڑے تالے لگا کر انہیں سرکاری سرپرستی میں دفنایا گیا۔

تیسری مجبوری بلوچستان میں ’’راس کوہ‘‘ کے مقام پر 1998 میں ایٹمی دھماکے کرنا تھی۔ سردار اختر مینگل وزیراعلیٰ بلوچستان تھے۔ سردار نے مقتدرہ کو خوش کرنے کی بہت کوشش کی، ایٹمی دھماکوں کے مقام پر اور کوئٹہ میں وزیراعظم نواز شریف کے گاڑی کی ڈرائیونگ کی۔ دھماکے کرتے وقت بی این پی کے کارکنوں سے راس کوہ میں دھماکوں کے حق میں نعرے لگوائے۔ اس کے باوجود سردار صاحب کی حکومت نہ بچ پائی۔ ان پر دہشت گردی کا مقدمہ قائم کیا گیا۔ سردار اختر کے مطابق جس رات انہیں بیلہ سے گرفتار کر کے کراچی لے جایا جا رہا تھا ان کی آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھ دی گئی، اس رات انہیں مارنے کا فیصلہ ہو چکا تھا لیکن قدرت نے اسے بچا لیا۔

نیپ کی نو ماہ کی حکومت نے عوام کے حق میں قانون سازی کی جس کا فائدہ آج بھی انہیں ہو رہا ہے اور بلوچ عوام اسے اپنی حکومت کہتے تھے۔ نواب بگٹی نے تاریخ میں پہلی بار صوبے کی بڑی زبانوں بلوچی، براہوئی اور پشتو کو تعلیمی زبان قرار دیا۔ مادری زبانوں میں تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا۔ نواب کے بعد یہ پروگرام روک دیا گیا جو آج تک روکا ہوا ہے، لگتا ہے اس عمل سے بھی نواب صاحب کی حب الوطنی حکمرانوں کے نظر میں مشکوک ہوئی۔ سردار اختر مینگل نے عدالت روڈ پر بلوچی اکیڈمی کی بلڈنگ تعمیر کرانے کی منظوری دی۔ ان جمہوری حکومتوں کا بلوچستان کے عوام کو فائدہ ہوا لیکن آپریشنز کی صورت میں بڑی قیمت چکانی پڑی۔ ان کے علاوہ دوسری تمام حکومتیں اسلام آباد، پنڈی کی کھٹ پتلیاں تھیں، ہیں اور یقین ہے کہ آئندہ بھی ایسی ہی کھٹ پتلیاں ہوں گی۔

جو بات بلوچ عوام کے لیے سوچنے اور سمجھنے کی ہے اور سب سے اہم ہے وہ یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے 78 سال سے بلوچ عوام کو ’’حق حکمرانی‘‘ (self governance) سے کیوں محروم رکھا ہوا ہے؟ اور اس غلامی سے نجات کیسے ممکن ہے؟ حق حکمرانی سے محرومی کی دو بنیادی وجوہات ہیں: پہلی وجہ بلوچ ساحل اور وسائل اور دوسری وجہ بلوچستان پر جبری قبضہ ہے۔

(1) ساحل اور وسائل کی لوٹ مار:
بلوچستان میں وسیع معدنی توانائی کے ذخائر پائے جاتے ہیں اور اس کی ایک طویل ساحلی پٹی ہے جہاں گوادر سمیت پانچ بندرگاہیں ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ساحل اور وسائل پر بلوچ ملکیت سے مکمل انکار کرتا ہے۔ بلوچوں کی مرضی اور مشورے کے بغیر ساحل اور وسائل کو اپنی تصرف میں لے رہا ہے۔ وسائل ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ’’اونے پونے‘‘ دام بیچ رہا ہے۔ یہ تمام معاہدے بلوچوں سے خفیہ ہیں۔ بلوچوں کو ان ذخائر کی نیلامی سے ذرا برابر فائدہ نہیں ہو رہا۔ اٹھارہویں ترمیم کو لائے ہوئے پندرہ سال ہو گئے لیکن اس کے ایک جزو پر بھی ابھی تک عمل نہیں ہوا۔ مائنز اینڈ منرلز کا شعبہ صوبائی سبجیکٹ تھا لیکن حکمرانوں نے اپنے پپٹس (puppets) نمائندوں کے ذریعے اسے مرکز کے حوالے کر دیا۔ اسی لیے اسٹیبلشمنٹ بلوچستان میں حقیقی عوامی نمائندوں کو کبھی بھی برداشت نہیں کرے گی۔ چند ذخائر کی لوٹ مار کی مختصر تفصیل یوں ہے:

  • ڈیرہ بگٹی کے علاقہ سوئی سے قدرتی گیس 1954 میں دریافت ہوئی۔ بیس سال تک یہ گیس دوسرے صوبوں میں اینٹوں کے بھٹوں سے لے کر صنعتوں، فرٹیلائزرز، گھریلو ضروریات اور بجلی پیدا کرنے تک برائے نام (nominal) قیمت پر استعمال ہوتی رہی اور ان صوبوں کے انفراسٹرکچر کی تعمیر ہوئی اور لوگوں کی زندگی میں بہتری آئی۔ بلوچستان میں یہ گیس 1982-83 میں کوئٹہ پہنچی۔ ماہر معیشت قیصر بنگالی نے اپنی کتاب ’’کرائی فار جسٹس‘‘ (Cry For Justice) میں بتایا کہ گیس کی دریافت سے لے کر 2014 تک بلوچستان کے حصے کے 7 ٹریلین (70 کھرب) روپے دوسرے صوبوں پر خرچ کیے گئے۔ ضلض ڈیرہ بگٹی آج بھی ملک کے پسماندہ ترین اضلاع کے آخر میں آتا ہے۔ حال ہی میں ڈیرہ بگٹی سے ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک بگٹی بلوچ بتا رہا تھا کہ اس نے اپنا نو مولود بچہ 40 ہزار روپے میں بیچا۔ اس کے مطابق اس کا بچہ آپریشن سے پیدا ہوا اور ڈاکٹر کی فیس 40 ہزار روپے تھی جو اس نے کسی سے ادھار لی تھی اور وہ اس رقم کی واپسی کی سکت نہیں رکھتا۔ اس لیے اس نے اپنا نو مولود بیٹا بیچا۔

  • سیندک کاپر گولڈ مائنز میں ایک چینی کمپنی 2002 سے کام کر رہی ہے۔ ٹی ٹی ہین کمپنی کے مطابق وہاں سے سالانہ 1.5 ٹن سونا، 2.8 ٹن چاندی اور 158000 ٹن تانبا نکالا جا رہا ہے جس میں چین کا حصہ 50%، مرکزی حکومت کا 48% اور بلوچستان کا حصہ 2% ہے۔

  • گوادر بندرگاہ چین کو 50 سال کے لیے دی گئی۔ پورٹ ریونیو کا 91% چین، 9% مرکزی حکومت اور بلوچستان کا حصہ صفر ہے۔ پھر بھی یہ پروپیگنڈا مسلسل ہو رہا ہے کہ گوادر بلوچستان کے لیے گیم چینجر ہے۔

  • ریکو ڈک مائنز کا شمار دنیا کے 5 بڑے کاپر گولڈ مائنز میں ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس کا کل تخمینہ 5.9 بلین ٹن ہے جو ایک ٹریلین تک جا سکتا ہے۔ اس کے 50% شیئرز کینیڈا کی کمپنی بیرک گولڈ کو سزا بقہ جرمانے، قرضوں کی ادائیگی اور مائننگ کے لیے دیے گئے۔ اور کچھ شیئرز سعودیوں کو ایڈوانس پیمنٹ لے کر دیے گئے۔ بلوچستان کو 25% شیئرز دینے کی بات ہوئی۔ یہ معاہدے کرتے وقت مائنز اینڈ منرلز کا پورا شعبہ صوبے سے لے کر مرکز کے حوالے کیا گیا۔ یہ آئینی ترمیم ایک ہفتہ میں مکمل کی گئی کیونکہ اس کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ تھی۔

(2) بلوچستان پر جبری قبضہ:
محکومی کی دوسری وجہ 1948 میں بلوچستان پر جبری قبضہ ہے جو بھوت بن کر حکمرانوں کے سروں پر منڈلا رہا ہے۔ امریکی مصنف سیلگ ہیریسن نے اپنی مشہور کتاب ’’بلوچ قوم دوستی افغانستان کے سائے میں‘‘ میں یہ انکشاف کیا کہ اسے ایران کے بادشاہ ظاہر شاہ کے وزیر خارجہ محمود خلعت باری نے جو سینٹو کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہے تھے، اپنے انٹرویو میں بتایا کہ ’’سیٹو کے اجلاسوں میں ہم ہمیشہ سوچ بچار کرتے کہ بلوچوں کو سیاسی طور پر کمزور، غیر متحد اور ممکنہ حد تک پسماندہ کیسے رکھا جا سکتا ہے۔ میرے پوچھنے پر کہ آپ انہیں کیوں اس حالت میں رکھنا چاہتے ہیں اس نے بتایا ہمیں خوف ہے کہ بلوچ کسی نہ کسی دن سوویت روس کی مدد سے اپنی آزاد ریاست کے لیے جدوجہد کر سکتے ہیں۔‘‘ (انگلش ایڈیشن صفحہ 159)۔ یاد رہے، سینٹو پیکٹ میں پاکستان، ایران اور ترکی شامل تھے۔ لگتا ہے بلوچ کے بارے ایران اور پاکستان کے حکمرانوں میں آج بھی شاہ کے دور کی سوچ حسب سابق موجود ہے۔ سوویت روس نہ رہا، بادشاہت ختم ہو گئی، دنیا بدل گئی لیکن قبضہ گیری والی مائنڈ سیٹ آج بھی برقرار ہے۔

بلوچستان میں غربت اور پسماندگی:
بلوچستان کو قدرت نے ہر لحاظ سے نوازا۔ 900 کلومیٹر سمندری پٹی کے علاوہ ہر قسم کی معدنی ذخائر، تیل اور گیس سے مالا مال ہے۔ اس کے باوجود بلوچ عوام قسم پرستی کی زندگی گزار رہے ہیں اور دو وقت کی روٹی کے محتاج ہیں۔ ان کے بچے سونے چاندی پر ننگے پاؤں پھرتے ہیں۔ بلوچوں کی 80% سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ بلوچستان میں ماں بچے کی غذائی قلت کے سبب پانچ سال سے کم عمر 70% بچوں کا قد عمر کے لحاظ سے چھوٹا ہے، جو تمام عمر چھوٹا ہی رہتا ہے جو ان بچوں کی ذہنی نشوونما پر گہرے منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ میڈیکل کی زبان میں اسے سٹنٹڈ گروتھ (stunted growth) کہا جاتا ہے۔ تقریباً 50% مائیں اور بچیاں خون کی کمی (anemia) کا شکار ہیں۔ اس کی وجہ مناسب خوراک اور بنیادی طبی امداد کا نہ ہونا ہے۔ 16% بچے شدید غذائی قلت (kwashiorkor) میں مبتلا ہیں۔ زچگی کے وقت ماں بچے کی اموات کی شرح دوسرے صوبوں سے کہیں زیادہ ہے۔ تعلیمی میدان میں ہائر ایجوکیشن کمیشن سے بلوچستان کے تمام یونیورسٹیوں کو ملا کر جو فنڈ ملتا ہے وہ اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی ’’نیسٹ‘‘ کے آدھے گرانٹ سے بھی کم ہے۔ خواندگی کی شرح لڑکوں میں 29% اور لڑکیوں میں 17% ہے جو افسوسناک ہے۔ قیصر بنگالی اپنی مدرجہ بالا کتاب میں لکھتے ہیں بلوچستان میں پسماندگی کم ہونے کی بجائے مزید بڑھتی جا رہی ہے۔

ان ناانصافیوں پر جب بلوچ عوام احتجاج کرتے ہیں تو انہیں ملک دشمن انڈین ایجنٹ قرار دے کر بے رحمی سے کچلا جاتا ہے۔ ریاستی ادارے جیسے عدلیہ، انتظامیہ، مقننہ اور میڈیا احتجاجوں کو کچلنے اور بلوچوں کو دبائے رکھنے کے ہر عمل میں ہمیشہ متحد ہوتے ہیں۔

بلوچستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے سیکیورٹی اداروں کے ہاتھوں اغوا، تشدد، ماورائے عدالت قتل (extrajudicial killings) کا ایک گھناونا کھیل بے خوفی سے جاری ہے۔ اب تو مسلح تنظیموں کے ساتھ جھڑپوں میں مارے جانے والوں کا بدلہ بھی مسنگ پرسنز کی لاشیں پھینک کر لیا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسا دردناک کھیل ہے جس کی مثال دنیا میں اور کہیں نہیں ملتی۔ لواحقین اپنے پیاروں کے غم میں نہ جیتے ہیں اور نہ مرتے ہیں۔ جب لاوارث لاشوں کو کوئٹہ کے ہسپتالوں میں لایا جاتا ہے تو اکثر اوقات لواحقین کو ان کی شناخت نہیں کرنے دی جاتی۔ انہیں رات کے اندھیرے میں کسی قبرستان میں دفنا دیا جاتا ہے۔ اگر ریاست لاشیں ورثاء کو نہیں دکھانی تو ہسپتال میں لائے بغیر انہیں کہیں بھی دفنایا جا سکتا ہے۔ لیکن لاشیں ہسپتال لاکر مزید سوگ، خوف اور دہشت پھیلانا مقصد ہوتا ہے۔ ماہرنگ بلوچ کی گرفتاری سے ایک دن قبل رات کے اندھیرے میں جن 15 لاشوں کو کانسی قبرستان میں دفنایا گیا تھا، سول ہسپتال میں لواحقین کی کوششوں کے باوجود انہیں لاشیں نہیں دکھائی گئیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے مطابق لاشوں کو ایدھی ٹرسٹ والوں نے دفنایا، قبروں پر نمبر لگائے، ڈی این اے (DNA) کے لیے سیمپل لیے۔ یہ مکمل جھوٹ تھا، بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق قبروں پر نمبر پلیٹ نہیں لگے تھے۔ ایدھی والوں کے مطابق انہوں نے ان لاشوں کو نہیں دفنایا۔

وزیراعلیٰ کہتے ہیں لواحقین سڑکیں بند نہ کریں، دھرنے نہ دیں۔ جب بے رحم درندہ صفت اداروں کے لوگ آدھی رات ماں سے ان کے بچے چھین کر لے جائیں، ٹارچر کریں اور ان کی لاشیں پھینکیں، ایسی صورت میں سخت سردی ہو یا گرمی، سڑکوں چوراہوں پر دھرنوں کے علاوہ ان ماں اور بہنوں کے پاس کوئی اور متبادل (option) کیا بچا ہو؟ وہ دہائیوں سے یہی کر رہے ہیں۔ یہ اختیار ان سے چھین لینا انہیں زندہ درگور کرنے کے مترادف ہوگا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی:
جب سے ’’بلوچ یکجہتی کمیٹی‘‘ سامنے آئی اس کی بہادر لیڈرشپ نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی قیادت میں بلوچ نسل کشی، ماورائے عدالت قتل اور مسنگ پرسنز کے مسئلے کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پہلی بار میڈیا سے اجاگر کیا اور بلوچ عوام پر گزشتہ دو دہائیوں سے ہونے والے ریاستی ظلم کو بے نقاب کیا۔ بی وائی سی کا مشن مسنگ پرسنز کو بازیابی اور انہیں عدالتوں کے سامنے پیش کرنے تک محدود ہے۔ تاکہ عدالتیں فیصلہ کریں کہ کون گناہگار اور کون بے گناہ ہے۔ مزید یہ کہ جو لوگ حراست کے دوران مر گئے ان کی قبریں ورثاء کو دکھانا ہے تاکہ ان کی تسلی ہو کہ ان کے پیارے اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ بی وائی سی کا مطالبہ قانون اور آئین کے مطابق اور سو فیصد حق بجانب ہے۔ بی وائی سی ریاست کی ان غیر قانونی اور غیر آئینی ہتھکنڈوں کے خلاف پروٹیسٹ کر رہی ہے جو صوبے کی تباہی کا سبب ہیں۔ عالمی اور ملکی سطح پر اس کا مثبت ردعمل سامنے آیا۔ عوام میں اتنی پذیرائی کے باوجود ریاستی اداروں نے بی وائی سی کے رہنماؤں کو سننے اور مسنگ پرسنز کے مسئلے پر بات چیت کی بجائے گھبراہٹ میں کہ کہیں انہیں بین الاقوامی عدالت انصاف اور انسانی حقوق کے اداروں کے سامنے جوابدہ نہ ہونا پڑے، 22 مارچ 2025 کو بی وائی سی پر کریک ڈاؤن کیا۔ دھرنے پر گولی چلائی گئی، تین کاکن موقع پر شہید ہوئے اور دس سے زیادہ زخمی ہوئے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت بی وائی سی کے 300 رہنماؤں اور کارکنوں پر جھوٹے الزامات لگا کر انہیں جیل میں بند کر دیا۔ بی وائی سی اور اس کی لیڈرشپ بلوچ عوام کے دلوں کی دھڑکن ہے، ایک سوچ ہے، نظریہ ہے، خوشبو ہے جو ہر سو بلوچ عوام تک پھیل چکی ہے۔ اسے ختم کرنا اب حکمرانوں کے بس میں نہیں۔ اسلام آباد لانگ مارچ کے بعد بی وائی سی کی مخلصی بلوچ عوام پر واضح ہو گئی، وہ سمجھ گئے کہ یہ لوگ مخلص ہیں۔ ایک دانشور ڈاکٹر حفیظ جمالی کے خیال میں بلوچ عوام قومی لحاظ سے ٹرامیٹائزڈ (traumatised) ہیں۔ مشہور وکیل علی احمد کرد نے کہا ’’میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ بی وائی سی کے گوادر جلسے میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی۔‘‘ ایک ٹی وی اینکر محمد مالک نے اپنے پروگرام میں حیرانگی سے پوچھا ’’بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے، گوادر میں اتنی لوگ کہاں سے آ گئے؟‘‘

بہت دیر بعد اب بلوچ اس حقیقت سے آگاہ ہوئے کہ بلوچستان پنجاب کی ایک کالونی ہے۔ پاکستان نہ جمہوری نہ فلاحی اور نہ اسلامی ریاست ہے بلکہ ایک فوجی ریاست ہے۔ اگرچہ ایک آئین ہے لیکن اس پر کبھی عمل نہیں ہوا، اور نہ آئندہ کوئی امید ہے کہ اس پر عمل ہوگا۔ بلوچستان میں نہ کبھی جمہوریت تھی، نہ ہے اور نہ آئندہ اس کی کوئی امید ہے۔ بلوچوں کو 77 سالوں سے جو سیاسی، معاشی اور جمہوری حقوق نہ مل سکے وہ مزید انتظار سے بھی نہیں ملیں گے۔ جو کہتے ہیں کہ پرامن جمہوری جدوجہد سے حقوق مل جائیں گے وہ اپنے مفاد کی خاطر بلوچوں سے غلط بیانی کر رہے ہیں اور بلوچوں کے مجرم ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ بلوچستان میں بلوچوں کو اقلیت میں تبدیل کر کے ان کے ساحل و وسائل پر دائمی قبضے پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔ بلوچستان ایک مقبوضہ علاقہ ہے، دوسرے مقبوضہ علاقوں کی طرح یہاں بھی آئین اور قانون کا اطلاق نہیں ہو رہا۔ اب بلوچوں نے تہہ کیا کہ مزید غلامی کسی بھی شکل میں منظور نہیں ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔