جنگ زدہ بلوچستان میں نئے سال کا آغاز – ٹی بی پی اداریہ

12

جنگ زدہ بلوچستان میں نئے سال کا آغاز

ٹی بی پی اداریہ

بلوچستان میں مہینے اور سال گزرتے جارہے ہیں، تاہم معروضی حالات میں بہتری آنے کے بجائے سنگین مسائل میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے۔ دو ہزار پچیس کے سال جبری گمشدگیوں، ریاستی جبر میں اضافہ ہوا ہے اور سیاسی کارکنوں پر قدغنیں مزید بڑھ چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی برسراقتدار حکومت، بلوچ سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری اور پابند سلاسل رکھنے کے لئے ٹھوس قانونی جواز پیش کرنے میں ناکامی کے باوجود بلوچستان کی عدالتیں سیاسی رہنماؤں کو رہا کرنے سے قاصر ہیں۔

طلباء، سیاسی کارکنوں اور بلوچ جہد سے منسلک افراد کے رشتے داروں کو جبری گمشدہ کرنے کا عمل جاری ہے اور بلوچستان میں اب خواتین کی جبری گمشدگیوں کا رجحان بڑھ چکا ہے۔ دو ہزار پچیس میں دس سے زائد خواتین کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا اور آٹھ خواتین اب تک جبری گمشدہ ہیں۔ بلوچستان میں ریاستی رٹ شہری علاقوں و کنٹونمٹ تک محدود ہوچکی ہے اور حکومت بلوچستان میں اپنے رٹ کو بحال کرنے کے نام پر ریاستی جبر میں شدت لا رہی ہے، جس کا نشانہ بلوچ خواتین بن رہے ہیں۔

دو ہزار پچیس میں جہاں بلوچستان سیاسی مسائل کا شکار رہا ہے، وہیں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شہریوں، پولیس اور فرنٹئر فورس سمیت سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ خودکش حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ میں فوج کے 202 افسران اور اہلکاروں سمیت 443 افراد مارے گئے ہیں۔ جعفر ایکسپریس سروس کے لیے دو ہزار پچیس ایک دشوار کن سال تھا، جس میں بارہا ہونے والے بم دھماکوں، پلوں کو نقصان پہنچانے اور 11 مارچ کو پشاور جانے والی ٹرین کو ہائی جیک کرنا اس سال کا سب سے مہلک واقعہ تھا اور سال کے اختتامی مہینے میں نوکنڈی فرنٹیئر کور کیمپ پر حملے سے بلوچستان میں چین اور بیرک گولڈ کمپنی کے کان کنی کے منصوبوں پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہونگے۔

دو ہزار پچیس کی سال بلوچستان بھر میں آزادی کے لئے برسرپیکار مسلح تنظیموں بلوچ لبریشن آرمی، بلوچستان لبریشن فرنٹ اور بلوچ ریپبلکن گارڈز کے حملوں میں شدت آئی ہے اور بڑے پیمانے کے حملوں میں اضافہ کا رجحان برقرار رہا ہے۔

دو ہزار چھبیس میں بلوچستان کے سنگین مسائل میں کمی آنے کے آثار نہیں ہیں۔ دو ہزار پچیس کے اختتام پر ‏بلوچستان گرینڈ الائنس کے ملازمین قلم چھوڑ ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں، ‏ضلع کیچ میں جبری گمشدہ خواتین کی بازیابی کے لئے ان کے لواحقین سی پیک شاہراہ پر دھرنا دے رہے ہیں اور ریاستی جبر کے خلاف سیاسی جدوجہد بھی جاری ہے ۔ بلوچ مسلح تنظیموں کے حملوں کی شدت سے ریاستی مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے، ان سنگین مسائل سے گرے بلوچستان کے جنگ زدہ حالات سے نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ نئے سال میں بھی بلوچستان کے حالات ابتر ہی رہیں گے۔