تربت: رات گئے چھاپہ، علی فقیر سنگھور کے گھر میں توڑ پھوڑ، خواتین و بچے ہراساں

6

گزشتہ شب دو بجے کے قریب تربت، گوگدان کے علاقے میں پاکستانی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران علی فقیر سنگھور کے گھر پر چھاپہ مارا جہاں اہلکاروں نے گھر کے مختلف کمروں کے دروازے توڑ دیے، الماریاں توڑ کر ان میں رکھا سامان بکھیر دیا اور خواتین کے موبائل فون چیک کیے۔

مقامی ذرائع کے مطابق چھاپہ رات تقریباً دو بجے مارا گیا جس دوران خواتین اور بچوں کو نیند سے جگا کر گھر کی تلاشی لی گئی۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اس دوران خواتین کے ساتھ ہتک آمیز رویہ رکھا گیا اور بچوں سے ان کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔

علی فقیر سنگھور کے اہلِ خانہ کے مطابق فورسز اہلکار ان کی 125 سی سی موٹر سائیکل بھی اپنے ساتھ لے گئے تاہم اس کارروائی کے دوران کسی فرد کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال ڈنک کے علاقے میں ایک کارروائی کے دوران فورسز نے علی فقیر کے بیٹے کو دو ساتھیوں کے ہمراہ قتل کیا تھا جسے بعد ازاں ایک سرگرم مسلح تنظیم نے اپنا رکن قرار دے کر قبول کرنے کا اعلان کیا تھا۔ علاقہ مکینوں کے مطابق گزشتہ شب چھاپہ کے دوران فورسز کے اہلکاروں نے کمرے میں لگی اس کی تصویر اتار کر توڑ دی اور اس پر آئل مل دیا۔

اہلِ علاقہ اور متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ حالیہ چھاپے کے حوالے سے فورسز نے کوئی وجہ نہیں بتائی جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور آئیندہ ایسے واقعات خصوصاً خواتین کی بے حرمتی بند کی جائے۔

دوسری جانب اس واقعے پر تاحال فورسز کی جانب سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔