جبری لاپتہ اسکالر ساجد احمد کی گرفتاری ظاہر، حکام کا دہشت گردی کے الزامات

123

جمعرات کے روز کوئٹہ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سی ٹی ڈی بلوچستان کے ڈی آئی جی اعزاز گورایہ نے جبری لاپتہ ساجد احمد کی گرفتاری ظاہر کر دی۔

ڈی آئی جی اعزاز گورایہ نے دعویٰ کیا کہ ساجد احمد پنجگور سے تربت کی جانب بھاری مقدار میں اسلحہ منتقل کر رہا تھا۔ ان کے مطابق گرفتار ملزم سوشل میڈیا پر کالعدم تنظیموں کا مواد نشر کرنے میں بھی مرکزی کردار ادا کر رہا تھا۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ جہانزیب مہربان نامی ایک شخص کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جو ریکی اور رقم کی فراہمی میں ملوث تھا، جبکہ جہانزیب نے ایک 18 سالہ لڑکے کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا تھا۔

ڈی آئی جی کے مطابق ساجد احمد نے یونیورسٹی آف تربت میں تدریسی فرائض بھی انجام دیے ہیں، جبکہ ساجد کی بھابھی کے بارے میں بھی دعویٰ کیا گیا کہ وہ بی وائی سی کی سرگرمیوں میں ملوث رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مزید کارروائیوں کے دوران بیزل اور خاران کے رہائشی سرفراز کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد کے طالب علم ساجد احمد کو گزشتہ سال دسمبر میں پنجگور سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا تھا۔

اہلِ خانہ کے مطابق ساجد احمد گھر واپس آ رہے تھے کہ انہیں راستے میں ہی جبری طور پر اٹھا لیا گیا۔

ساجد احمد کو بلوچی ادب سے گہری دلچسپی ہے اور وہ اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ایک اسکالر ہیں۔ اہلِ خانہ نے ان کی جبری گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔

تاہم آج کی پریس کانفرنس میں ساجد احمد کی گرفتاری کے مقام کی وضاحت نہیں کی گئی۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدہ افراد پر جھوٹے مقدمات قائم کیے جانے اور ماورائے عدالت قتل کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔