حب: پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ خواتین کے لواحقین کا احتجاج

1

جبری گمشدگی کا شکار نسرین بلوچ، ہانی بلوچ، خیرالنساء بلوچ، فاطمہ بلوچ، فرید بلوچ اور مجاہد بلوچ کے لواحقین نے آج ان کی بازیابی کے لیے لسبیلہ پریس کلب حب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

اس موقع پر مظاہرین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنانے کے عمل نے انہیں شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ پاکستانی فورسز پہلے ہمارے نوجوانوں کو ماورائے عدالت اٹھا کر لاپتہ کرتی تھیں، اب ہماری خواتین — جن میں کم عمر لڑکیاں اور حاملہ خواتین بھی شامل ہیں — کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر ان خواتین سے ایسا کون سا جرم سرزد ہوا ہے کہ انہیں اس طرح اٹھا کر لاپتہ کر دیا گیا؟ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو ملک میں عدالتیں موجود ہیں، انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ کسی کو جبری طور پر لاپتہ کرنا نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ ایک غیر قانونی اور غیر آئینی عمل بھی ہے۔ ایسے اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ یہ خواتین بے گناہ ہیں۔

لواحقین نے بتایا کہ انہوں نے جبری گمشدگی کے خلاف پولیس تھانے میں ایف آئی آر درج کروانے کی درخواست دی، تاہم ایس ایچ او درخواست وصول کرنے سے انکاری ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ کیسا انصاف ہے؟ اسی مجبوری کے تحت ہمیں احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے اور بتایا جائے کہ ان کی خواتین کہاں اور کس حالت میں ہیں۔ اگر ہماری خواتین کو جلد بازیاب نہ کیا گیا تو ہم سخت احتجاج پر مجبور ہوں گے۔

آخر میں مظاہرین نے انسانی حقوق کی قومی و بین الاقوامی تنظیموں سے پرزور اپیل کی کہ وہ ان لاپتہ خواتین کی بازیابی کے لیے فوری کردار ادا کریں۔

اس موقع پر بی وائی سی کی رہنما فوزیہ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگیوں نے ایک نہایت سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے۔ خواتین کو لاپتہ کر کے حکمران طبقہ بلوچستان میں خوف و ہراس پھیلانا چاہتا ہے اور دراصل قومی فکر اور سماجی شعور کو دبانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں آئے روز لوگ لاپتہ کیے جا رہے ہیں۔ کبھی خواتین کو سڑکوں پر گھسیٹ کر تذلیل کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور کبھی انہیں لاپتہ کر کے بلوچ قوم کی عزت و غیرت سے کھلواڑ کیا جاتا ہے۔ یہ ریاست خود کو اسلامی جمہوریہ کہتی ہے، مگر یہاں نہ اسلام کی اقدار نظر آتی ہیں اور نہ جمہوریت۔ یہاں اسلامی روایات کو پامال کیا جا رہا ہے، جمہوریت کے نام پر آمریت مسلط ہے اور انصاف نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔

فوزیہ بلوچ نے کہا کہ بی وائی سی جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے اور ظلم، جبر اور استبداد کے خلاف، نیز بلوچستان میں سیاسی و قومی شعور اجاگر کرنے کے لیے ہر محاذ پر اپنی پرامن جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔