تربت: انتظامیہ کی ایک بار پھر لواحقین کو یقین دہانی، جبری لاپتہ خواتین کے اہل خانہ کا دھرنا مؤخر

43

حب چوکی سے جبری گمشدگی کا شکار دو خواتین اور دو مرد تاحال منظرِ عام پر نہیں آسکے، انتظامیہ کی رہائی کی یقین دہانی۔

بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تجابان میں جبری گمشدگی کا شکار افراد کے اہل خانہ گزشتہ پانچ روز سے سی پیک شاہراہ پر دھرنا دے کر اپنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کررہے تھے۔

مذکورہ خاندان گزشتہ ماہ سے احتجاج پر بیٹھے ہوئے ہیں، اس سے قبل انتظامیہ کی یقین دہانی پر لواحقین نے پانچ روز بعد دھرنا ختم کیا تھا، تاہم وعدے پورے نہ ہونے پر اہل خانہ ایک بار پھر ایم۔8 شاہراہ پر دھرنا دے کر اپنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کررہے تھے۔

لواحقین اور ایس ایس پی کیچ زوہیب محسن کے درمیان مذاکرات کے بعد انتظامیہ کی جانب سے یقین دہانی کرائے جانے پر لواحقین نے ایک بار پھر سی پیک شاہراہ پر دیا گیا دھرنا ختم کردیا ہے۔

احتجاج کرنے والے خاندان کے مطابق ان کے چار افراد کو جبری طور پر اٹھا کر لاپتہ کیا گیا ہے، جبری لاپتہ افراد میں 27 سالہ حانی بنت دل جان، 17 سالہ خیرالنساء بنت عبدالواحد، 18 سالہ مجاہد ولد دل جان سمیت ایک اور نوجوان شامل ہے۔

واضح رہے کہ مذکورہ خواتین کو گزشتہ ماہ 20 دسمبر کو حب چوکی کے علاقے دارو ہوٹل سے پاکستانی فورسز اور سی ٹی ڈی نے حراست میں لے کر اپنے ہمراہ لے گئے تھے، جس کے بعد سے وہ تاحال منظرِ عام پر نہیں آ سکے ہیں۔

مذکورہ علاقے سے اب تک چار خواتین کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں 15 سالہ نسرین اور ہاجرہ نامی خاتون اپنے دو سالہ بچہ سمیت شامل ہیں، جنہیں پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔

کیچ میں دھرنے پر بیٹھے لواحقین کا کہنا ہے کہ انہوں نے انتظامیہ کی یقین دہانی پر ایک بار پھر اپنا دھرنا مؤخر کر دیا ہے، تاہم اگر اس بار بھی حکام لاپتہ افراد کو منظرِ عام پر لانے میں ناکام رہے تو وہ شدید احتجاج پر مجبور ہوں گے۔