تربت میں عبدوئی بارڈر کی بندش کے خلاف سرحدی کاروبار سے منسلک متاثرہ شہریوں نے احتجاجی ریلی نکالی۔
ریلی تربت کے غلام نبی چوک سے شروع ہو کر شہید فدا چوک پر اختتام پذیر ہوئی، جس کی قیادت بارڈر تحریک کے رہنما سردار ولی یلان زئی کر رہے تھے۔
ریلی کے شرکاء نے شہید فدا چوک پر احتجاج کرتے ہوئے بارڈر بندش کو معاشی ناکہ بندی قرار دیا اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ بارڈر کی بندش سے مقامی آبادی کا روزگار بری طرح متاثر ہورہا ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سردار ولی یلان زئی اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بار بار یہ یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ بارڈر آج یا کل کھول دیا جائے گا، تاہم یہ محض لولی پوپ کے سوا کچھ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سوراپ مند بارڈر سے گاڑیاں گئی ہیں مگر یہاں تیل کی فراہمی کے لیے کوئی گاڑی واپس نہیں آئی، جبکہ ایرانی گاڑیوں کو یہاں آنے کی اجازت بھی نہیں دی جارہی۔
مقررین نے مطالبہ کیا کہ عبدوئی بارڈر کو سابقہ طرز پر عبدوئی کراسنگ پوائنٹ کے مقام پر بحال کیا جائے اور سرحدی کاروبار سے منسلک افراد کو کاروبار کے مواقع فراہم کیے جائیں، تاکہ مقامی معیشت کو سہارا مل سکے۔


















































