بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے جی پلس اسٹیٹس کے خلاف بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کی مہم کے ردعمل میں پاکستانی فوج نے بی این ایم کی قیادت کے خلاف ایک بے بنیاد پروپیگنڈا مہم شروع کر دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف پاکستانی فوج بلوچ قوم کے خلاف ریاستی طاقت کے ناجائز استعمال کے ذریعے انسانیت کے خلاف سنگین جرائم میں براہِ راست ملوث ہے، جبکہ دوسری طرف نام نہاد ففتھ جنریشن وار فیئر اور میڈیا ٹرائلز کے تحت میڈیا کے ذریعے جھوٹ اور گمراہ کن معلومات پھیلا رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس پروپیگنڈے کا مقصد صرف بلوچ تحریک کے بارے میں سوشل میڈیا پر منفی رائے پیدا کرنا ہی نہیں بلکہ ملک کے اندر اور بیرونِ ملک پرامن سیاسی کارکنان کے لیے سنگین اور حقیقی مشکلات پیدا کرنا بھی ہے۔ دنیا اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ پاکستانی فوج کے ایجنٹس ہمسایہ ممالک اور مغربی ملکوں میں اپنے سیاسی مخالفین، جن میں بی این ایم کے ارکان اور ساتھی بھی شامل ہیں، کے خلاف سنگین جرائم حتیٰ کہ قتل کی کوشش اور قتل میں بھی ملوث رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کو عالمی سطح پر ایک پرامن سیاسی جماعت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسی بنا پر بی این ایم کو بلوچ قوم کی نمائندگی کے لیے عالمی فورمز پر ہمیشہ مدعو کیا جاتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بی این ایم کے قائد ڈاکٹر نسیم بلوچ، جن پر ڈی جی آئی ایس پی آر مسلح سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے جھوٹے الزامات عائد کر رہے ہیں، بلوچ قوم کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے رہنما ہیں اور پرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے بلوچستان کی آزادی کے داعی ہیں۔ ہم ان کے خلاف اس جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک منظم سیاسی جماعت کے طور پر بی این ایم بلوچ قوم کی فلاح و تحفظ کے لیے زندگی کے تمام شعبوں میں ادارہ جاتی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔ بلوچستان میں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال کے پیشِ نظر بی این ایم نے پانک کی بنیاد رکھی، جو بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر روزانہ رپورٹس شائع کرتا ہے، جن میں جبری گمشدگیاں سرفہرست ہیں۔ مختصر مدت میں پانک نے، بی این ایم کے دیگر اداروں کی طرح، مخلص کارکنان کی انتھک محنت کے باعث عالمی سطح پر شناخت حاصل کی ہے۔ دنیا پانک کی رپورٹس پر اعتماد کرتی ہے اور یہی ساکھ پاکستانی فوج کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اسی وجہ سے پاکستانی فوج نے پانک کے کوآرڈینیٹر کو نشانہ بنایا تاکہ اس ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ تاہم ایک ایسی فوج کی جانب سے لگائے گئے الزامات، جو عملاً ایک جرائم پیشہ گروہ میں تبدیل ہو چکی ہو، کو عالمی برادری کبھی سنجیدگی سے نہیں لیتی۔ وقتی مفادات کے تحت دنیا کی خاموشی پاکستان کے لیے مستقل کلین چِٹ نہیں ہے۔ جلد یا بدیر پاکستانی ریاست اور اس کی جرائم پیشہ فوج کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ اور پانک کے کوآرڈینیٹر جمال بلوچ، دونوں خود پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار رہ چکے ہیں۔ وہ صرف اس انسانیت سوز جرم پر بات ہی نہیں کرتے بلکہ اس اذیت کو بھی بھگت چکے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ بی این ایم کے یہ رہنما بلوچ قوم کے خلاف پاکستان کے جرائم کو بے نقاب کرنے کی ایک مؤثر عالمی سفارتی مہم کا حصہ ہیں، جس میں خاص طور پر پاکستان کے جی پلس اسٹیٹس کو موضوع بنایا گیا ہے، جس کے ذریعے پاکستان کو ہر سال بھاری مالی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ پاکستان کی جی پلس مراعات اور مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔ اسی مضبوط مؤقف کے ساتھ بی این ایم یورپ بھر میں ایک بھرپور مہم چلا رہی ہے۔ اسی مہم کے مؤثر ہونے کے بعد اچانک پاکستانی فوج اور ریاستی اداروں نے بی این ایم کے خلاف اپنا پروپیگنڈا تیز کر دیا تاکہ اس عمل کو سبوتاژ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ یورپی اداروں کو اب اس حقیقت کو بہتر طور پر سمجھنا چاہیے کہ پاکستان صرف پرامن سیاسی کارکنان کو جسمانی نقصان ہی نہیں پہنچاتا بلکہ منظم جھوٹے پروپیگنڈے اور گمراہ کن معلومات کے ذریعے ان کی ساکھ اور زندگیاں بھی تباہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا یہ پرانا وتیرہ رہا ہے کہ وہ متاثرین کو مجرم اور مظلوم کو ظالم بنا کر پیش کرتا ہے، لیکن بلوچ قوم اس فریب میں نہیں آئے گی۔ بی این ایم اسے واضح ہراسانی سمجھتی ہے، مگر ہم اس سے ڈر کر خاموش نہیں ہوں گے۔ پاکستان کا ہر سطح پر مقابلہ کیا جائے گا۔


















































