تربت: بدامنی اور اغوا برائے تاوان کے خلاف آل پارٹیز کیچ کا احتجاج

80

ضلع کیچ میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور اغوا برائے تاوان کے واقعات کے خلاف آل پارٹیز کیچ، انجمن تاجران، ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے زیرِ اہتمام ایک بڑا مشترکہ احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں سینکڑوں مرد و خواتین نے شرکت کی۔

احتجاجی ریلی آپسر بازار سے شروع ہوکر شہر کے مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی پریس کلب کے ذریعے شہید فدا چوک پہنچی، جہاں ریلی نے احتجاجی جلسے کی شکل اختیار کر لی۔

احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان اور نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ کیچ میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اغوا شدہ نوجوانوں حسیب حاجی یاسین اور شاہ نواز گل جان کو بحفاظت بازیاب کرائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک بار پھر کیچ کو بدامنی کی طرف دھکیلنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں، تاہم کیچ کے عوام ان سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرے۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے مزید کہا کہ گزشتہ ایک ماہ سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مل کر تمام متعلقہ اداروں سے رجوع کیا گیا، مگر ہر ادارہ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال رہا ہے، جبکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ ریاست اور اس کے اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

آل پارٹیز کیچ کے کنوینر نواب خان شمبیزئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حالیہ اغوا برائے تاوان کے واقعات نہایت تشویشناک ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مغوی حسیب یاسین اور شاہ نواز گل جان کو جلد بازیاب نہ کرایا گیا تو 7 جنوری کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی۔

کیچ بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈووکیٹ سید مجید شاہ نے کہا کہ اغوا برائے تاوان کے واقعات قابلِ مذمت ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کیچ بار نے آج بطور احتجاج عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا اور وکلاء متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں۔

سابق نگران وزیر اور شاہ کاروان کے رہنما غفور احمد بزنجو نے کہا کہ حالیہ بدامنی کے واقعات عوام کے لیے شدید عدم تحفظ کا باعث بن رہے ہیں اور ریاست کو شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔

سابق سینیٹر اسماعیل بلیدی نے کہا کہ مکران سمیت ضلع کیچ کے عوام شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروبار بند، روزگار کے ذرائع محدود اور اب عوام کو جینے کے حق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے، لہٰذا تاجروں اور شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور اغوا برائے تاوان کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔

احتجاجی جلسے سے بی این پی عوامی کے مرکزی نائب صدر کامریڈ ظریف زدگ، بی این پی کے رہنما ڈاکٹر غفور بلوچ، جمعیت علمائے اسلام کیچ کے رہنما مولانا عبدالحفیظ مینگل، مرکزی جمعیت اہل حدیث کیچ کے امیر مولانا سعید احمد تگرانی، بی ایس او پجار کے چیئرمین بوہیر صالح ایڈووکیٹ سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

احتجاجی جلسے میں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، سول سوسائٹی کے نمائندوں، پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن، کیچ بار ایسوسی ایشن، بلوچستان بار کونسل اور مکران بار کونسل کے وکلاء، مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اور متاثرہ خاندانوں کے افراد سمیت ہزاروں مرد و خواتین نے شرکت کی۔