کیچ کے مرکزی شہر تربت سے اغوا برائے تاوان کا شکار بننے والے نوجوان حسیب یاسین کو بدھ کی شب بلیدہ سے بازیاب کر لیا گیا۔ حسیب یاسین کو گزشتہ ماہ آپسر کے علاقے میں اپنی دکان سے گھر جاتے ہوئے نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا تھا، جس کے بعد اغواکاروں کی جانب سے ان کی رہائی کے لیے بھاری تاوان طلب کیا گیا تھا۔
حسیب یاسین کی بازیابی کے لیے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تربت میں شدید عوامی ردِعمل دیکھنے میں آئی۔ مختلف سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور شہری حلقوں کی جانب سے مسلسل اجلاس، احتجاجی ریلیاں، مظاہرے اور شٹر ڈاؤن ہڑتالیں کی گئیں، جن میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔
ذرائع کے مطابق حسیب یاسین کو بدھ کی رات گئے بلیدہ میں رہا کیا گیا، جس کے بعد انہیں بحفاظت آپسر میں واقع ان کے گھر پہنچایا گیا۔
دوسری جانب تربت کے علاقے ملائی بازار سے اغوا کیے گئے معروف ٹھیکیدار گل جان کے بیٹے شاہ نواز تاحال لاپتہ ہیں۔ شاہ نواز کو دسمبر 2025 میں ملائی بازار میں گھر جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا، بعد ازاں ان کی خالی گاڑی دشتی بازار کے قریب سے برآمد ہوئی۔
اطلاعات کے مطابق اغواکاروں نے ان کی رہائی کے لیے بھی بھاری تاوان طلب کیا ہے، تاہم تاحال ان کی بازیابی عمل میں نہیں آ سکی۔
عوامی اور سیاسی حلقوں نے حسیب یاسین کی بازیابی کو خوش آئند اور مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک دیگر لاپتہ شہریوں کو بحفاظت بازیاب نہیں کرایا جاتا، اغوا برائے تاوان کے خلاف احتجاج اور عوامی دباؤ کا سلسلہ جاری رہے گا۔



















































