جعفر ایکسپریس حملہ، پاکستان کی تاریخ کی ذہن سے کبھی نہیں جائے گی ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر

203

منگل کے روز پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک طویل پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ برس پاکستان میں ہونے والے دہشتگردی کے 10 بڑے واقعات میں افغان شہری شامل تھے۔

صحافیوں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے گذشتہ برس میں فورسز کی کارروائیوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ برس پاکستانی فوج نے دہشتگردی کے خلاف کامیاب آپریشنز کیے۔

انھوں نے بتایا کہ گذشتہ برس ملک بھر میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر 75 ہزار آپریشنز کیے گئے اور دہشتگردی کے 5400 واقعات ہوئے جبکہ 1235 قانون نافذ کرنے والے اہلکار اور عام شہری ہلاک ہوئے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے یہ بھی بتایا کہ گذشتہ برس 2597 دہشتگرد بھی مارے گئے۔ انکا دعویٰ تھاکہ تمام دہشتگرد تنظیمیں افغانستان میں ہیں اور وہاں ان کی پرورش کی جا رہی ہے۔

لیفٹیننٹ شریف چوہدری نے جعفر ایکسپریس، ایف سی ہیڈکوارٹرز بنوں، کیڈٹ کالج وانا سمیت مسلح کارائیوں کا نام لیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ برس پاکستان میں ہونے والے دہشتگردی کے 10 بڑے واقعات ہوئے ۔

انہوں نے کہاکہ خضدار ، نوشکی میں بی ایل اے نے بسوں پر حملہ کیا اور جعفر ایکسپریس پاکستان کی تاریخ کے ذہن سے کبھی نہیں جائے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ الزام لگایا کہ افغانستان پوری دنیا کے دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’وہاں پر پوری دنیا سے دہشت گردوں کے لیے آماجگاہ بن چکی ہے۔ القاعدہ، داعش وہاں ہیں، بی ایل اے بھی وہیں ہے۔ شام سے بھی ڈھائی ہزار غیر ملکی دہشتگرد افغانستان پہنچے ہیں جو وہاں لڑ رہے تھے۔

فوج کے ترجمان کے مطابق، پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں، جن میں فوج، پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور خفیہ ادارے شامل ہیں نے سال 2025 کے دوران مجموعی طور پر 75,175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن میں سے 58,778 آپریشنز بلوچستان میں انجام دیے گئے۔

اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں پاکستان بھر میں ہونے والے 5,397 ان واقعات میں سے 1,557 واقعات بلوچستان میں رپورٹ ہوئے، جو مجموعی تعداد کا 29 فیصد بنتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا کہ سال 2025 کے دوران بلوچستان میں 784 مسلح افراد مارے گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2025 میں مسلح افراد کے خلاف کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 1,235 قانون نافذ کرنے والے اہلکار اور شہری ہلاک ہوئے ، جن میں بلوچستان کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

خودکش حملوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ 2025 میں مجموعی طور پر 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے 10 حملے بلوچستان میں پیش آئیں۔